عمران خان کا مثبت فیصلہ، پارلیمینٹ سے سب منظور کرائیں!

عمران خان کا مثبت فیصلہ، پارلیمینٹ سے سب منظور کرائیں!

تجزیہ چودھری خادم حسین

انتخابات میں دھاندلی کے الزامات کی تحقیق ور چھان بین کرنے والے عدالت عظمیٰ کے سہ رکنی بینچ کی رپورٹ پر اب بھی بات ہو رہی ہے۔ تحریک انصاف کے عمران خان نے ابتدائی طور پر اسے تسلیم کرنے کا اعلان کر دیا تھا اور اب اپنی جماعت کی مشاورت کے بعد بھی اسی پوزیشن کو برقرار رکھا اور بہت سارے اگر چہ مگرچہ لگا کر سیاسی میدان میں ڈٹے رہنے اور ’’نیا پاکستان‘‘ کے لئے جدوجہد جاری رکھنے کا اعلان کیا البتہ اضافی طور پر یہ کہا کہ اب پارلیمینٹ میں فعال کردار ادا کیا جائے گا۔ پارلیمینٹ کے حوالے سے پہلے بھی عرض کیا اور اب بھی اس فیصلے کی تحسین کرنا چاہئے کہ انتخابات کے بعد حکومت سازی ہو گئی تو یہی پلیٹ فارم ہے جس پر بات کی جا سکتی ہے۔ اور کی جانا چاہئے۔ جمہوریت میں بہر حال مضبوط اپوزیشن برسر اقتدار حضرات کو من مانی سے روکنے میں کردار ادا کر تی ہے، اب بھی قومی اسمبلی اور سینٹ میں متحدہ اور مشترکہ اپوزیشن ہونا اور مختلف مسائل پر اس کے درمیان اتفاق رائے سے کارروائی میں حصہ لینا ضروری ہوگا یوں بھی احتساب بل اور انتخابی اصلاحات والے معاملات زیر غور ہیں، ان پر بھرپور توجہ کی ضرورت ہے، اب ہونا تو یہ چاہئے کہ برسر اقتدار جماعت کے علاوہ پیپلزپارٹی، تحریک انصاف ا ور دوسری جماعتوں نے عوامی بہبود کے جو وعدے کئے ہیں ان کو پورا کیا جائے۔ انہی وعدوں میں صاف، شفاف اور غیرجانبدارانہ انتخابات کے لئے خود مختار، غیرجانبدار اور دیانت دار، با اختیار الیکشن کمشن کی ضرورت ہے۔ اسی طرح سبھی کرپشن ختم کرنے کی بابت کرتے ہیں تو زیر التوا احتساب بل کو ایسا بنایا جائے کہ منصفانہ، غیر جانبدارانہ اور سب کا احتساب ممکن ہو، احتسابی ادارے بھی اب اختیار اور خود مختار ہوں جس کے سربراہ اور اراکین دیانت دار اور صاف ستھرے لوگ ہوں، ان دونوں کے لئے قوانین بہت جلد منظور کرانے کی ضرورت ہے۔ اس کے علاوہ جو 21 رکنی کمیٹی اقتصادی راہداری کے حوالے سے صوبائی تحفظات دور کرانے کے لئے بنائی گئی ہے اسے بھی بہت فعال ہونا چاہئے کہ یہ مسئلہ بھی بہت مفید ہونے کیساتھ ہی حساس اور اہم بھی ہے۔ اسی طرح برسر اقتدار حضرات سے بھی مثبت توقعات رکھنا چاہئیں۔

متحدہ قومی موومنٹ کے سربراہ الطاف حسین نے پھر اکھاڑ پچھاڑ کی اور رابطہ کمیٹی کراچی کے تین اراکین کے سوا باقی سب کو فارغ کر کے 90 پر آنے سے بھی منع کر دیا اور ساتھ ہی یہ بھی خبر ہے کہ ایک دو روز میں برطانیہ والی کمیٹی بھی فارغ کی جائے گی۔ الطاف حسین نے نئے نام مانگے ہیں جس کے بعد 8 نئے اراکین کا اعلان ہوگا۔ ان کی طرف سے یہ سلسلہ وقتاً فوقتاً ہوتا رہتا ہے اکثر یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ پرانے چہروں میں سے کئی واپس بھی آ جاتے ہیں۔

ذرائع کہہ رہے ہیں کہ اس مرتبہ تبدیلی کی وجہ یہ ہے کہ رینجرز کی کارروائیوں کے مقابلے میں رابطہ کمیٹی کی کارکردگی بہتر نہیں تھی۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا الطاف حسین کارکردگی سے مطمئن نہیں؟ وہ مقابلہ چاہئے ہیں؟ ذرائع کے مطابق تو رابطہ کمیٹی احتجاج بھی کر رہی تھی ا ور عدالتوں سے بھی رجوع کیا گیا۔ اب اور کیا چاہئے یہ الطاف حسین ہی جانتے ہیں جو لندن میں بیٹھ کر سخت بات کر لیتے ہیں رینجرز کا موقف تو ہے کہ وہ جرائم پیشہ افراد کو پکڑ رہی ہے اگر یہ درست ہے تو پھر الطاف حسین کو مطمئن ہونا چاہئے کہ ان کی جماعت سے بھی ایسے لوگ صاف ہو جائیں تو ان کو فائدہ ہی ہو گا۔ بہر حال اگلی رابطہ کمیٹی اور اگلے اقدام سے پتہ چلے گا۔

پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری فعال نظر آ رہے ہیں۔ سندھ حکومت کی کارکردگی بہتر بنانے کے ساتھ ملکی امور میں بھی دلچسپی لے رہے ہیں۔ اب آئندہ ہفتے اسلام آباد میں ہوں گے، یہاں لاہور والے بھی منتظر ہیں۔ مخدوم احمد محمود نے جنوبی پنجاب پیپلزپارٹی کے صدر کی حیثیت سے سرگرمیاں بڑھا دی ہیں۔ مرکزی پنجاب کا گزارہ بیانات پر ہے یہ تو بلاول کی لاہور آمد پر اندازہ ہوگا کہ مرکزی پنجاب کی صورت حال کیا ہو گی۔ بہر حال ملک میں سیاسی امن اور اقتصادی استحکام کی ضرورت ہے۔ اگرچہ اسحاق ڈار اقتصادی استحکام کے لئے عوام کی گردن سے خون نکال رہے ہیں۔

مزید : تجزیہ