دہشت گردوں نے پولیس کو خصوصی ہدف بنا لیا

دہشت گردوں نے پولیس کو خصوصی ہدف بنا لیا

لاہور میں پھر دہشت گردی کی افسوسناک واردات ہو گئی، فیروز پور روڈ پر ارفع کریم ٹاور کے قریب پرانی سبزی منڈی میں جسے خالی کرانے کے لئے آپریشن جاری تھا موٹر سائیکل سوار بمبار نے خود کو اڑا لیا،دھماکے میں 9پولیس اہلکاروں سمیت28افراد شہید ہوگئے۔بتایا گیا ہے کہ دہشت گرد قریبی گھر میں موجود تھے، ڈی آئی جی کے مطابق پولیس کو نشانہ بنایا گیا، واردات میں آٹھ سے دس کلو گرام بارود استعمال کیا گیا،حملے کی پہلے سے اطلاع تھی، حملہ آور کے جسم کے اعضا مل گئے ہیں اور اُس کی عمر20سال کے لگ بھگ بتائی گئی ہے،حملے کی ذمہ داری کالعدم تحریک طالبان نے قبول کی ہے۔پانچ ماہ قبل بھی شاہراہِ قائداعظم پر بم دھماکے میں پولیس کو ٹارگٹ کیا گیا تھا، جس میں دو اعلیٰ پولیس افسروں سمیت سات اہلکار شہید ہو گئے تھے،پولیس کو نشانہ بنانے کا مقصد شہریوں کو خوفزدہ کرنا ہے۔شاہراہِ قائداعظم کے دھماکے میں دہشت گرد کا تعلق افغانستان سے تھا اور اُسے مقامی سہولت کار کا تعاون حاصل تھا،اِسی طرح بیدیاں روڈ پر بھی مردم شماری کے کام میں مصروف ٹیم کی سیکیورٹی پر مامور سیکیورٹی اہلکار کو بھی دو موٹر سائیکل سواروں نے نشانہ بنایا۔اِن مماثلتوں سے انداز ہوتا ہے کہ شاید اِن حملوں کا ماسٹر مائنڈ ایک ہی ہو، جو بار بار سیکیورٹی اہلکاروں کو ہی نشانہ بنانے میں کامیاب ہوجاتا ہے اور طریقِ کار بھی ایک ہی طرح کا استعمال کیا جاتا ہے۔سبزی منڈی میں جہاں ایک آپریشن جاری تھا اور وہاں اِس مقصد کے لئے پولیس اہلکاروں کی خدمات حاصل کی گئی تھیں، بظاہر لگتا ہے کہ دہشت گردوں کو پہلے سے اطلاع تھی کہ سبزی منڈی میں فلاں تاریخ کو آپریشن ہونا ہے ایسے مواقع پر عموماً پولیس کی خدمات بھی حاصل کی جاتی ہیں، اِس لئے اِن تمام پہلوؤں کو مدنظر رکھ کر منصوبہ بندی کی گئی ہو گی۔تفتیش میں اِن امور کو دھیان میں رکھنا ضروری ہے۔

مُلک بھر میں اِس وقت دہشت گردی کی جو بھی وارداتیں ہو رہی ہیں اُن میں سیکیورٹی اہلکار اور پولیس کا عملہ خصوصی ہدف بنے ہوئے ہیں۔ چند روز پہلے کوئٹہ میں پولیس کے ایک اہلکار کو نشانہ بنایا گیا۔رمضان المبارک میں افطاری کا سامان لینے کے لئے جانے والی پاک بحریہ کی ایک پارٹی کو ٹارگٹ کیا گیا اِس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ دہشت گردوں کے اہداف کیا ہیں اور وہ کس انداز میں آپریٹ کرتے ہیں، اِس لئے اِس پہلو کو سامنے رکھ کر تفتیش کی ضرورت ہے تب ہی کہیں ٹھوس نتیجے پر پہنچنا ممکن ہو گا۔ دہشت گرداپنی ٹیکنیکس بھی بدلتے رہتے ہیں اب خود کش حملہ آور جیکٹ پہن کر نہیں آتے بلکہ یہ جیکٹ انہیں آخری وقت پر سہولت کار فراہم کرتا ہے۔کراچی میں بھی پولیس اہلکاروں کی ٹارگٹ کلنگ ہو رہی ہے، چند روز قبل تین پولیس اہلکاروں کو اُس وقت شہید کر دیا گیا جب وہ ایک ریستورنٹ میں کھانے کے انتظار میں بیٹھے تھے۔گزشتہ روز ہی ایک ٹریفک اہلکار فائرنگ سے جاں بحق اور اُس کے ساتھی زخمی ہو گئے یہ سارے واقعات اِس امر کی شہادت دیتے ہیں کہ دہشت گردی کے منصوبہ سازوں نے سیکیورٹی اہلکاروں کو خصوصی طور پر نشانے پر رکھا ہوا ہے۔کراچی کے آئی جی پولیس اے ڈی خواجہ نے وزیراعلیٰ سندھ کو ایک خط لکھ کراُن کی توجہ اِس جانب دلائی ہے کہ اُنہیں بائی پاس کر کے صوبائی وزیر داخلہ جو احکامات جاری کر رہے ہیں اِس سے پولیس کے ڈسپلن میں دراڑیں پڑ رہی ہیں اور دہشت گرد اس صورتِ حال سے فائدہ اُٹھا رہے ہیں۔سندھ کی حکومت ایک اعلیٰ پولیس افسر سے اِس لئے خوش نہیں کہ وہ سندھ میں حکمران پیپلزپارٹی کی قیادت کے بعض قریبی ساتھیوں کے ’’احکامات‘‘ نہیں مانتے تھے اور پولیس میں بھرتیوں کو میرٹ پر کرنا چاہتے تھے اور اب بھی غیر قانونی احکامات کی راہ میں مزاحم ہوتے ہیں۔ ایک پولیس افسر کا یہ انداز حکمرانوں کو پسند نہیں،لیکن اس طرح کی صورتِ حال دہشت گردوں کو بہت راس آتی ہے،اس لئے کراچی میں دوبارہ تیزی سے سراٹھا رہے ہیں اِس کا کوئی نہ کوئی حل نکال لینا چاہئے۔اگر صوبائی حکومت کو سندھ میں ایک دیانتدار پولیس افسر کی خدمات درکار نہیں اور وہ اسے اپنے ارادوں کے راستے کی رکاوٹ سمجھتے ہیں تو بھی اس مسئلے کو قانون کے مطابق حل ہونا چاہیے۔

