جوڈیشل کمیشن رپورٹ پر خوشی منانے کی بجائے گورننس زیادہ بہتر کرنا ہو گی ،چودھری نثار

جوڈیشل کمیشن رپورٹ پر خوشی منانے کی بجائے گورننس زیادہ بہتر کرنا ہو گی ...

راولپنڈی(آئی این پی)وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے کہا ہے کہ رینجرز اور پولیس کی سندھ میں قانون دائرے سے باہر رہنے کی بات غلط ہے ‘ رینجرز کو اختیارات آئین و قانون کے مطابق دئیے گئے ہیں ‘ انکوائری کمیشن کی رپورٹ پر حکومت کو خوشی منانے کی بجائے اپنی گورننس کو اور زیادہ بہتر بنانے پر توجہ دینا ہو گی،دھرنے کے چند مہینے پاکستان کی تاریخ کا افسوس ناک دورانیہ تھا‘ اب پی ٹی آئی کو سمجھ آ جانی چاہیے کہ مسائل کا حل سڑکوں اور گلیوں میں نہیں بلکہ پارلیمنٹ اور عدلیہ میں جانے سے حاصل ہوتا ہے ‘ پاکستان کے سیکیورٹی مسائل کو سب اداروں کو مل کر حل کرنا ہو گا۔ وہ میڈیا سے بات چیت کر رہے تھے۔ وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے کہاکہ آئین و قانون کے مطابق رینجرز کو اختیارات دئیے گئے ہیں اور وہ اپنے قانون کے تحت حاصل اختیارات کے مطابق کراچی میں کارروائی کر رہی ہے۔ وزیر داخلہ نے کہاکہ رینجرز اور پولیس کی سندھ میں قانون کے دائرے سے باہر رہنے کی بات سراسر غلط ہے ۔ حکومت سادہ لباس میں کسی کو گرفتار کرنے کی کسی صورت اجازت نہیں دے سکتی۔ چوہدری نثار علی خان نے کہا کہ ہر گرفتار شخص کو عدالت میں پیش کرنے کی ہدایت کی گئی ہے اگر ایسا نہ کیا گیا تو اس کی خلاف ورزی کرنے والا قانونی مجرم ٹھہرایا جائیگا ۔ انکوائری کمیشن کی رپورٹ سے متعلق پوچھے گئے سوال کے جواب میں وزیر داخلہ چوہدری نثار نے کہاکہ یہ بہت اچھا فیصلہ ہے یہ سبق ہے تحریک انصاف کیلئے کہ مسائل کا حل سڑکوں اور گلیوں میں نہیں ہے ۔اس کیلئے ادارے موجود ہیں۔ کسی بھی جمہوری نظام میں سیاسی جماعتوں کیلئے موثر پلیٹ فارم پارلیمنٹ اور عدلیہ اور مذاکرات کی میز ہوتے ہیں۔چوہدری نثار نے کہاکہ اور یہ بھی ثابت ہو گیا کہ عدالتیں شواہد کی روشنی میں فیصلہ کرتی ہیں نہ کہ لمبی لمبی تقریروں اور خواہ مخواہ کی الزام تراشیوں کو مد نظر رکھتی ہیں۔ جوڈیشل کمیشن کی رپورٹ حکومت کیلئے بجائے خوشی منانے کے اس بات کا بھی پیغام دیتی ہے کہ اسے اپنی پالیسیوں کے اوپر نظر ثانی کرنے کی ضرورت ہے اور اپنی گڈ گورننس کو اور زیادہ بہتر بنانے پر توجہ دینا چاہیے۔ عوام کے مسائل کو حل کرنے کیلئے اور زیادہ موثر اقدامات کرنا ہوں گے۔ دھرنے کے پیچھے سابق جرنیلوں کے ہونے سے متعلق سوال کے جو اب میں وزیر داخلہ نے کہاکہ جوڈیشل کمیشن کے فیصلے کے تناظر میں ہمیں زیادہ کھچڑی نہیں پکانا چاہیے ۔ پچھلا ایک سال اور خصوصاً دھرنے کے چند مہینے پاکستان کی تاریخ کے افسوس ناک ترین دن ہیں یہاں مسائل کا پہاڑ اگا ہوا ہے ۔ وزیر داخلہ نے کہاکہ ہمارے سب اداروں کو مل کر اتحاد و اتفاق سے قومی مسائل کو حل کرنا ہو گا۔

مزید : صفحہ اول