یگانۂ روزگار صحافی شریف فاروق کا تذکرہ

یگانۂ روزگار صحافی شریف فاروق کا تذکرہ
 یگانۂ روزگار صحافی شریف فاروق کا تذکرہ

  

شریف فاروق کو یاد کرنا اور ان کے تذکار سے تاریخ صحافت کے صفحات کو تابندگی عطاکرنا دراصل محنت مسلسل کے پیکر اور ایک مستقل مزاج قلم کاروتجزیہ نگار کی یادکوتازہ کرنے کے مترادف ہے وہ سانولے سلونے رنگ کی ایک متبسم شخصیت کے مالک تھے، جس طرح ان کامزاج دھیماتھااسی طرح اندازِ گفتگو بھی گداز ہوتا تھا، اس اعتبار سے وہ مجید نظامی کی شخصیت سے بڑی مماثلت رکھتے تھے ویسے بھی وہ عمربھر حمیدنظامی اورمجید نظامی کے ہم خیال ومداح رہے، حالانکہ انہوں نے اپنی صحافتی زندگی کا بڑا حصہ پشاور میں بسرکیا، لیکن جب 19جون 1965ء کو پی آئی اے کاایک جہازجوتعارفی پروازپرتھاقاہرہ کے ہوائی اڈے پراترنے سے پہلے قاہرہ ہی کے نواح میں گرکر تباہ ہوگیا تو اس حادثے میں متعدد صحافی، قلمکار اور دانشوراپنی زندگی سے محروم ہوگئے، ان میں مولانا امین احسن اصلاحی کے صاحبزادے اور ’’مشرق‘‘ کے ایڈیٹر ابو صالح اصلاحی، روزنامہ ’’امروز‘‘کے چیف نیوز ایڈیٹر حمید ہاشمی اور روزنامہ ’’نوائے وقت‘‘ کے چیف رپورٹر عرفان چغتائی بھی شامل تھے، چنانچہ ان کے بعد مجید نظامی نے شریف فاروق کو ’’نوائے وقت‘‘ کا چیف رپورٹر مقرر کردیا، میں اس زمانے میں روزنامہ ’’کوہستان‘‘ کے ’’نیوز ونگ‘‘ سے منسلک تھا، چنانچہ میں نے حمید ہاشمی اور عرفان چغتائی پر ’’کوہستان‘‘ کے ایڈیٹوریل صفحے کے لئے دومضامین بھی لکھے، اصل میں ان دونوں شخصیات سے میں پوری طرح واقف ہوچکا تھا، جس زمانے میں شاہراہِ قائداعظم پر اسمبلی ہال کے سامنے چڑیاگھر کے باالمقابل واقع ایک بلڈنگ میں روزنامہ ’’مغربی پاکستان‘‘ کا دفتر بھی تھااوراس کے ساتھ ہی صحافیوں کا پریس کلب بھی تھا، جس کے سیکرٹری اس زمانے میں اے بی ایس جعفری ہوا کرتے تھے جو پریس کلب کی رونق کو آئے روز دوبالا کئے رکھنے کااہتمام کرلیاکرتے تھے۔

