مبارک بیگم کی یاد میں

مبارک بیگم کی یاد میں
 مبارک بیگم کی یاد میں

  

ماضی کی نامور لیکن حال کی فراموش گلوگارہ مبارک بیگم طویل عرصہ علیل رہنے کے بعد اسی برس کی عمرمیں اٹھارہ جولائی کی شب ممبئی کے مضافات میں واقع جوگیشوری کے علاقے بہرام باغ میں انتقال کرگئیں۔ وہ نورجہاں، ثریا، شمشاد بیگم، راجکماری، زہرہ بائی، گیتا دت قبیل کی آخری سنہری آواز تھیں۔ کبھی ان کا طوطی بولتا تھالیکن اب وہ گمنام تھیںیہی وجہ تھی کہ ایک آدھ اخبار میں ان کے انتقال کی مختصرسی خبر شائع ہوئی۔ مبارک بیگم 1936میں راجستھان گجرات کے ایک گاؤں بھٹن چھورو میں اپنے ننھیال میں پیدا ہوئیں۔ والد کے معاشی حالات اچھے نہ تھے ، وہ کچھ عرصہ بعد اپنے بیوی اور اپنے پانچ بچوں کے سا تھ احمد آبادچلے آئے جہاں مبارک بیگم کے دادا کی چائے کی ایک چھوٹی سی دکان تھی۔ مبارک بیگم کے والد بھی وہیں ایک پھلوں کا ٹھیلہ لگانے لگے۔ مبارک بیگم نے وہیں پر ہوش سنبھالا لیکن چھ سال کی عمر میں انکے والد نے احمد آباد بھی چھوڑ دیا اور ممبئی چلے آئے۔ نورجہاں اور ثریا کا زمانہ تھا، مبارک بیگم ان کے گیت بڑے شوق سے سنتی اور گنگناتی رہتی تھیں۔ انکے والد نے جو کہ خود بھی طبلہ بڑا اچھا بجاتے تھے، اپنی بیٹی کے شوق کو دیکھتے ہوئے مبارک بیگم کو کیرانہ گھرانے کے معروف استاد ریاض الدین اور استاد صمد خان کی شاگردی میں دے دیا جنہوں نے ان کو اچھی گلوگارہ بنا دیااور جلد ہی مبارک بیگم آل انڈیا ریڈیو پر گیت گانے لگیں۔ ریڈیو پر انکے کافی گیت نشر ہوئے جن میں سے ا ن کی گائی ہوئی مخدوم محی الدین کی غزل ’’ آپ کی یاد آتی رہی رات بھر ۔ چشم نم مسکراتی رہی رات بھر ‘‘ اور نعت ’’ کرم کیجئے تاجدار مدینہ ‘‘ بہت مشہور ہوئیں۔ اس زمانے کے مشہور موسیقار رفیق غزنوی جو کہ سلمیٰ آغا کے نانا تھے، ریڈیو سن رہے تھے کہ مبارک بیگم کا کوئی گیت نشر ہوا، وہ اس آواز سے بڑے متاثر ہوئے اور ان کا پتہ معلوم کرکے ان سے ملے اور ایک فلم کے گانے کے لئے ان کو بلایا۔موسیقار وہ خود تھے اور گیت کارتھے مشہور آغا جانی کاشمیری۔ ریڈیو اور فلم سٹوڈیو کے ماحول کا بڑا فرق تھا۔ مبارک بیگم گیت کی ریکارڈنگ کے لئے جب سٹوڈیو پہنچیں تو سازندوں اوردیگرمہمان افراد کا ہجوم دیکھ کر شدید نروس ہوگئیں اور گیت گانے میں ناکام ہو گئیں اوریوں یہ گیت ان سے چھن کر کسی دوسری گلوگارہ کو مل گیا۔کچھ عرصہ بعد انہیں ایک اور فلم ’’بھائی بہن‘‘ میں گانے کا موقع ملا لیکن یہاں بھی مبارک بیگم شدید گھبراہٹ کا شکار ہوگئیں اور گا نہ سکیں۔

