’مجھے بلڈ کینسر ہوگیا، 3 مرتبہ کیموتھراپی سے بھی فائدہ نہ ہوا اور موت کے منہ میں جاپہنچی لیکن پھر ہلدی کے ساتھ یہ کام کرنا شروع کیا تو چند ہی دن میں صحت بحال ہونا شروع ہوگئی اور۔۔۔‘ خاتون نے ہلدی کا معجزانہ فائدہ بتادیا

’مجھے بلڈ کینسر ہوگیا، 3 مرتبہ کیموتھراپی سے بھی فائدہ نہ ہوا اور موت کے منہ ...
’مجھے بلڈ کینسر ہوگیا، 3 مرتبہ کیموتھراپی سے بھی فائدہ نہ ہوا اور موت کے منہ میں جاپہنچی لیکن پھر ہلدی کے ساتھ یہ کام کرنا شروع کیا تو چند ہی دن میں صحت بحال ہونا شروع ہوگئی اور۔۔۔‘ خاتون نے ہلدی کا معجزانہ فائدہ بتادیا

  

لندن(مانیٹرنگ ڈیسک) برطانیہ میں ایک خاتون کو بلڈکینسر لاحق ہو گیا، ہر طرح کے علاج سے بھی افاقہ نہ ہوا اور وہ موت کے منہ تک جا پہنچی لیکن پھر اس نے ہلدی کا استعمال شروع کر دیا جس کے ایسے نتائج سامنے آئے کہ ڈاکٹر بھی حیران رہ گئے۔ میل آن لائن کی رپورٹ کے مطابق ڈینکے فرگوسن نامی اس خاتون کو 2007ءمیں بلڈکینسر ہوا۔ اس کی 3بار کیموتھراپی کی گئی اور 4بار ’سٹیم سیل‘ ٹرانسپلانٹ ہوا لیکن سب بے کار۔ افاقہ ہونے کی بجائے اس کا مرض سنگین تر ہو گیا اور اس کے بچنے کی موہوم سی امید باقی رہ گئی۔

’گزشتہ برس مجھے کینسر تشخیص ہوگیا، روایتی علاج سے تنگ آکر میں بھارت چلی گئی، جہاں مجھے گائے کا پیشاب پلایا جاتا رہا اور پھر ۔۔۔‘ کینسر زدہ خاتون کے ساتھ پھر بھارت میں کیا کیا گیا؟ جان کر آپ کا بھی منہ کھلا کا کھلا رہ جائے گا

پھر ایک روز فرگوسن نے انٹرنیٹ پر ہلدی سے کینسر کے علاج کے بارے میں پڑھا۔ باقی طریقہ ہائے علاج تو بے سود ہو ہی چکے تھے چنانچہ اس نے اسے آزمانے کا فیصلہ کیا۔ اس نے پڑھا تھا کہ ہلدی میں ’کرکومین‘ (Curcumin)نامی عنصر پایا جاتا ہے جسے کھانے سے کینسر کا خاتمہ ہو جاتا ہے۔ یہ عنصر ہلدی میں 2فیصد ہوتا ہے، چنانچہ خالص ہلدی کھا کر کرکومین کی مناسب مقدار حاصل نہیں کی جا سکتی تھی، لہٰذا فرگوسن نے اس عنصر کو ہلدی سے الگ کرکے اس کی گولیاں بنائیں اور روزانہ ایک گولی کھانی شروع کر دی۔ اس ایک گولی کا وزن 8گرام تھا جو دو چمچ کرکومین پاﺅڈر کے برابر تھی۔

اس گولی کے کھانے سے اس کی صحت پر انتہائی حیران کن اثرات مرتب ہونے شروع ہو گئے اور اس کا کینسر، جو لاعلاج ہو چکا تھا، گھٹنا شروع ہو گیا اورآج پانچ سال کے بعد بالکل معمولی رہ گیا ہے۔ فرگوسن آج بھی کرکومین کی ایک گولی روزانہ کھا رہی ہے۔ اس گولی سے فرگوسن کو اتنی جلدی صحت ملی کہ ڈاکٹر دنگ رہ گئے اوربرٹش میڈیکل جرنل میں اس کے روبہ صحت ہونے کی رپورٹ شائع کی گئی۔

مزید : ڈیلی بائیٹس