جب کراچی کے ایک فلمی ہفت روزہ ’’نگار‘‘ کے ایڈیٹر الیاس رشیدی نے ’’نگار فلم ایوارڈز‘‘ کا آغازکیا تو جن فلمی شخصیات کو پہلا ’’نگار ایوارڈ‘‘ حاصل کرنے کا اعزاز عطا ہوا۔ ان کو اس پریس کلب کی طرف سے ایک استقبالیہ دیا گیا جس میں دیگر فلمی شخصیات کے علاوہ اداکارہ و گلوکارہ میڈم نور جہاں اور اداکاراعجاز بھی موجود تھے، اس وقت وہ باہم شادی شدہ نہیں تھے، مگر اسی محفل میں الیاس رشیدی کو کسی نے متحرک کردیا کہ وہ نور جہاں اوراعجاز کی شادی کا ڈول ڈالتے، چنانچہ وہ بیل منڈھے چڑھ گئی اور ان دونوں فنکاروں کی شادی ہوگئی اس سلسلے میں پریس کلب کا چرچا بھی ہوااس زمانے میں حمید ہاشمی باقاعدگی سے اپنی بیگم کے ساتھ اس پریس کلب میں پہنچ کر ’’کیرم‘‘ سے دل بہلاتے، ’’نوائے وقت‘‘ سے فرہاد زیدی اور پی آئی اے سے صفدر بٹ بھی باقاعدگی سے پریس کلب میں پہنچتے۔ میری بھی حمید ہاشمی سے یہیں زیادہ واقفیت ہوئی، اس زمانے میں عبداللہ ملک ’’امروز‘‘ کے چیف رپورٹر تھے، جبکہ اے پی پی کے چیف رپورٹرابوبکرعظیم تھے جو اے بی عظیم کہلاتے تھے، اس زمانے میں ’’نوائے وقت‘‘ کے چیف رپورٹرزاہد چودھری تھے اورنوائے وقت کے ایڈیٹر حمید نظامی نے اپنادفتر فلیٹیز ہوٹل میں قائم کرلیاہواتھا، جبکہ باقی سارا دفتر نوائے وقت اس بلڈنگ میں ہوتا تھا، جس میں اب الفلاح بینک ہے، لیکن شریف فاروق پشاور ہی میں ہوتے تھے، انہوں نے غالباً اپنا اخبار ’’جہاں نما‘‘ شائع کرنے کا آغاز کردیا تھا، مگر قاہرہ حادثے میں عرفان چغتائی راہی ملک بقا ہوئے تو مجید نظامی نے جو فروری 1962ء میں حمید نظامی کے ہارٹ اٹیک کے باعث وفات پاجانے کے بعد نوائے وقت کے ایڈیٹر بن چکے تھے، شریف فاروق کواپنا چیف رپورٹر مقرر کردیا، چنانچہ 1966ء میں وائی ایم سی اے ہال میں حمید نظامی کی یاد میں جو جلسہ منعقد کیا گیا اس میں شریف فاروق سٹیج پر موجود تھے اور ابھی ان کی شخصیت میں عہد شباب کا رنگ جھلکتا تھا۔

شریف فاروق1925ء میں پیدا ہوئے تھے اورمجید نظامی سے تین سال بڑے تھے، مگر وہ اچھے صحافی ہونے کے باوجود تقریر کرنے کے شوقین نہیں تھے، اس لئے وہ اس جلسے میں میری تقریر تک بالکل خاموش بیٹھے رہے، ایک سابق اٹارنی جنرل اور سابق مرکزی وزیرچودھری نذیر احمد جلسے کی صدارت کررہے تھے، شورش کاشمیری نے نقابت کے فرائض ادا کئے۔ پاکستان کے شہرہِ آفاق اسلامی تاریخی ناول نگار اور روزنامہ ’’کوہستان‘‘ کے لائف چیئرمین نسیم حجازی نے بھی غالباً اس تقریب میں تقریر کی تھی، صدر ایوب خاں کا دور حکومت تھا اور زندہ دلانِ لاہور کویوم حمید نظامی پر منعقد ہونے والے جلسوں کا انتظار رہتا تھا، کیونکہ انہیں توقع ہوتی تھی کہ کوئی نہ کوئی ایسی شخصیت ضرور اظہارخیال کے لئے موجودہوگی جو پاکستان میں فوجی ڈکٹیٹر شپ اور آمریت کے خلاف اپنی دیوانگی کا اظہار کرتے ہوئے، حق و صداقت کا عَلم بلند کرے گی، اس لئے لوگ جوق بہ جوق یومِ حمید نظامی کے جلسے کی رونق بڑھانے کے لئے ہال میں داخل ہورہیتھے۔اس زمانے میں ذوالفقار علی بھٹو ابھی ایک فوجی ڈکٹیٹر کی کابینہ میں وزیرامورخارجہ کے فرائض اداکررہے تھے، مگر ان کی ذاتی اندرونی دنیا میں ایک نئے سیاسی دور کا آغاز کردینے کے لئے ہلچل مچی ہوئی تھی، مگر آئین کی وہ دفعہ بھی ان کے سامنے تھی کہ حکومت کے کسی منافع بخش عہدے پر متمکن رہنے والی کوئی شخصیت ایوان اقتدار سے باہر آجانے کے بعد دوسال تک اپنی سیاسی سرگرمیاں شروع نہیں کرسکتی یہی وجہ تھی کہ 1967ء میں جبکہ ذوالفقار علی بھٹو ایوان اقتدار سے باہر آچکے تھے، جب ان کو یوم حمیدنظامی کے جلسے میں بطورمہمان خصوصی مدعو کیاگیا تو انہوں نے لوگوں کے انتہائی اصرار کے باوجود لب کشائی سے مکمل گریز کیاالبتہ ان کی آنکھوں سے آنسورواں رہے، لیکن جب بھٹو کے سامنے کسی نے سید احمد سعید کرمانی کا نام لیا توذوالفقار علی بھٹو نے فوراً کہا:(Who Is She)

