جماعت الدعوۃ کاعشرہ اظہاریکجہتی کشمیر

جماعت الدعوۃ کاعشرہ اظہاریکجہتی کشمیر
 جماعت الدعوۃ کاعشرہ اظہاریکجہتی کشمیر

  

مقبوضہ جموں و کشمیرہماراپڑوس ہی نہیں، ہمارے جسم کاحصہ بھی ہے جواس وقت سخت تکلیف میں ہے،آگ میں جل ر،خاک وخون میں تڑپ رہا اورلہولہان ہورہاہے، جبکہ ہم اپنے گھروں میں مطمئن اورخوش وخرم بیٹھے رہیں۔جہاں تک مقبوضہ جموں وکشمیرکے مسلمانوں کاتعلق ہے، ان کے جذبات آج بھی اسی طرح جوان ہیں،آتش فشاں ہیں جس طرح1947ء کے موقع پرقیام پاکستان کے لئے تھے۔ اہل کشمیرآج بھی بھارتی حکمرانوں کے مظالم برداشت کررہے ہیں پاکستان کے دفاع اوراستحکام کی جنگ لڑرہے ہیں اورپاکستان کے نام پرسینے چھلنی کروا رہے ہیں۔اہل کشمیرکی محبت اوروفاکواس وقت پاکستان میں کوئی سمجھا ہے تووہ پروفیسرحافظ محمد سعید اورجماعت الدعوۃ ہے جوہرمشکل وقت میں اپنے کشمیری بھائیوں کے ساتھ کھڑے ہوتے،ان کواپنائیت کااحساس دلاتے، ان کے دکھ دردکوسمجھتے، ان کی مددوحمایت کے لئے کمربستہ رہتے ہیں۔پاکستان کے حکمرانوں کومسئلہ کشمیر کے حوالے سے ذمہ داری کااحساس دلاتے اورعوام میں آگاہی مہم چلاتے رہتے ہیں۔امرواقعہ یہ ہے کہ مسئلہ کشمیر کواجاگر کرنے میں جومثبت کردارجماعت الدعوۃ نے اداکیا اورکررہی ہے، وہ کسی اورکونصیب نہیں ہوسکا۔مسئلہ کشمیرکے حل کے لئے جماعت الدعوۃ کی کوشش وکاش بہت ہی تفصیل طلب ہے۔ماضی کی کوششوں سے قطع نظراگرصرف 2017ء کی بات کی جائے توجماعت الدعوۃ کاکردار اس ایک سال میں بھی بہت ہی شانداراورقابل فخرہے۔دسمبر2016ء کے اختتام پر پروفیسرحافظ محمدسعیدنے پاکستان کے پایہ تخت اسلام آبادمیں حریت کانفرنس کے رہنماؤں کے جلومیں ایک بھرپور پریس کانفرنس میں 2017ء اہل کشمیرکے نام کرنے کافیصلہ کیاتواس سے ایک طرف مقبوضہ جموں وکشمیرکے عوام میں پاکستان کے ساتھ محبت واعتمادکارشتہ مضبوط ہواتودوسری طرف بھارت میں صف ماتم بچھ گئی تھی، چنانچہ بھارت نے اپنے آقاامریکہ سے فریادکی۔امریکہ نے پاکستان پردباؤڈالااورہمارے حکمرانوں نے پروفیسرحافظ محمدسعیدکوان کے پانچ ساتھیوں سمیت نظر بند کردیا۔ نظربندیوں، پابندیوں، رکاوٹوں اور قیدوبندکی صعوبتوں کے باوجود بھی جماعت الدعوۃ نے اہل کشمیرکے ساتھ اظہاریکجہتی کاپرچم سرنگوں نہیں ہونے دیااور مسئلہ کشمیرکے حوالے سے آگاہی مہم بدستور جاری ہے۔ جماعت الدعوۃ نے برہان وانی کے یوم شہادت(8جولائی) سے یوم الحاق پاکستان(19جولائی) تک عشرہ اظہاریکجہتی کشمیرکااہتمام وانتظام کیا، جبکہ 7جولائی کاجمعتہ المبارک شہدائے کشمیرکے طور پر منایا گیا۔ اس دن ملک بھر میں برہان وانی شہید، ابوالقاسم شہید،سبزاربھٹ شہید، جنید شہید اور بشیر لشکری شہید کی غائبانہ نماز جنازہ ادا کی گئی۔پاکستان کے تمام چھوٹے بڑے شہروں،قصبوں،اسلام آباد سمیت چاروں صوبائی دارالحکومتوں اور آزادکشمیر میں اظہاریکجہتی کشمیرکے کامیاب ترین پروگرام کئے گئے ۔اس سلسلے میں جماعت الدعوۃ نے دفاع پاکستان کونسل کے تعاون سے ایک اہم ترین پروگرام اسلام آبادمیں مرکزقباسے منسلک وسیع وعریض گراؤنڈ میں کیاجس میں مولاناسمیع الحق، پروفیسرحافظ عبدالرحمن مکی و دیگرتمام سیاسی ومذہبی جماعتوں کے علاوہ متحدہ جہادکونسل کے چیئرمین سیدصلاح الدین نے بھی شرکت کی، اسی طرح 19جولائی کو لاہورکے دل مال روڈ کے ناصرباغ میں یوم الحاق پاکستان کی مناسبت سے یوم شہدائے کشمیرپروگرام کاانعقادکیا گیاجس میں دفاع پاکستان کونسل کے چیئرمین مولاناسمیع الحق،جماعت اسلامی کے مرکزی رہنما لیاقت بلوچ، جماعت الدعوۃ کے مرکزی رہنما پروفیسرحافظ عبدالرحمن مکی،پیر سید ہارون علی گیلانی، انصارالامہ کے سربراہ مولانا فضل الرحمان خلیل، مولانا امیر حمزہ،مولانا عبدالعزیز علوی،تحریک المجاہدین کے امیرشیخ جمیل الرحمان،قاری یعقوب شیخ، عبداللہ حمید گل، حافظ عبدالغفار روپڑی، مولانا سیف اللہ خالد،سردار محمد چغتائی، حافظ طلحہ سعید،مرزا ایوب بیگ، شیخ نعیم بادشاہ، علامہ ہشام الہٰی ظہیر،مزمل اقبال ہاشمی،مولانا عنایت اللہ ربانی،حافظ مدثر مصطفیٰ،ابوالہاشم ربانی، تحریک آزادی جموں وکشمیر کے جنرل سیکرٹری حافظ خالد ولید و دیگر نے خطاب کیا۔

