ٹیکس قوانین میں بہتری کے لئے عملی اقدامات کی ضرورت!

ٹیکس قوانین میں بہتری کے لئے عملی اقدامات کی ضرورت!

لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس سید منصور علی شاہ نے اس بات پر زور دیا ہے کہ ایسے قوانین بنائے جائیں، جن سے متعلقہ لوگوں کو کسی قسم کی الجھن یا پریشانی نہ ہو۔ قوانین میں بہتری کے لئے کوشاں رہنا چاہئے۔ چیف جسٹس نے مری میں منعقد ہونے والی لاہور ٹیکس بار ایسوسی ایشن کی سالانہ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مزید کہا کہ ٹیکس قوانین میں بہتری کے لئے ٹیکس بار ایسوسی ایشن کے فورم سے بھی تجاویز سامنے لائی جاسکتی ہیں۔ ایسے قوانین کا کوئی فائدہ نہیں، جن سے ٹیکس گزاروں کو مشکلات درپیش ہوں جبکہ حکومت کو مطلوبہ ریونیو بھی حاصل نہ ہو۔ چیف جسٹس سید منصور علی شاہ نے ٹیکس قوانین کے حوالے سے درپیش مشکلات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے ٹیکس کلچر کو فروغ دینے پر زور دیا ہے۔ موجودہ حالات میں ٹیکس نیٹ کو وسعت دینے کے لئے حکومتی کوششیں مکمل طور پر کامیاب نہیں ہورہی ہیں۔ ٹیکس ریلیف کو آسان بنانے کی ضرورت ہے تاکہ ٹیکس گزار کسی قسم کی دشواری کے بغیر ٹیکس ادا کرکے اپنا قومی فرض ادا کریں۔ مروجہ قوانین میں مناسب ترامیم کے لئے تمام سٹیک ہولڈروں سے مشاورت کو اہمیت دینی چاہئے تاکہ سب کے لئے قابلِ قبول قوانین پر عملدرآمد صحیح معنوں میں ہونے لگے۔ یہ امر لائق تحسین ہے کہ عدلیہ میں اصلاحات کرکے ایسا نظام لایا جارہا ہے، جس سے ٹیکس گزار یا ٹیکس لائر کو ٹیلی فون سکرین پر مطلوبہ معلومات میسر ہوں۔ تاہم ایسے قوانین منظور کئے جائیں، جن سے ٹیکس گزاروں کے مسائل حل ہوں۔ ٹیکس گزاروں کو ریلیف اور سہولتیں دے کر قومی خزانے کو نقصان سے بچایا جاسکتا ہے۔ جدید دور میں معیشت کی بہتری اسی صورت میں ممکن ہے کہ ٹیکس سسٹم کو جدید اور فطری انداز میں تبدیل کرتے ہوئے حالات حاضرہ کے تقاضوں کو پورا کیا جائے۔ بعض حلقوں کی رائے عموماً کچھ اس طرح سننے میں آتی ہے کہ خود وکلاء برادری ٹیکس قوانین سے مطمئن نہیں اور ریلیف نہ ہونے کی وجہ سے ذاتی ٹیکس معاملات کو بھی لٹکایا جاتا ہے۔ یہ بات اطمینان بخش ہے کہ اب بڑی شدت سے قوانین میں بہتری کی ضرورت کو محسوس کرتے ہوئے اقدامات اٹھائے جارہے ہیں، چند سال پہلے تک یہ شکایت بھی کی جاتی تھی کہ مقدمات کا فیصلہ بہت تاخیر سے ہوتا ہے۔ چیف جسٹس سید منصور علی شاہ نے یہ خوشخبری سنائی ہے کہ عدلیہ کا نظام جدید خطوط پر استوار کرنے سے اب مقدمات کے فیصلے برسوں اور مہینوں میں نہیں، ہفتوں اور دنوں میں بھی ہونے لگے ہیں۔یہ صورت حال حوصلہ افزا ہے لیکن ٹیکس قوانین سمیت دیگر شعبوں کے قوانین میں بہتری کے لئے عملی اقدامات یقینی بنائے جائیں۔

مزید : اداریہ