بہر حال 1966ء کے یوم حمید نظامی پر منعقدہ ایک عظیم الشان جلسے پر میدان روزنامہ ’’کوہستان‘‘ کے عظیم صحافی علامہ چودھری اصغر علی کوثر وڑائچ نے سرکرلیااور شعلہفشانی کا وہ عالم تھا کہ سامعین کے نزدیک وہ منظر وہ تھا کہ جیسے آزادی اظہار کا آتش فشاں پوری قوت سے اپنا لاوہ اگل رہا تھا، اس زمانے میں نواب امیر محمد خان مغربی پاکستان کے گورنر تھے اور انہوں نے اپنے بارے میں اپنے پروپیگنڈے کی ٹیکنیک کے ذریعے وہ دہشت پھیلائی ہوئی تھی کہ کوئی اُف تک کرنے کی جرأت نہیں کرتاتھا مگر جن لوگوں کو اللہ تبارک و تعالیٰ نے اعلائے کلمتہ الحق کی استطاعت و سعادت عطا کی ہوئی تھی، اس روز ان میں یہ راقم الحروف یعنی علامہ چودھری اصغر علی کوثر وڑائچ سرفہرست تھا پورا ہال نعروں سے گونج اٹھا اور جب اس پیکر جرأتِ رندانہ کی تقریر ختم ہوئی تو عوام داد دینے کے لئے سٹیج پر چڑھ گئے اور اس ناچیز یعنی چودھری اصغر علی کوثر وڑائچ کو اپنے کاندھوں پراٹھا لیا اور محض جرأتِ اظہار کی داد دینے کے لئے وہ اپنی عقیدت کے ثبوت کے طور پر مقرر کے پاؤں بھی چھو رہے تھے، پھر شورش کاشمیری مائیک پر آئے اور انہوں نے کہا کہ آج اس جلسے میں لوگ جس والہانہ انداز میں اصغر علی کوثر وڑائچ کو داد دے رہے ہیں اور جس طرح اس پر فدا ہو رہے ہیں، وہ واقعی مقرر کا حق ہے۔

مگر مَیں پھر کہوں گا کہ روزنامہ ’’کوہستان‘‘ کا مدیر مخابرات دراصل صدر ایوب خان کے اخبار ’’کوہستان‘‘ کا مدیر مخابرات ہے، کیونکہ اس وقت ’’کوہستان‘‘ ایوب خان کی کنونش مسلم لیگ کا اخبار ہے، مگر اصغر علی کوثر وڑائچ نے اس بے جگری سے آزادی اظہار کی حمایت میں اپنے خیالات کوبیان کیا ہے کہ معلوم ہوتا ہے کہ وہ ’’کوہستان‘‘ سے استعفا دے کر یہاں تشریف لائے ہیں، چنانچہ شورش کاشمیری کی وہ بات سن کر مجید نظامی نے جلسے میں اعلان کردیا کہ اس تقریر کے باعث اصغر علی کوثر وڑائچ پر کوئی افتاد پڑی اور ان کا روزگار جاتا رہا، تو ہم اس حریت پسند پر ہزاروں ملازمتیں قربان کردیں گے، پھر ڈاکٹر جاوید اقبال مائیک پر آئے اور انہوں نے پورے ہال کے سامنے میرے گھٹنوں کو ہاتھ لگاتے ہوئے کہا کہ میرے پاس الفاظ نہیں ہیں کہ میں اس نوجوان کی جرأت اظہار اور شجاعت بیانی کی داد دے سکوں۔ پھر اس ہنگامۂ داد وستائش کے درمیان ’’نوائے وقت‘‘ کے چیف رپورٹر شریف فاروق مائیک کی طرف بڑھے اور انہوں نے فرمایا کہ حضرات آپ نے دیکھ لیا کہ مجید نظامی، ڈاکٹر جاوید اقبال اور شورش کاشمیری کس طرح والہانہ انداز میں چودھری اصغر علی کوثر وڑائچ کی شعلہ فشانی کی پذیرائی کر رہے ہیں، چنانچہ اس موقع پر میرے بھی جذبات وہی ہیں، جو ان شخصیات کے ہیں، مگر میں توصیف و ستائش کے مرحلے میں ایک قدم اور آگے بڑھ کر آج اس شجاعت ودلاوری کے اعتراف میں چودھری اصغر علی کوثر وڑائچ کو ’’شیرِ ببر‘‘ کا خطاب دیتا ہوں:

اب دار پہ ہم صورتِ منصور کھڑے ہیں

اب کو چۂ جاناں سے کہاں دور کھڑے ہیں

ہم اہلِ قلم قتل گہِ جور و جفا ہیں

صہبائے ستم پی کے بھی مخمور کھڑے ہیں

مزید : کالم