ان دو مواقع پر گا نہ سکنے کا مبارک بیگم کو شدید غم ہوااور پھر ایک سال تک ان کو کوئی موقع نہ ملا۔ان کے والد کے ایک دوست ان کو جدن بائی کے پاس لے گئے جو فلم انڈسٹری میں بڑے رسوخ کی مالک تھیں۔ اداکارہ نرگس، اداکار اختر حسین اور انور حسین کی والدہ تھیں۔ جدن بائی نے آواز سنی تو ان کی تعریف اورحوصلہ افزائی کی اور ان کی کوشش سے اداکار یعقوب نے فلم’’آئینے‘‘ میں ان کو ایک گیت ’’موہے آنے لگی انگڑائی ، آجا آجا بالم ‘‘ گانے کا موقع ملا۔ اس موقع پر مبارک بیگم نروس نہ ہوئیں اور کامیابی سے اس گیت کو ریکارڈ کرا دیا۔ یہ فلم 1949میں ریلیز ہوئی اور اس گیت کو پسند کیا گیا۔ اس گیت کے موسیقار شوکت حیدر دہلوی تھے جو کہ آگے چل کر ’’ناشاد‘‘ کے نام سے مشہور ہوئے۔ نوشاد اور ناشاد الگ الگ موسیقارتھے ۔ ناشاد کے کریڈٹ پر انڈیا میں بارہ دری اور زندگی یا طوفان جیسی فلمیں ہیں جن کے سبھی گانے ہٹ ہوئے تھے ۔ ناشاد بعد ازاں پاکستان چلے آئے اور یہاں بھی بے شمار کامیاب فلموں میں موسیقی دی۔ فلم سالگرہ کا گانا ’’ لے آئی پھر کہاں پر، قسمت ہمیں کہاں پہ‘‘ ناشاد ہی کا کمپوز کیا ہوا ہے۔ فلم آئینے کے بعد فلمی دنیا میں مبارک بیگم کو گانے کے مواقع ملنے لگے اور ان کی گلوگاری کا کیرئر اتار چڑھاؤ کے ساتھ 1985 تک محیط رہا۔ان کی آخری فلم ’’رامو تو دیوانہ ہے‘‘ تھی۔ مبارک بیگم نے 115 فلموں کے لئے کل 178گیت گائے ۔ ان کے کریڈٹ پر بے شمار اچھے گیت ہیں ۔

بمل رائے کی فلم دیوداس میں، ایس ڈی بر من کی موسیقی میں ان کا گیت ’’وہ نہ آئیں گے پلٹ کر انہیں لاکھ ہم بلائیں۔میری حسرتوں سے کہہ دوکہ وہ یہ خواب بھول جائیں‘‘ اپنے زمانے کا ہٹ گیت تھا۔ بمل رائے ہی کی فلم مدھومتی میں سلیل چودھری کی موسیقی میں ان کا یہ گیت ہٹ ہوا،’’ ہم حال دل سنائیں گے ،سنئے کہ نہ سنئے‘‘ ۔نوشادعلی کی موسیقی میں فلم شباب کاکورس گیت جس میں ان کے ساتھ محمد رفیع بھی تھے’’ محلوں میں رہنے والے ہمیں تیرے در سے کیا‘‘ شنکر جے کشن کی موسیقی میں فلم ہمراہی کا محمد رفیع کے ساتھ دوگانہ’’ مجھ کو اپنے گلے لگا لو اے میرے ہمراہی‘‘ یہ سبھی گیت آج بھی مقبولیت کا درجہ رکھتے ہیں ۔قارئین کے لئے شاید یہ نئی بات ہو کہ ہدایت کار ہمایوں مرزا کی پاکستانی فلم ’’راز‘‘ کے دو گیتوں میں بھی مبارک بیگم کی آواز شامل تھی ۔ اس فلم کے موسیقار فیروز نظامی اور شاعر کلیم عثمانی تھے۔ ایک گانے کے بول تھے’’یہ برا ہے زمانہ رے‘‘ اور دوسرے کے بول تھے’’ اے زندگی رلائے جا، قصہ غم سنائے جا‘‘ یہ کامیاب فلم1959میں ریلیز ہوئی تھی ۔شبانہ اعظمی فیم جاوید اختر کے والد جانثار اختر ادبی اور فلمی دنیا کے بڑے شعراء میں شمار ہوتے ہیں ان کا لکھا ہوا فلم سشیلا کا گیت بھی مبارک بیگم کے مقبول گیتوں میں سے ایک ہے جس کے بول تھے’’بے مروت بے وفا بیگانہ دل آپ ہیں، آپ مانیں یا نہ مانیں میرے قاتل آپ ہیں‘‘ایک روز کسی گیت کی ریکارڈنگ روم میں ریہرسل ہو رہی تھی جہاں مشہور فلم ساز اور نغمہ نگار کیدار شرما بھی موجود تھے۔انہوں نے خوش ہو کر مبارک بیگم کو چار آنے انعام دیا۔مبارک بیگم اسے مذاق سمجھیں اور تعجب کا رویہ اپنایا تو پاس کھڑے موسیقار سنیل بھاٹکر کہنے لگے کہ شرما جی کا دیا ہوا پیسہ خوش بختی کی علامت ہوتا ہے اس لئے آپ یہ چار آنے لے لیں۔مبارک بیگم نے یہ سن کر وہ چار آنے خوشی سے قبول کر لئے۔کیدار شرما ان دنوں فلم ’’ہماری یاد آئے گی‘‘ بنا رہے تھے جس میں اداکارہ تنوجہ کے مقابل ان کا بیٹااشوک شرما ہیرو کا رول کررہا تھا ۔ اس فلم کے ٹائٹل سانگ کے لئے انہوں نے اگلے ہفتے مبارک بیگم کو سائن کرلیا۔ کیدار شرما نے خود گانے کے بول لکھے اور موسیقار سنیل بھاٹکر نے اس کی دھن بنائی ۔اس گیت کے بول تھے’’کبھی تنہائیوں میں یوں ہماری یاد آئے گی، اندھیرے چھا رہے ہوں گے کہ بجلی کوند جائے گی‘‘ جب یہ گانا ریکارڈ ہوا تو بے ساختہ کیدار شرما کے مُنہ سے نکلا کہ ’’یہ تو بہت آگے کی چیز بن گئی ہے‘‘ اس کو بیک گراؤنڈ ٹائٹل پر ضائع نہیں کیا جائے گا بلکہ باقاعدہ فلمایا جائے گا۔1961 میں بنی فلم’’ہماری یاد آئے گی‘‘ زیادہ کامیاب تو نہیں ہوئی لیکن مبارک بیگم کایہ گیت میگھا ہٹ ہوا اور اس نے دھوم مچا دی۔یہ سدا بہار گیت پچپن سال بعد بھی مقبول ترین ہے۔ مبارک بیگم کی ایک چھوٹی بہن ممتاز بیگم نے ’’وجے بالا‘‘ کے فلمی نام سے کئی فلموں میں بطور اداکارہ کئی سائیڈ رول کئے۔جن میں گرہستی ، پیسہ، چنگیز خا ن قابل ذکر ہیں۔

