کیا افتخار محمد چودھری میدان سیاست میں اپنا رنگ جمانے میں کامیاب ہو سکیں گے؟

کیا افتخار محمد چودھری میدان سیاست میں اپنا رنگ جمانے میں کامیاب ہو سکیں گے؟

تجزیہ:۔ قدرت اللہ چودھری

خیال تھا کہ سابق چیف جسٹس افتخار چودھری کی کتاب پہلے آئے گی اور وہ سیاسی جماعت بعد میں بنائیں گے لیکن ایسے لگتا ہے انہوں نے اپنی ترجیحات بدل دی ہیں ابھی تک یہ تو معلوم نہیں کہ وہ اپنی یادداشتوں پر مشتمل کتاب کب منظر عام پر لائیں گے لیکن یہ معلوم ہو گیا ہے کہ وہ 25دسمبر کو اپنی سیاسی جماعت لانچ کر دیں گے، یہ بھی خیال تھا کہ وہ اپنا تھنک ٹینک پہلے بنائیں اور اس کے فکر و فلسفے کی روشنی میں جماعت بنائیں گے لیکن انہوں نے سیاسی جماعت بنانا اگر پہلے ضروری سمجھا ہے تو بسم اللہ، چشم ما روشن، دل ما شاد،

پاکستان میں سیاسی جماعتوں کی پہلے بھی کوئی کمی نہیں، تو پھر سوال یہ ہے کہ ایک نئی جماعت سیاسی منظر کو کس طرح متاثر کرے گی؟ اور کر بھی سکے گی یا نہیں؟ بہرحال اگر سابق چیف جسٹس نے سیاست کی ناہموار زمین پر قدم رنجہ فرمانے کا فیصلہ کیا ہے تو سوچ سمجھ کر کیا ہو گا، اس لحاظ سے وہ پاکستان کے پہلے ریٹائرڈ چیف جسٹس ہوں گے جو سیاسی میدان میں براہ راست ایک نئی جماعت کے راستے سے قدم رکھیں گے، ان سے پہلے اعلیٰ عدالتوں کے بہت سے سابق جج سیاست میں موجود ہیں۔ الیکشن بھی لڑتے ہیں، منسٹر اور چیف منسٹر بھی رہ چکے ہیں، نگران وزارتیں بھی انہیں ملتی رہی ہیں لیکن سیاست کے میدان میں غالباً اس انداز میں آنے والے افتخار محمد چودھری پہلے ریٹائرڈ چیف جسٹس ہوں گے۔

اس وقت کئی ریٹائرڈ جرنیل بھی سیاست میں عملی طور پر حصہ لے رہے ہیں، پاک فوج کے دوسپہ سالاروں نے بھی اپنی جماعتیں بنا رکھی ہیں، جنرل (ر) اسلم بیگ کی اپنی جماعت ہے جس کا نام عوامی قیادت پارٹی ہے لیکن اس جماعت نے اب تک انتخابی میدان میں کوئی کامیابی حاصل نہیں کی اور سیاست میں کامیابی کے لئے انتخابی سیاست میں کامیاب ہونا ضروری ہوتا ہے،جنرل(ر) پرویز مشرف نے بھی آل پاکستان مسلم لیگ کے نام سے اپنی جماعت بنائی ہوئی ہے۔ جس نے 2013ء کا انتخاب لڑنے کی کوشش کی لیکن خود جنرل صاحب سمیت کسی امیدوار کے کاغذات نامزدگی ہی قبول نہ ہو سکے۔ اب بھی وہ سیاست میں سرگرم و متحرک ہیں، پچھلے دنوں سیاسی جماعتوں کا اتحاد بنانے میں بھی کوشاں تھے اور مسلم لیگوں کو متحد کرنے کی کوششیں بھی ہوتی رہتی ہیں لیکن اس اتحاد کی راہ میں کوئی نہ کوئی رکاوٹ آخری لمحے پر حائل ہو جاتی ہے یہ تو دو جرنیلوں کی سیاسی جماعتوں کا احوال ہے بہت سے دو اور تین سٹار جنرل بھی سیاست و حکومت میں ہیں لیکن ان کی جماعتیں اپنی نہیں ہیں وہ دوسری سیاسی جماعتوں میں شریک ہیں یا پھر ان کے ٹکٹ پر پارلیمنٹ کے رکن ہیں کچھ ایسے بھی ہیں جو اپنی ذات میں انجمن ہیں ان کی کوئی سیاسی جماعت تو نہیں لیکن وہ اکیلے ہی تھنک ٹینک کا کام کرتے ہیں اور تقریباً روزانہ کی بنیاد پر اپنے ملفوظات سے قدم کو نوازتے ہیں۔ موج میں آئیں تو آئین کو ختم کرنے کا مشورہ بھی دے ڈالتے ہیں اور ایسے سابق فوجیوں کی تو کمی نہیں جو چاہتے ہیں کہ حکومت فوج ہی کرتی رہے۔ سابق فوجیوں نے اپنی ایک انجمن بھی بنا رکھی ہے وہ بھی سیاسی بیان کبھی کبھار جاری کرتی رہتی ہے۔ لیکن باقاعدہ سیاسی وابستگی انہوں نے اختیار نہیں کی، البتہ عمومی طور پر ان کے نظریات کا رجحان فوجی فکر کے قریب ہی ہوتا ہے۔