19جولائی کواگرچہ لاہورمیں سخت حبس،گھٹن اورگرمی تھی، اس کے باوجود ایمان افروز،جذباتی ماحول دیکھنے میں آیا۔سامعین پسینے میں شرابورتھے، لیکن موسم کی کوئی سی بھی سختی ان کے جذبہ ایمانی میں لغزش پیدانہ کرسکی۔ وہ آخروقت تک انتہائی دلجمعی سے خطابات سنتے رہے۔ شرکاء نے پاکستانی پرچم اٹھا رکھے تھے۔ ہزاروں افراد کی جانب سے’’ کشمیریوں سے رشتہ کیا لاالہ الااللہ۔۔۔ سید علی گیلانی، حافظ محمد سعید قدم بڑھاؤ ہم تمہارے ساتھ ہیں، کشمیر بنے گا پاکستان اور انڈیا کی بربادی تک جنگ رہے جنگ رہے گی‘‘ کے زوردار نعرے لگائے جاتے رہے۔ دفاع پاکستان کونسل کے چیئرمین مولانا سمیع الحق نے اپنے خطاب میں کہا کہ ملکی سلامتی،سرحدوں کے تحفظ اور دشمنوں کی سازشوں سے پاکستان کو بچائیں گے۔ ہمارا مشن اقتدار یا کرسی نہیں،بلکہ نظریاتی،جغرافیائی سرحدوں کی حفاظت ہے۔ کشمیریوں نے آج کے دن (19 جولائی 1947ء)یوم الحاق پاکستان کی قرارداد پیش کی،ستربرس کا عرصہ گزرجانے کے باوجودآج بھی کشمیری اسی طرح قربانیاں پیش کر رہے ہیں ۔ہم شہداء کو خراج عقیدت پیش کرتے ہیں اور ان کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتے ہیں۔ ہمارے حکمران جہاد کانام لیتے ہوئے کانپتے ہیں،جبکہ جہاد کا حکم اللہ نے دیا ہے جو قیامت تک جاری رہے گا۔

