وہ 10 سالہ بچہ جسے کتیوں کی بڑی تعداد خود چل کر اپنا دودھ پلانے آتی ہے کیونکہ۔۔۔ ایسی وجہ کہ جان کر یقین کرنا مشکل

وہ 10 سالہ بچہ جسے کتیوں کی بڑی تعداد خود چل کر اپنا دودھ پلانے آتی ہے ...
وہ 10 سالہ بچہ جسے کتیوں کی بڑی تعداد خود چل کر اپنا دودھ پلانے آتی ہے کیونکہ۔۔۔ ایسی وجہ کہ جان کر یقین کرنا مشکل

  

نئی دلی(نیوز ڈیسک) مشہور مصنف ریڈ یارڈ کپلنگ کی مقبول عام کہانی جنگل بک کا مرکزی کردار موگلی ایک مادہ بھیڑیا کا دودھ پی کر پرورش پاتا ہے۔ یقینا آپ بھی یہی کہیں گے کہ ایسا کسی کہانی میں ہی ممکن ہے، مگر زرا غور سے سنئے، ایک ایسا ہی بچہ ہماری حقیقی دنیا میں بھی موجود ہے۔ یہ ایک حیرت انگیز سچ ہے کہ بھارت میں حقیقتاً ایک ایسا بچہ سامنے آگیا ہے جوافسانوی دنیا کے موگلی کی حقیقی تصویر ہے۔

اخبار ٹائمز آف انڈیا کی رپورٹ کے مطابق یہ 10 سالہ بچہ گزشتہ چھ سال سے کتیا کے دودھ پر پل رہا ہے، اور اب کتیا کے دودھ کیلئے اس کی پسندیدگی ایک لت کی شکل اختیار کر گئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق بچے کا نام موہت کمار ہے اور اسے دھانبد اور منیتند کے علاقوں میں اکثر آوارہ کتیاﺅں کا دودھ پیتے دیکھا گیا ہے۔

موہت کمار کے والد صوبیدار سنگھ اور والدہ پنکی کماری کا کہنا ہے کہ انہیں اپنے بچے کی افسوسناک عادت کے بارے میں پہلی دفعہ اس وقت پتہ چلا جب ہمسایوں نے بتایا کہ وہ ایک آوارہ کتیا کا دودھ پی رہا تھا۔ وہ کہتے ہیں کہ پہلے توا نہیں اس بات پر یقین ہی نہ آیا لیکن جب انہوں نے اپنی آنکھوں سے یہ منظردیکھا تو ان کے دکھ کی انتہا نہ رہی۔ موہت کے والدین کا کہنا ہے کہ ان کے بچے نے پہلی دفعہ چار سال کی عمر میں ایک آوارہ کتیا کا دودھ پیا اور پھر یہ سلسلہ تمام تر کوششوں کے باوجود روکا نہیں جاسکا۔

حاملہ خاتون کے ہاں مردہ بچے کی پیدائش ، اس کے بعد 15 دن تک بچے کی لاش کے ساتھ کیا کرتی رہی؟ جان کر آپ اپنے آنسوﺅں پر قابو نہ رکھ پائیں گے

لڑکا والدین کی تمام پابندیوں کے باوجود چکمہ دے کر گھر سے فرار ہو جاتا ہے اور کہیں نہ کہیں کوئی آوارہ کتیا تلاش کر کے اس کا دودھ پی لیتا ہے۔ اس کے والدین کا کہنا ہے کہ اب تو حالات یہ ہو چکے ہیں کہ علاقے کی تمام کتیائیں اس سے مانوس ہو چکی ہیں اور خود ہی اسے دودھ پلانے چلی آتی ہیں۔

اسے اپنے علاقے میں تو یہ بد عادت پوری کرنے میںکبھی کوئی خطرہ در پیش نہیں رہا لیکن دو ہفتے قبل جب اس نے ایک اور علاقے میں جا کر ایک کتیا کا دودھ پینے کی کوشش کی تو کتیا نے اسے کاٹ لیا۔ اس واقعہ کے بعد والدین اسے پتلی پترا میڈیکل کالج ہسپتال لے گئے جہاں ڈاکٹروں نے اسے باﺅلے پن سے بچانے کیلئے انجیکشن لگائے، تاہم ڈاکٹروں کی بھی معلوم نہیں کہ کتیا کا دودھ پینے کی اس کی عادت چھڑوانے کیلئے کونسی دوا استعمال کی جائے۔ ڈاکٹر ڈی کے سنگھ کا کہنا تھا کہ کتیا کا دودھ انسانی جان کیلئے خطرہ نہیں البتٰہ بچے کی اس عادت کی وجہ سے اس کے جسم میں باﺅلے پن کے جراثیم منتقل ہو سکتے ہیں، جس کا نتیجہ اس کی موت کی صورت میں بھی برآمد ہوسکتا ہے ۔

مزید :

ڈیلی بائیٹس -