تعمیر کے سچے جذبوں سے عشق

تعمیر کے سچے جذبوں سے عشق
 تعمیر کے سچے جذبوں سے عشق

  

وزیر اعظم پاکستان میاں محمد نواز شریف کی حکومت گرانے کے لئے اندرون ملک کے بعض سیاست دان پیش پیش ہیں، تاہم اس کے اصل محرک انڈیا اسرائیل اور امریکہ ہیں۔سیاست دان شعوری یا لا شعوری طور پر ان تینوں ملکوں کے لئے ٹول کا کام کر رہے ہیں، ملکی سیاست دان نادانی اور اقتدار کے لالچ میں موجودہ حکومت کے خلاف طویل دورانیہ کے کنٹینر دھرنے، دارالحکومت کو یرغمال بنانے، حکومت کو مقدمہ بازیوں میں الجھانے اور بڑے ترقیاتی منصوبوں کو تعطل کا شکار کرنے میں لگے رہتے ہیں۔ ذرا ہوش سے کام لیں تو انہیں صاف معلوم ہو جائے گاکہ یہ کھیل دوسروں کا ہے جو پاکستان کو ترقی کی راہ سے ہٹانے اور اس کی معیشت کو خراب کرنا چاہتے ہیں۔ دوسروں کی بتائی اور سجھائی ہوئی راہ پر چلنے سے سیاست دانوں کو بدنامی کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوگا۔ پاکستانی عوام کو اچھی طرح معلوم ہے کہ قبل ازیں پاکستان نے تیز تر صنعتی اور زرعی ترقی کے لئے کالا باغ ڈیم کا پراجیکٹ شروع کیا جو انڈیا کو کسی طور گوارا نہ تھا ، اس کے لیے انڈیا کو پاکستان کے اندر سے ڈیم مخالف لابی مل گئی جس پر وہ اربوں روپے خرچ کر رہا ہے۔ جونہی ڈیم کی تعمیر شروع کرنے کا نام لیا جاتا ہے، یک لخت شور شروع ہو جاتا ہے کہ ملک ٹوٹ جائے گا۔اسی شور و غوغا سے متاثر ہو کر سابقہ حکومت نے منصوبہ ہمیشہ کے لئے سرد خانے میں ڈال دیا۔ اس کے بعد نریندر مودی بوند بوند پانی بند کرکے پاکستان کو بنجر بنانے کے اعلانات کرتا رہتا ہے، لیکن ہمارے سیاست دان مودی سرکار کو جرات مندانہ جواب دینے کی بجائے مودی کے ہمنوا بنے ہوئے ہیں ۔

اسی طرح تینوں ملکوں کو پاکستان کی اقتصادی ترقی مخالف پروگرام کی تکمیل کے لئے ملک کے اندر سے ایسے سیاست دان میسر آ گئے ہیں جو اقتدار کے لالچ میں بے وقت تحریکوں سے حکومت گرانے کے مشن کے ذریعے بیرونی ایجنڈے کی تکمیل میں معاونت کر رہے ہیں۔اب تک جس قدر افرا تفری پیدا کی گئی ہے، اس سے پاکستان کی سٹاک ایکسچینج کا بھٹہ بیٹھنے لگا ہے . سرمایہ کاروں کے اربوں روپے ڈوب چکے ہیں، خارجہ گاہک پاکستان آنے میں ہچکچاہٹ محسوس کرنے لگے ہیں، سیاست دانوں کے اس طرز عمل سے کوئی محب وطن خوش نہیں، البتہ ہمسائیگی میں انڈیا کے پروگرام کو تقویت مل رہی ہے، اس لئے یقینی طور پر انڈیا، اسرائیل اور امریکہ کافی خوش ہورہے ہوں گے۔میاں محمد نواز شریف کا بڑا قصور یہ بھی ہے کہ انہوں نے امریکی صدر کی دھمکیوں اور لالچ کی پرواہ نہ کرتے ہوئے جرات و بے باکی کی تاریخ رقم کی۔ پاکستانی عوام کی امنگوں کی صحیح ترجمانی کی اور ایٹمی دھماکہ کر دیا۔میاں محمد نواز شریف پاک وطن کی محبت میں یہاں تک گئے کہ امریکی پابندیوں کو برداشت کرنے اور گھاس کھا کر گزارہ کرنے پرتیار ہو گئے۔میاں محمد نواز شریف کا ایک جرم یہ ہے کہ انہوں نے ایٹمی دھاکے کے بعد پاکستان اور پاکستانی عوام کی زندگیوں میں معاشی انقلاب برپا کرنے کے لئے اقتصادی دھماکہ کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے، اس کے لئے انہوں نے گہرے پانیوں کی گوادر بندرگاہ بنائی۔ اسرائیل کے چہیتے اور امریکہ کے لاڈلے نریندر مودی اس بندرگاہ کو ناکام بنانے کے لئے ملکوں ملکوں دوڑے ، چاہ بہار کو گوادر کا متبادل بنانے کے لئے ہزار جتن کئے لیکن ناکام و نامراد ٹھہرے۔ گوادر بندرگاہ پاکستانیوں کی زندگیوں میں ثمر آور تبدیلی لانے والی ہے۔ متعدد ملکوں کو تجارتی سازو سامان کی ٹرانسپورٹیشن کے لئے پاکستان سے جوڑے گی۔ پاکستان کی اپنی برآمدات میں بیش بہا اضافے کی توقع ہے۔ اغیار کی نظروں میں میاں محمد نواز شریف کا ایک جرم یہ بھی ہے کہ انہوں نے چین کے اشتراک و تعاون سے سی پیک کی تعمیر کا بیڑا اٹھا رکھا ہے، جس کی وجہ سے پاکستان بہت سے ملکوں کے لئے محبوب و مقبول بن چکا ہے ۔

