’میرے بعد میرے شوہر کو کچھ نہ کہنا کیونکہ۔۔۔‘ خاتون کی موت کے بعد پولیس نے شوہر کو پکڑلیا، لیکن پھر بیوی کا آخری خط ملا تو اس میں کیا لکھا تھا؟ پڑھ کر جج کا بھی منہ کھلا کا کھلا رہ گیا، شوہر کو چھوڑنے پر مجبور ہوگیا کیونکہ۔۔۔

’میرے بعد میرے شوہر کو کچھ نہ کہنا کیونکہ۔۔۔‘ خاتون کی موت کے بعد پولیس نے ...
’میرے بعد میرے شوہر کو کچھ نہ کہنا کیونکہ۔۔۔‘ خاتون کی موت کے بعد پولیس نے شوہر کو پکڑلیا، لیکن پھر بیوی کا آخری خط ملا تو اس میں کیا لکھا تھا؟ پڑھ کر جج کا بھی منہ کھلا کا کھلا رہ گیا، شوہر کو چھوڑنے پر مجبور ہوگیا کیونکہ۔۔۔

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

نئی دلی (نیوز ڈیسک) بیوی کے قتل کے الزام میں گرفتار کیا گیا ایک بھارتی شخص سزائے موت سے بال بال بچ گیا کیونکہ عین آخری وقت پر اس کی بیوی کے ہاتھ سے لکھا وہ خط سامنے آ گیا جو اس نے خودکشی سے قبل تحریر کیا تھا، اور اس میں اپنے خاوند کو بے قصور بتایا تھا۔

ٹائمز آف انڈیا کی رپورٹ کے مطابق ایڈیشنل سیشن جج منوج جین نے خط سامنے آنے پر خاتون کی موت کو خود کشی قرار دیتے ہوئے کہا ”خود کشی سے پہلے تحریر کئے گئے خط نے سارا مسئلہ حل کردیا ہے۔ مجھے یقین ہے کہ یہ تحریر حقیقی ہے۔ استغاثہ کے پاس اس کیس میں تبدیلی کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ میں اس موت کو خود کشی قرار دیتا ہوں۔“

جسم فروش خاتون نے اپنا پیشہ چھوڑ کر شادی کرلی، لیکن کس سے کی؟ جان کر مَردوں کی آنکھوں میں آنسو آجائیں گے، ایسی شادی جس کی دنیا میں کوئی مثال نہیں ملتی

میڈیارپورٹس کے مطابق خاتون نے خود کشی سے قبل اپنے آخری خط میں لکھا تھا ”میرا خاوند میرے ساتھ مکمل تعاون کرتا ہے لیکن میں اسے ایسا ہی ردعمل دینے میں ناکام ہوں جس پر میں دن بھر افسردہ رہتی ہوں۔ اگر مجھے کچھ ہو جائے تو میرے خاوند کو ذمہ دار نہ ٹھہرایا جائے اور میرے بچے بھی اپنے باپ کے ساتھ رہیں گے۔“

پولیس رپورٹ کے مطابق خود کشی کرنے والی خاتون کے شوہر پولیس کو دی گئی اطلاع میں کہا تھا کہ اس کی اہلیہ نے خود کو کمرے میں بند کردیا تھا اور دروازہ نہیں کھول رہی تھی۔ پولیس نے موقع پر پہنچ کر دروازے کو توڑا تو اندر خاتون کی لاش پنکھے سے لٹکتی ہوئی ملی۔ تفتیش کے دوران پولیس نے خاوند کو مشکوک قرار دیتے ہوئے گرفتار کرلیا اور اس کے خلاف مقدمے کی کارروائی شروع ہو گئی۔

پولیس نے خاتون کے ہاتھ سے لکھی ہوئی تحریر کو مشکوک قرار دیا تھا لیکن اس کے برعکس عدالت نے پولیس کے بیانات کو مشکوک قرار دیتے ہوئے خود کشی کرنے والی خاتون کی لکھی ہوئی تحریر کو حقیقی قرار دیتے ہوئے اس کے شوہر کو بری کر دیا۔

مزید : ڈیلی بائیٹس