پلاسٹک کے برتنوں اورتھیلیوں،مائیکروویواون میں گرم کی گئیں چیزیں بال گرنے کا سبب بنتی ہیں: تحقیق

پلاسٹک کے برتنوں اورتھیلیوں،مائیکروویواون میں گرم کی گئیں چیزیں بال گرنے کا ...
پلاسٹک کے برتنوں اورتھیلیوں،مائیکروویواون میں گرم کی گئیں چیزیں بال گرنے کا سبب بنتی ہیں: تحقیق

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

بنگلورو(آن لائن) بال گرنے اورگنجے پن سے لوگ اکثر پریشان رہتے ہیں اور اس سے نجات کے لیے طرح طرح جتن کرتے ہیں لیکن اب گرتے بالوں کی وجہ بھی سامنے آگئی ہے کیونکہ بھارت میں ایک تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہیکہ پلاسٹک کے برتنوں اور تھیلیوں میں کھانے سے جسم میں داخل ہونے والے جراثیم انسان میں گنج پن کا سبب بنتے ہیں۔بھارت کے شہربنگلوروکے ہیئر لائن انٹرنیشنل ریسرچ اینڈ ٹریٹمنت سینٹر میں کی گئی تحقیق میں کہا گیا ہے کہ بال گرنے کی بیماری کا شکار 92 فیصد مریضوں کے خون میں پلاسٹک موجود تھا۔ تحقیق کے دوران ایک ہزار مریضوں کے خون کا نمونہ لیا گیا جن میں 430 خواتین اور 570 مرد شامل تھے ان افراد کے ٹیسٹ سے یہ بات سامنے آئی کہ ان کے خون میں بائی سفینول اے (بی پی اے) موجود تھا جو کہ ایک سنیتھیٹک مرکب ہے جو مختلف قسم کے پلاسٹک کے بنانے میں استعمال ہوتا ہے جب کہ ان مریضوں میں زیادہ تر وہ لوگ شامل تھے جو مختلف دفاتر میں کام کرتے اور دن میں 4 سے 6 مرتبہ کھانے اور پینے میں پلاسٹک کے برتن یا تھیلیاں استعمال کرتے ہیں۔تحقیق کے سربراہ کا کہنا ہے کہ پلاسٹک (بی پی اے) نہ صرف بالوں کو نقصان پہنچاتا ہے بلکہ یہ عنصردل کی بیماریوں کا باعث بھی بنتا ہے جب کہ 70 فیصد میٹابولک کی خرابی کا آغازبالوں کے گرنے سے ہوتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بچوں کے ٹفن سے لے کرپانی کی بوتلوں، چائے کے کپ اورمائیکروویواوون کا کنٹینرسب ہی ہمارے خون میں بی پی اے کا باعث بنتے ہیں اس لیے ضروری ہے کہ پلاسٹک کے برتنوں کی جگہ اسٹیل، شیشے اورسرامکس کے برتنوں کا استعمال کیا جائے۔چیف کلینکل ڈائی ٹیشن اپولو اسپتال کے مطابق مائیکرو ویو میں گرم کی ہوئی غذائیں انسانی خون میں پلاسٹک کی موجودگی کا باعث بنتی ہیں کیونکہ جب آپ اپنے پلاسٹک کے کھانے کے ٹفن کے مائیکروویومیں رکھ کر گرم کرتے ہیں تو بی پی اے ہماری غذا میں شامل ہوکر خون میں داخل ہوجاتا ہے اسی طرح پانی کی بوتلیں جب دھوپ میں رکھی جاتی ہیں تو سورج کی روشنی سے وہ بھی غیر محسوس طریقے سے پگھل کر پانی میں شامل ہوجاتا ہے۔ ڈاکٹرز کا کہنا ہے کہ کھانوں کو محفوظ رکھنے کے لیے اسٹین لیس اسٹیل کے برتن محفوظ ترین راستہ ہے.

مزید :

ڈیلی بائیٹس -