کپتان کی روایتی سیاست !

کپتان کی روایتی سیاست !
 کپتان کی روایتی سیاست !

  



آزاد کشمیر کی انتخابی مہم میں عمران خان نوازشریف پر پوری طرح گرج اور برس رہے تھے ‘ وہ نواز شریف کی کرپشن ایکسپوز کرکے ووٹر کومتوجہ کرنا چاہتے تھے لیکن ووٹر ز ان کی طرف مائل نہیں ہوئے۔ اگرچہ انتخابی نتائج نے بتایاکہ انہیں اپنی سیاسی حکمت عملی پرسنجیدگی سے سوچنا چاہئے مگر آزاد کشمیر کا الیکشن ہارنے کے باوجودانہوں نے اگست میں حکومت کے خلاف نئی احتجاجی تحریک شروع کرنے کا اعلان کردیا ہے۔

2013ء کے انتخابات کے بعد بھی انہیں غور کرنے کا موقعہ ملا تھا مگر انہوں نے وہ وقت روایتی احتجاجی سیاست کی نذر کردیا۔وہ ڈیڑھ دو سال انتخابی دھاندلی کی دہائی دیتے رہے، 126دن کا دھرنا دیا اور اسلام آباد کے ریڈ زون میں ’امپائر‘ کو بلاتے رہے ۔ ان کے منصوبے کا بھانڈہ ایک بہادر آدمی جاوید ہاشمی نے ڈی چوک کے بیچ پھوڑ دیا ۔اس کے باوجود کپتان وہیں جمے رہے اوروزیراعظم کے استعفے کا مطالبہ کرتے رہے‘ یہاں تک کہ آرمی پبلک سکول کا سانحہ ہوا اور وہ دھرنا سمیٹ کر چلے گئے ۔ اتنے طویل احتجاج کا کیا نتیجہ نکلا ؟حکومت کی رخصتی تو ایک طرف‘ کیا الیکشن کمیشن میں اصلاحات ہوئیں ؟ کیا وہ آئندہ الیکشن شفاف کرانے کے لئے مضبوط ادارہ بن گیا ؟

کپتان گزشتہ تین سال سے احتجاجی مَوڈ میں ہیں۔کیا ان کی سیاست سابقہ اپوزیشن لیڈروں کی سیاست سے مختلف ہے ؟77ء میں جنرل ضیاء الحق نے بھٹو کا تختہ الٹا تو اس وقت کی اپوزیشن قومی اتحاد کے رہنماؤں نے مٹھائیاں بانٹیں‘99ء میں جنرل پرویز مشرف نے آئینی حکومت گرائی تو اس وقت کی اپوزیشن پیپلز پارٹی نے خیر مقدم کیا اور آج خان صاحب مٹھائیاں بانٹنے کی نوید سنا رہے ہیں : فرق کیا ہے ؟

البتہ انہوں نے پارٹی کے اندر جینوئن انتخابات کا عمل شروع کرکے ایک غیر روایتی کام کیا ۔گزشتہ عام انتخابات سے چند ماہ پہلے بھی انٹرا پارٹی الیکشن کروائے لیکن بد انتظامی کا شکار ہوگئے تاہم اس دفعہ الیکشن پراسس کو شفاف بنانے کے لئے انفارمیشن ٹیکنالوجی کا استعمال کیا گیا۔یہ الیکشن 25اپریل کوپارٹی کے یوم تاسیس کے موقعہ پر ہونا تھے۔لیکن پارٹی کے بڑے رہنماؤں کے دبے دبے باہمی اختلافات شدید ہوتے گئے‘یہاں تک کہ میڈیا پر اچھلنے لگے۔اس دوران میں پناماپیپرز سامنے آئے تو کپتان نے پارٹی کے الیکشن ملتوی کردئیے اور وزیراعظم کی رائے ونڈرہائش پر چڑھائی کا اعلان کیا۔انہوں نے اپنی پارٹی کی تعمیرکا عمل روک کر دوسروں کی تخریب کو بہتر سمجھا۔ ہمارا روایتی سیاست دان خود کو اجالنے سے زیادہ مخالف پرکیچڑ اچھالنے میں دلچسپی لیتا ہے۔

