سندھ میں تبدیلی ،اختیارات کا منبع سابق صدر ہی ہیں

سندھ میں تبدیلی ،اختیارات کا منبع سابق صدر ہی ہیں

  

تجزیہ :مبشر میر

سابق صدر آصف علی زرداری نے کامیاب حکمت عملی سے پارٹی چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کو مقتدر حلقوں میں باعزت اور نمایاں مقام دلانے میں اہم کردار ادا کیا ہے ۔عام تاثر یہ ہے کہ بلاول بھٹو زرداری نے وزیراعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ کو ہٹانے میں اہم کردار ادا کیا ہے اور اس سے پارٹی چیئرمین کی حیثیت سے ان کی گرفت مضبوط ہوتی دکھائی دے رہی ہے ۔حقیقت میں ایسانہیں ہے ۔اختیارات کا منبع ابھی بھی سابق صدر ہی ہیں ۔نیا وزیراعلیٰ بھی ان ہی کی مرضی سے حکمرانی کرے گا ۔بلاول بھٹو زرداری کا اسدکھرل کی مبینہ گرفتاری میں مدد کرنے کے حوالے سے آنے والی اطلاعات سے یہ تاثر ابھرا کہ اب ان کو مقتدر حلقوں میں پذیرائی ملے گی کیونکہ یہ فیصلہ انہوں نے خود کیا ہے ۔درحقیقت تاریخی طور پر دیکھا جائے تو سید قائم علی شاہ اپنے تئیں کوئی فیصلہ نہیں کرتے تھے ۔اس سے ملتا جلتا معاملہ سابق وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی کا تھا جن کو کہا گیا تھا کہ سوئس حکومت کو خط نہیں لکھنا جس کی پاداش میں سپریم کورٹ نے ان کو سزا دی اور نااہل بھی کیا ۔بعد میں وزیراعظم راجہ پرویز اشرف نے خط لکھا جس پر یوسف رضا گیلانی برہم رہے کہ آخر ان کو کیوں منع کیا گیا تھا ۔سندھ حکومت کا طرزحکمرانی سید قائم علی شاہ اپنا ڈاکٹرائن نہیں ہے بلکہ ان پر اثرانداز ہونے والی شخصیات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ان کی حیثیت آج بھی مسلمہ ہے ۔طرز حکمرانی میں تبدیلی اس وقت تک ممکن نہیں جب تک احتسابی عمل میں رکاوٹیں ڈالنے کی کوششیں جاری رہیں گی ۔بلاول بھٹو زرداری اس دن بااختیار تصور کیے جائیں گے جب بیک ڈور سے اثر انداز ہونے والی شخصیات حقیقی طور پر ان کے ماتحت ہوجائیں گی ۔

مزید :

تجزیہ -