اسی پر اکتفا نہیں، بلکہ چین نے 46 ارب ڈالر کی گرانقدر سرمایہ کاری بھی فراہم کردی ہے . اس رقم کا غالب حصہ پاکستان میں بجلی پیدا کرنے کے منصوبوں پر خرچ کیا جار ہا ہے۔2013ء کے الیکشن میں میاں محمد نواز شریف کی کامیابی سے پہلے پاکستان کے پاس اپنی صنعت کے لئے پوری بجلی تھی اور نہ ہی خارجہ سرمایہ کاری آ رہی تھی۔اقتدار ملنے کے بعد جونہی موجودہ حکومت کو دوست ملک چین سے کثیر رقم کی سرمایہ کاری ملی اور اس نے بڑے ترقیاتی منصوبوں کی داغ بیل ڈالی۔یک لخت احتجاجی دھرنے شروع ہو گئے،امپائر کی انگلی اٹھنے کی دھمکیاں دی جانے لگیں، ایسا محسوس ہوتا ہے کہ پاکستان دشمن قوتوں کو پاکستان کے اندر سے سیاست دانوں کی صورت میں خوشحالی کے دشمن مل گئے۔سیاست دانوں کے اودھم مچانے کے باوجود حکومت نے بجلی کے متعدد منصوبے مکمل کر لئے اور اب تک صنعت کو بلا تعطل بجلی مہیا ہونے لگی ہے ۔ لاہور، اسلام آباد، راولپنڈی، ملتان اور دوسرے بڑے شہروں میں میٹرو بس چلا کر عوام کو کم خرچ، تیز رفتار اور آرام دہ سفری سہولتیں مہیاکر دی گئی ہیں۔ لاہور میں بین الاقوامی معیار کا اورنج لائن ٹرین منصوبہ چند ماہ میں مکمل ہونے والا ہے۔ حکومت کے شروع کردہ ترقیاتی منصوبے جہاں ایک طرف براہ راست عوام کے لئے سہولتوں کا باعث بنیں گے۔ ملک معاشی ترقی کی راہ پر سرپٹ دوڑے گا، روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے، سیاست دانوں کے لئے عوام کو سبز باغ دکھانے کے مواقع ناپید ہوجائیں گے، ہماری سیاست دانوں سے ایک بار پھر درخواست ہے کہ بے موقع حکومت گرانے کا خواب دیکھنا چھوڑ دیں، اقتصادی خوشحالی کے پروگرام مکمل کرنے میں حکومت کے سا تھ تعاون کریں، افراتفری پیدا کرکے انڈیا، اسرائیل اور امریکہ کو خوش کرنے کی بجائے کاروبار کے لئے پرامن اور سازگار ماحول پیدا کرکے پاکستان کے عوام کی خوشنودی حاصل کریں۔

مزید : کالم