مبارک بیگم کی مقبولیت سے خائف ہوکر اور کچھ ان کے مسلمان ہونے کے ناطے فلمی دنیا میں انکے خلاف سازشوں کے جال بننے شروع ہوگئے۔ مبارک بیگم ایک سادہ خاتون تھیں، کاروباری امور سے نابلد، فلمی سیاست اور چالاکیوں سے دور، وہ ان لوگوں کا مقابلہ نہ کرسکیں ۔ سازشی کرداروں میں بڑا نام لتا منگیشکر کا تھا۔ لتا بے شک ایک عظیم گلوگارہ ہیں لیکن ظرف ان کا چھوٹا ہے ۔فلم کاجل کا گیت ’’اگرمجھے نہ ملے تم‘‘ مبارک بیگم کی آواز میں ریکارڈ ہوا تھا لیکن فلم ریلیز ہوئی تو مبارک بیگم کو پتہ چلا کہ ان کی آواز کو کٹ کرکے وہ گیت اب آشا کی آواز میں ہے۔ اسی طرح فلم جب جب پھول کھلے کا مشہور گیت ’’پردیسیوں سے نہ اکھیاں ملانا‘‘ مبارک بیگم کی آواز میں ریکارڈ ہوا تھاجس کے موسیقار کلیان جی، آنند جی تھے۔ مبارک بیگم کو پتہ چلا کہ لتا نے انہیں کٹ کرا کر وہ گیت اپنی آواز میں ریکارڈ کرالیا ہے۔ موسیقار مجبور تھے باکس آفس پر لتا کا نام بکتا تھا۔ مبارک بیگم شکایت لے کر کلیان جی کے پاس گئیں تو وہ بولے کہ دراصل فلمساز نے سولو گیت کی بجائے لتا اور رفیع کادوگانہ ریکارڈ کرنے کا کہہ دیا تھا اب سو لو گیت فلم میں شامل کرنے کی گنجائش نہیں ہے۔ فلم ریلیز ہوئی تو پتہ چلا کہ بجائے دوگانے کے یہ گانا سولو گیت کی شکل ہی میں ہے۔ محمد رفیع کا الگ اور لتا کا الگ۔ چونکہ یہ سپر ہٹ گانا تھا، مبارک بیگم کو اس کا بہت دکھ ہواور وہ نہ چاہتے ہوئے بھی ایک بار پھر کلیان جی کے پاس شکایت لے کر گئیں تو کلیان جی کہنے لگے کہ میں مجبور تھا، مجھے آپ معاف کردیں کیونکہ مجھے آپ کی بددعا سے ڈرلگتا ہے۔لتا کے حسد کا شکار صرف مبارک بیگم ہی نہ بنیں بلکہ سدھا ملہوترا، سلکشنا پنڈت، رونا لیلیٰ اور سمن کلیان پور بھی ان کے متاثرین میں شامل ہیں ۔ ایک بار ریڈیو پر مبارک بیگم کا لائیو انٹر ویو چل رہا تھا ۔اسی دوران ایک مشہور گلوگارہ (مبارک بیگم نے یہاں نام نہیں لیا، لتا ہی ہوں گی )کا فون آیا جو مبارک بیگم سے کہنے لگیں،’’ہمیں پہچانا، ہم تمہیں پیار نہ کرتے تو کبھی کا انڈسٹری سے آؤٹ کروا دیتے‘‘ مبارک بیگم کبھی سمجھ نہ پائیں کہ وہ ان کا پیار تھا کہ دھمکی۔ بہرحال ستر کی دہائی ختم ہونے سے پہلے ہی مبارک بیگم انڈسٹری سے آؤٹ کرا دی گئیں اور اس کے ساتھ ہی تکالیف ، مفلسی اور مصائب کا ختم نہ ہونے والا سلسلہ شروع ہوگیا۔

