لاہور کو محفوظ شہرکیوں نہیں بنایا جاسکا؟

لاہور کو محفوظ شہرکیوں نہیں بنایا جاسکا؟
 لاہور کو محفوظ شہرکیوں نہیں بنایا جاسکا؟

  

سیف سٹی بنانے کے اتنے مہنگے منصوبے کے باوجود لاہور کو محفوظ شہر نہیں بنایا جاسکا۔ مَیں کئی بار ارفع کریم سنٹر گیا ہوں۔ یہ انفارمیشن ٹیکنالوجی کا سب سے بڑا مرکز ہے، مگر حیرت ہے کہ اس سے ملحقہ علاقوں میں بھی سی سی ٹی وی کیمرے موجود نہیں، اگر یہاں سی سی ٹی وی کیمرے نہیں لگائے جاسکے تو پھر اور کہاں لگائے گئے ہیں؟ لاہور دھماکے کی جتنی بھی فوٹیج سامنے آئی ہیں، ان میں کوئی بھی ایسی نہیں جس میں خود کش حملہ آور کو آتے اور خود کش دھماکہ کرتے دیکھا جاسکے۔ کسی نجی فیکٹری یا گھر کے گندے نالے کے قریب سے بنی فوٹیج ہی سامنے آئی ہے، جس میں دور پرے دھماکہ ہوتے دیکھا گیا ہے۔ پاکستان میں بڑے منصوبے تو بنالئے جاتے ہیں، مگر ان کی تکمیل کے لئے جو کمٹ منٹ اور مہارت درکار ہوتی ہے، اس کا ہمیشہ فقدان رہتا ہے۔ اب ہر زبان پر یہی سوال ہے کہ تمام تر وسائل کی فراہمی کے باوجود لاہور جیسے شہر کو بھی دہشت گردوں کے شرسے نہیں بچایا جاسکا۔ وہ جب چاہتے ہیں، کوئی بڑی واردات کرگزرتے ہیں اور ہم خالی بیانات کے ذریعے اپنا فرض پورا کردیتے ہیں۔ابھی شاہراہ قائد اعظم پر الفلاح بلڈنگ کے سامنے ہونے والے خودکش دھماکے کی تلخ یادیں محو نہیں ہوئی تھیں کہ فیروز پور روڈ پر ایک بڑا سانحہ پیش آگیا۔ غور کیا جائے تو اس میں بھی قدم قدم پر انٹیلی جنس اداروں، پولیس اور انتظامیہ کی غفلت نظر آتی ہے۔خفیہ ایجنسیوں نے پہلے رونما ہونے والے دہشت گردی کے واقعات کی طرح اس واقعہ پر بھی یہ کہہ کر بریت حاصل کرلی ہے کہ انہوں نے پہلے ہی دہشت گردی کے امکان کی خبرجاری کردی تھی۔ یہ تو بڑا آسان قسم کا راستہ ہے کہ آپ ہر پندرہ روز بعد ایک الرٹ جاری کردیں۔ دہشت گردی ہو جائے تو روائتی بیان جاری کردیں، نہ ہو تو خاموش ہو کر بیٹھے رہیں۔ سوال یہ ہے کہ گلی محلے تک انٹیلی جنس کا دائرہ کیوں نہیں بڑھایا جاسکا؟ پولیس کی اسپیشل برانچ کس مرض کی دوا ہے؟ وہ متعلقہ تھانے کے ساتھ مل کر علاقے پر نظر کیوں نہیں رکھتی؟