بیانات ‘مطالبات ‘جلسے جلوس ‘احتجاج ‘دھرنے ‘جلاؤ گھیراؤ روایتی سیاست دان کے پسندیدہ مشغلے ہیں ۔وہ اسے حکومت پر دباؤ ڈالنے ‘میڈیا میں زیر بحث رہنے اوراپنے کارکنوں کو متحرک رکھنے کا ذریعہ سمجھتا ہے۔ روایتی سیاست دان کے پاس کوئی بڑا تعمیری ویژن نہیں ہوتا ‘ تاریخی شعور اور مستقبل کا منصوبہ بھی نہیں ہوتا اس لئے زبانی آتش باری اور سیاسی آتش بازی کے کرتب دکھاکر تماشائی کھینچتا اور گھیرتا ہے۔ ٹی وی چینلز کے ٹاک شوزنے باتوں کی پھلجھڑیاں چلانے اور لبھانے کا ایک اورذریعہ فراہم کردیا ہے‘کھوکھلی باتیں ‘سطحی دلیلیں‘ پھسپھسے سوال‘ بودے جواب ‘سوال دہراؤ‘ جواب گھماؤ۔۔شوختم‘ سیاسی اداکار اگلے شو کے لئے روانہ ! کیا سیاست دان یہی نہیں کررہے؟

کیا تحریک انصاف میں روایتی سیاست دانوں کی بھرمار کی وجہ سے کپتان بھی روایتی سیاست کے راستے پر چل نکلے ہیں ؟سڑکوں پر احتجاج کا وہی گھِسا پٹا انداز ‘ کارکنوں کو بسوں میں بھر بھر کرلاؤ‘ جذباتی تقریروں اور آتشیں نعروں سے ماحول گرماؤ ‘مخالف سیاستدانوں کا تمسخر اڑاؤ‘حکومت نہ چلنے دینے اور ملک بند کرنے کی دھمکیاں دواور پھر سمجھو کہ تبدیلی آنہیں رہی ‘تبدیلی آچکی ہے۔پارٹی اور کارکنوں کو مسلسل احتجاجی تناؤ کی کیفیت میں رکھنے کے بعد کیاکسی مثبت تبدیلی کی توقع کی جاسکتی ہے ؟

2013ء کے عام انتخابات کے بعدانہی صفحات پرراقم نے عرض کیا :

’’نتائج آنے کے بعد آپ کے پاس دوراستے ہیں ‘اپنی غلطیوں کا اعتراف کرکے خود کو بہتر بنائیں ‘نئی راہیں تراشیں اور زیادہ نکھر کر آئیں ۔دوسرا راستہ بڑا آسان ہے ‘اپنی ناکامی دوسروں پر ڈالیں‘واویلا کریں‘ خودکو مزید الجھائیں اور بکھر جائیں۔تحریک انصاف پہلی بار منتخب ایوانوں میں اتنی بڑی تعداد میں آئی ہے ‘پہلی بار وہ سسٹم کا حصہ بننے جارہی ہے ‘ پہلی بار ایک صوبائی حکومت کی باگ ڈور سنبھالنے جارہی ہے۔اس کے پاس ایک نئی سیاست کرنے ‘اسے نئے معنوں سے آشنا کرنے اورنظام بدلنے کا بھرپور موقعہ ہے ‘‘۔

یہ لکھتے ہوئے مگر افسوس ہورہا ہے کہ کپتان نے تین سال ضائع کردیئے ہیں‘اب ان کے پاس بہت محدود وقت رہ گیا ہے‘اگر وہ نواز شریف کو غیر شریف ثابت کرنے ہی میں لگے رہے تو انہیں اگلے انتخابات کے نتائج بھی مایوس کن ملیں گے‘ ان کے کارکن یہ مایوسی برداشت نہیں کر سکیں گے۔