مبارک بیگم کی شادی اپنی برادری ہی میں ہوئی تھی ۔شوہر کے انتقال کے بعد ان کا گزارہ شوہر کی معمولی پنشن سے ہوتا تھا یا پھر کبھی کبھار آل انڈیا ریڈیو پر کوئی پروگرام مل جاتا تھا جس کا معمولی سا معاوضہ بھی ان کو بہت لگتا۔۔ان کا اکلوتا بیٹاحسین آٹو رکشا چلاتا ہے جس کی معمولی سی ہوائی آمدن ہے۔مبارک بیگم اپنی بیٹی شفق بانو، سوتیلی بیٹی زرینہ اور بیٹے حسین کی چھوٹی سی فیملی کے ساتھ لمینگٹن روڈ ممبئی کے ایک چھوٹے سے کرائے کے کمرے میں رہتی رہیں۔سنیل دت ممبئی کے شیرف بنے تو انہوں نے جاوید اختر کے ساتھ مل کر کوشش کر کے جوگیشوری بہرام باغ میں ایک کمرے کا چھوٹاسا فلیٹ مبارک بیگم کو الاٹ کرادیا مگر اس کا قبضہ لینے کے لئے بھی کچھ رقم کی ضرورت تھی جو انکے کچھ ہمدردوں نے چندہ اکٹھا کرکے مہیا کی جہاں مبارک بیگم نے اپنی باقی زندگی بسر کی ۔ مبارک بیگم کی بیٹی شفق بانو معذور تھی۔ وہ رعشہ کی بیماری پارکنسن کا شکار تھی، اکتوبر 2015میں اس کا انتقال ہوگیا۔ مبارک بیگم کی اپنی صحت کافی عرصہ سے مسائل کا شکار تھی، بیٹی کے دکھ نے انہیں بالکل ہی توڑ کر رکھ دیا اور انہیں اسپتال لے جانا پڑا۔ پچھلے ماہ جون 2016 میں مبارک بیگم کو پھر اسپتال لے جانا پڑا۔ مبارک بیگم کی سوتیلی بیٹی زرینہ نے ایک پریس رپورٹر کو بتایا کہ ہمارے پاس اسپتال کے اخراجات اور دواؤں کے لئے رقم موجود نہیں تھی اس موقع پر اداکار سلمان خان آگے آئے اور انہوں نے اس بزرگ خاتون کے واجبات ادا کئے۔ بہرحال 18 جولائی کو مبارک بیگم کوتمام تکالیف اور مصائب سے چھٹکارا مل گیا۔ انکے اہل خانہ کے مطابق کسی سرکاری، نجی ادارے یا فلمی دنیا نے آخر تک ان کی کوئی مدد نہیں کی ۔ پیارے نبیﷺ کا فرمان ہے کہ بیماری گناہوں کے جڑنے کا سبب بنتی ہے، مبارک بیگم تو طویل عرصے سے بیمار تھیں،اگلا جہاں انکے لئے مہربان ہی ثابت ہوا ہوگا،پھر بھی ہم ان کی مغفرت کے لئے دعا کرتے ہیں۔

مزید :

کالم -