ملک کے مختلف حصوں میں دہشت گردی کی جو وارداتیں بھی ہو رہی ہیں اُن کے ڈانڈے جن دہشت گرد گروہوں سے ملتے ہیں اُن کا تعلق کسی نہ کسی انداز سے افغانستان سے جا ملتا ہے، افغان سرحد پر اگرچہ لوگوں کی آمدو رفت کو بڑی حد تک دستاویزی بنا دیا گیا ہے اور کسی کو بھی سفری دستاویزات کے بغیر پاکستان آنے یا یہاں سے جانے کی اجازت نہیں تاہم ایسے محسوس ہوتا ہے کہ جو افغان دہشت گرد پاکستان آنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں وہ یا تو غیر روایتی راستے استعمال کرتے اور مقامی لوگوں کی مدد سے کسی نہ کسی انداز میں پاکستان میں داخل ہو جاتے ہیں اور یہاں سہولت کاروں کے ذریعے کارروائیاں کرتے ہیں یا پھر پہلے سے پاکستان کے اندر روپوش ہوتے ہیں اور موقع ملتے ہی اُن کے مقامی سہولت کار اُنہیں کارروائی کے لئے کسی مطلوبہ مقام پر بھیج دیتے ہیں۔

قبائلی علاقوں میں دہشت گردوں کے ٹھکانے اگرچہ ختم کر دیئے گئے ہیں اور آپریشن خیبر فور کا پہلا مرحلہ بھی کامیابی سے تکمیل پذیر ہو چکا ہے،لیکن یہاں سے بچ نکلنے میں کامیاب ہونے والے دہشت گرد یا تو افغانستان چلے گئے ہیں یا پھر مُلک کے دیگر حصوں میں پھیل گئے ہیں جن لوگوں نے لاہور کو ٹارگٹ کیا ہوا ہے اور گزشتہ چھ ماہ کے اندر تین بڑی وارداتیں کرنے میں کامیاب ہو گئے ہیں اُن کاسراغ لگانے کے لئے وسیع آپریشن کی ضرورت ہے اس مقصد کے لئے تمام صوبوں کی پولیس کو مربوط کوششیں کرنا ہوں گی،کیونکہ ایسی اطلاعات بھی آتی رہتی ہیں کہ دہشت گرد اپنے ٹھکانے بدلتے رہتے ہیں اور اگر کسی ایک صوبے میں دہشت گردوں کے خلاف دباؤ بڑھایا جاتا ہے تو وہ کسی دوسرے صوبے کے نسبتاً ایسے علاقوں کا رُخ کر لیتے ہیں جو کسی براہِ راست آپریشن کی زد میں نہ ہوں۔صوبائی حکومتوں کو جرائم پیشہ افراد کا ریکارڈ بھی اَپ ڈیٹ کرنا چاہئے،پنجاب کی حکومت لاہور کو سیف سٹی پراجیکٹ کے تحت محفوظ بنانے کے لئے جدید ترین کیمروں کا نظام نصب کر رہی ہے،لیکن دورانِ تنصیب ہی تین وارداتیں ہو چکی ہیں اِس لئے ضروری ہے کہ نہ صرف اس پراجیکٹ کو تیزی سے مکمل کیا جائے،بلکہ دوسرے بڑے شہروں تک بھی وسیع کیا جائے،جو حلقے ایسے میگا منصوبوں کو ہدفِ تنقید و ملامت بناتے رہتے ہیں اُنہیں اِس کی افادیت کا درست ادراک نہیں اور وہ محض سیاسی پوائنٹ سکورنگ کے لئے ایسا کرتے ہیں، دہشت گردی کے حالیہ واقعات نے ایسے منصوبوں کی اہمیت دو چند کر دی ہے۔

مزید : اداریہ