اس پس منظر میں سوال یہ ہے کہ کیا افتخار محمد چودھری کی سیاسی جماعت سیاسی منظر کو تبدیل کرنے میں کوئی کردار ادا کر سکے گی یا محض ایک ایسی سیاسی جماعت بن کر رہ جائیگی جو الیکشن کمیشن کے پاس رجسٹر ہو گی، الیکشن بھی شاید لڑے لیکن اپنا کوئی نقش قائم نہ کر سکے۔افتخار محمد چودھری کا سارا کیرئیر قانون کے پیشے میں ہے وہ قانون دان بنے، قانون کی پریکٹس کی، ایڈووکیٹ جنرل کے عہدے پر رہے، ہائی کورٹ کے جج رہے، بلوچستان ہائی کورٹ کے چیف جسٹس پھر سپریم کورٹ کے جج اور چیف جسٹس بن گئے، بطور جج اور چیف جسٹس ان کی شہرت تو رہی لیکن عوام الناس سے ان کی شخصیت کا تعارف اس وقت ہوا جب جنرل پرویز مشرف نے ان سے استعفا مانگا اور انہوں نے انکار کر دیا۔ دراصل وزیر اعظم شوکت عزیز نے ان کے خلاف مختلف الزامات پر مبنی ایک ریفرنس صدر کو ارسال کیا تھا جسے آگے بھیجنے سے پہلے صدر نے ’’راست اقدام‘‘کے ذریعے ان سے استعفا مانگ لیا، کہانی اس وقت شروع ہوئی جب انہوں نے استعفا دینے سے انکار کیا، غالباً جنرل پرویز مشرف کا خیال تھا کہ یہ کوئی مشکل کام نہیں۔ ’’کاغذات کے دباؤ‘‘ کے تحت آسانی سے استعفا لیا جاسکے گا لیکن یہ خیال درست ثابت نہ ہوا۔جنرل پرویز مشرف اور چیف جسٹس کے درمیان جو قانونی جنگ شروع ہوئی اس میں بالآخر اوّل الذکر کو شکست ہو گئی، صدارت سے پرویز مشرف کے استعفے کے بعد وزیر اعظم گیلانی کو چیف جسٹس کو ان کے عہدے پر بحال کرنا پڑا، استعفے سے انکار اور پھر برطرفی کے بعد چیف جسٹس نے ملک بھر کی بار ایسوسی ایشنوں سے خطاب کا جو سلسلہ شروع کیا اور اس سلسلے میں جو ملک گیر سفر کئے، ان سے انہیں غیر معمولی پذیرائی حاصل ہوئی، کئی کئی گھنٹوں پر محیط ان کے جلوس عوام پر ان کی شخصیت کا نقش گہرا کرتے چلے گئے، ممکن ہے سیاستدان میری اس بات سے اتفاق نہ کریں لیکن امر واقعہ یہ ہے کہ تمام سیاسی جماعتیں اور سیاستدان مل کر بھی جنرل پرویز مشرف کی حکومت پر کوئی منفی اثر نہ ڈال سکے تھے اور مشرف کی حکومت کو پہلا ڈینٹ اگر کسی شخص نے ڈالا تو وہ افتخار چودھری تھے ، افتخار چودھری نے ان کے سامنے ڈٹ جانے کا فیصلہ نہ کیا ہوتا تو شاید پرویز مشرف کا ڈھلوان کا وہ سفر شروع نہ ہوتا جو بالآخر ان کی صدارت کے خاتمے پر منتج ہوا ۔اب اہم سوال یہ ہے کہ عدالتی منصب کے بعد بھی کیا افتخار چودھری اپنا رنگ جمانے میں کامیاب رہیں گے؟ بطور چیف جسٹس انہوں نے جو فیصلے کئے انہوں نے سیاسی منظر کو بھی بدل کر رکھ دیا اور سیاست دانوں کو بھی متاثر کیا لیکن اب جب وہ خود ایک سیاستدان ہوں گے اور ایک سیاسی جماعت کے سربراہ ہوں گے تو کیا وہ اسی طرح متاثر کن ہوں گے جس طرح بطور چیف جسٹس تھے؟ سیاست کا میدان وہ میدان ہے جہاں اپنا رنگ جمانے کے لئے از سر نو جدوجہد کرنی پڑتی ہے کسی بھی میدان کی سابق کمائی چاہے وہ فوج کی ہو، یا عدلیہ کی سیاسی میدان میں کام نہیں آتی۔ اب اگر انہوں نے سیاسی میدان میں قدم رکھا ہے تو وہ ایک نئی شخصیت ہوں گے جن کا سفر بھی نیا ہو گا اور ہمسفر بھی نئے ہوں گے ان کی کامیابی کی دعا ہی کی جا سکتی ہے لیکن اس میدان میں کامیابی و ناکامی کے چانسز کا انحصار آنے والے حالات اور ان کی سیاسی کارکردگی پر ہو گا۔ اب ان کا ہر حکم قابل نفاذ نہیں ہوگا بلکہ اسے پہلے نقد و نظر کی میزان میں تول کر ہی اس کی اثابت کا فیصلہ ہوگا۔

مزید : تجزیہ