کیا ہی اچھا ہو اگر کپتان اپنی پالیسی اور سٹریٹیجی پر ازسر نوکچھ غورکریں۔ احتجاج کی روایتی سیاست میں وقت ضائع کرنے کی بجائے قوم کی مثبت اور تعمیری رہنمائی کریں۔ ملک کو درپیش بڑے مسائل پرگرینڈ ڈیبیٹ کا آغاز کریں۔ پالیسی سازوں، بڑے ریٹائرڈ افسروں اور دانشوروں سے خارجہ، داخلی سلامتی، تعلیم، صحت اوراکنامک ایشوز کوسمجھیں، پارٹی رہنماؤں سے طویل مشاورت کرکے پالیسیاں بنائیں اوران کی سلیس اور تفہیم پارٹی کی جڑوں تک پہنچائیں ۔ بڑے بڑے احتجاجی جلسے کرنے کی بجائے قومی ایشوز پر سیمینارز کروائیں‘ اپنے پارٹی کارکنوں کی فکری تربیت کریں ‘ان موضوعات کو ٹی وی ٹاک شو کا حصہ بنائیں۔ دوسرا اہم کام :خیبر پختونخواہ میں نئے پاکستان کا ماڈل پیش کریں‘ جس کادوسرے صوبوں سے واضح فرق نظر آنا چاہئے۔ صوبائی حکومت کی مائیکرو مینجمنٹ میں مداخلت نہ کریں لیکن ان کی رہنمائی اور نگرانی ضرور ہونی چاہئے ۔تیسرا کام پارٹی کی تنظیم سازی ہے۔پارٹی کے اندرنئے اور پرانے انصافین کی کھینچا تانی سے ایک بحرانی ماحول پیدا ہوگیا ہے۔پرانے انصافین میں بلا کا جوش ہے ‘کپتان سے والہانہ عقیدت ‘ تبدیلی کی شدیدخواہش اور روایتی سیاست دانوں سے سخت بیزاری ہے ۔نئے آنے والے پی ٹی آئی کے ابھار کو دیکھ کر آئے ہیں ‘ان کے پاس روایتی سیاست کا تجربہ ہے ‘وسائل ہیں ‘تعلقات کا وسیع نیٹ ورک ہے‘ عرف عام میں انہیں ای لیکٹ ایبلز کہتے ہیں۔ ان ای لیکٹ ایبلزنے ہزاروں لوگ پارٹی کے ممبرز بنائے اورکمال مہارت سے عہدوں پر اپنے ’ بندے‘بٹھا دئیے۔پرانے انصافین جب روایتی سیاست دانوں کوپارٹی میں نمایاں مقام پربیٹھے اور فیصلے کرتے دیکھتے ہیں تودل پر چوٹ لگتی ہے ۔ پارٹی کے ان دوالگ الگ دھاروں کے درمیان اگرپل نہ بنائے گئے تویہ ایک بڑے بحران کا شکار ہوجائے گی ۔ اس کے لئے کپتان کو خود شہر شہر جانا ہوگا ‘وہاں کے رہنماؤں اور کارکنوں سے براہ راست ملیں اور سنیں اور مقامی سیاست کو سمجھیں۔ اس سے انہیں فرسٹ ہینڈ معلومات ملیں گی‘ان کا حلقہ جاتی ایکسپوژربڑھے گا جس سے ایک طرف رہنماؤں کے مابین خلیج کم کرنے کا موقعہ ملے گاتو دوسری طرف آئندہ الیکشن کے لئے امیدوار منتخب کرنے میں مدد ملے گی ۔

نیا پاکستان احتجاجی سیاست کی دھماچوکڑی سے نہیں ابھرے گا‘یہ روایتی سیاست دانوں کی عیارانہ چالوں سے بھی نہیں بنے گا ‘اس کے لئے تعمیری اور تخلیقی حکمت عملی کی ضرورت ہے ۔ آپ کو احتجاجی سیاست سے کچھ حاصل نہیں ہوگا‘خان صاحب!

مزید : کالم