جماعت الدعوۃ سیاسی امور کے سربراہ پروفیسر حافظ عبدالرحمان مکی کاکہنا تھاکہ امریکہ اور اسرائیل سازش کے تحت نریندر مودی کو اقتدار میں لے کر آئے تاکہ کشمیرپر دباؤ بڑھایا جائے۔ جب سے ہزاروں مسلمانوں کا قاتل مودی اقتدار میں آیاہے، بھارت نے کشمیریوں پر ظلم و ستم کا سلسلہ تیز کر دیا ہے۔بھارت کو پینٹاگون اور تل ابیب کی مکمل حمایت حاصل ہے۔ ہمیں پاناما سے زیادہ پریشانی اس بات پر ہے کہ حکومت کشمیر کے حوالے سے سردمہری کا مظاہرہ کر رہی ہے۔ ایک طرف بھارت کشمیر میں کیمیائی ہتھیار استعمال کر رہا ہے، دوسری جانب دباؤ ڈال کر حافظ محمد سعید کو نظربند کروادیا گیا ہے۔ بیرونی قوتیں جماعت الدعوۃ کی سرگرمیاں محدود کرنا چاہتی ہیں تاکہ وہ کشمیر میں قتل عام تیز کریں اور پاکستان میں کشمیریوں کے حق میں اٹھنے والی مضبوط آواز خاموش رہے۔جماعت اسلامی کے مرکزی سیکرٹری جنرل لیاقت بلوچ کاکہنا تھاکہ کشمیری متحد ہو کر میدان میں ڈٹے ہوئے ہیں جبکہ پاکستان میں لوگ منتشر ہیں، آج عالمی منظر بدل رہا ہے،امریکہ، بھارت ،اسرائیل کی ناپاک تثلیث وجود میں آچکی ہے،مودی نے اسرائیل اور واشنگٹن کا دورہ کیا۔امریکہ کچھ سال پہلے تک مودی کو دہشت گرد کہتا تھا، لیکن اب پروٹوکول دیا گیا۔انہوں نے کہا کہ حافظ محمد سعید کو حکومت نے نظربند کیا، پھر سید صلاح الدین کو امریکہ نے دہشت گرد قرار دے دیا۔یہ تحریک آزادی کشمیر کو کمزور کرنے کی سازش ہے،لیکن دنیاجان لے کہ پاکستانی قوم کشمیریوں کی پشتبان ہے۔ مولاناامیر حمزہ کاکہناتھا کہ انڈیا نے پاکستانی ریاستوں کی طرح 1975ء میں چین کے علاقہ سکم پر قبضہ کیا۔ اسی طرح1971ء ڈھاکہ کو پاکستان سے الگ کیا۔ اسے قبضوں کی عادت ہے۔ اب چین نے انڈیا کو سبق سکھانے کا سلسلہ شروع کیا ہے۔ انڈیا اب سینڈوچ بنے گا۔ اب تمہاری مشرقی ریاستیں، جن میں علیحدگی کی تحریکیں ہیں، تمہارے ساتھ نہیں رہیں گی۔

مزید : کالم