یہ پچھلے کئی ماہ سے جو کومبنگ آپریشن جاری ہے، اس کے کیا نتائج برآمد ہوئے ہیں؟ یہ کیسے ممکن ہے کہ ایک خود کش حملہ آور لاہور میں آکر چھپ جائے اور موقع ملتے ہی قیامت برپا کردے۔ پولیس کو ٹارگٹ بنانا آسان ٹاسک نہیں، کیونکہ وہ خود بہت الرٹ ہوتی ہے، لیکن سب نے دیکھا کہ لاہور میں کئی مرتبہ پولیس کو کامیابی سے ہدف بنایا گیا۔ کیا یہ سب کچھ اچانک ہوا؟۔۔۔ ہرگز نہیں۔ خودکش حملہ آور اور اس کے سہولت کاروں کی ریکی اور معلومات بالکل مکمل تھیں۔ یہ کوئی پولیس چوکی یا تھانہ نہیں تھا جسے نشانہ بنایا گیا۔ یہ تو پولیس کا ایک عارضی انتظام تھا جو تجاوزات کے خلاف مہم کے سلسلے میں انتظامیہ کی مدد کے لئے کیا گیا۔ اس کی خبر آخر دہشت گردوں کو کیسے ہوئی؟ کس نے انہیں بتایا کہ پولیس والوں کی ایک بڑی تعداد فیروز پور روڈ پر موجود ہے، پھر خود کش حملہ مقامی نہیں تھا، اسے اس مقام پر کون لایا اور کس نے اس کے لئے ہدف کی نشاندہی کی۔ الفلاح بلڈنگ کے سامنے ہونے والے دھماکے میں تو سی سی ٹی وی کیمروں نے سہولت کار کی نشاندہی کردی تھی، اب تو کیمرے کی آنکھ ایسا کوئی منظر محفوظ نہیں کرسکی۔ ایک طویل عرصے سے دہشت گردی کی اس جنگ کا عذاب بھگتتے ہوئے یہ حقیقت تو کھل کر سامنے آچکی ہے کہ خودکش حملوں میں جو بھی نوجوان یا کم عمر لڑکے استعمال ہوتے ہیں، ان کا تعلق کسی مقامی آبادی یا نسل سے نہیں ہوتا۔ یہ قبائلی علاقوں ہی سے آتے ہیں اور اکثر افغان ہوتے ہیں۔ کیا ہمارے سیکیورٹی پر مامور ادارے اتنا بھی نہیں کرسکتے کہ لاہور یا کسی بھی بڑے شہر کے داخلی راستوں پر اس چیز کو چیک کریں۔ کیا ٹرانسپورٹرز کو اس بات کا پابند نہیں بتایا جاسکتا کہ وہ جب بسوں کے چلنے سے پہلے مسافروں کی تصاویر بناتے ہیں تو ایسے مسافر کی نشاندہی کریں، جس کے خدوخال مقامی لوگوں جیسے نہیں اور پولیس مکمل ڈیٹا رکھے کہ وہ کس شہر سے آیا ہے اور اس نے کس کے پاس قیام کرنا ہے؟

اسی طرح جہاں جہاں پولیس ناکے موجود ہیں، وہاں بھی اس پہلو پر خصوصی نظر رکھی جائے۔ اب یہ بات پرانی ہوگئی ہے کہ خود کش حملہ آور کو جیکٹ باندھ کر قبائلی علاقوں سے شہروں کی طرف روانہ کیا جاتاہے۔ اب وہ خالی ہاتھ آتے ہیں اور مقامی سطح پر سہولت کار انہیں خود کش جیکٹ فراہم کرتے ہیں۔ الفلاح بلڈنگ دھماکے میں بھییہی شواہد سامنے آئے تھے اور یہ دھماکہ بھی اسی طریقہ کار کے مطابق کیا گیا ہے۔ لاہور میں جگہ جگہ پولیس ناکے لگے ہوئے ہیں، انہیں بھی اس حوالے سے ہوشیار رہنا چاہئے کہ کوئی غیر مقامی نوجوان کسی موٹر سائیکل یا کسی کے ساتھ موٹر سائیکل پر مشکوک حالت میں تو نہیں جارہا۔ ٹریفک وارڈنز بھی صرف ’’شکار‘‘ تلاش کرنے پر ساری توجہ نہ دیں، بلکہ مشکوک افراد پر بھی نظر مرکوز نہ رکھیں۔ تو خود کش حملہ آور کی حرکت کو مسدود کیا جاسکتا ہے۔۔۔لاہور پاکستان کا دل ہے اور دہشت گرد اگر پاکستان کے دل پر حملہ کرنے میں کامیاب رہتے ہیں تو دنیا بھر میں یہ پیغام جاتا ہے کہ پاکستان دہشت گردی سے محفوظ ملک نہیں ہے، حالانکہ ہم نے دہشت گردی کے خلاف بڑی کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ کوئٹہ، کراچی اور پشاور میں دہشت گردی ہو تو اس کا ایک جواز بھی نظر آتا ہے کہ وہ اپنے داخلی حالات اور بیرونی سرحدوں کے حوالے سے ایک آسان ہدف نظر آتے ہیں، لیکن لاہور جیسے شہر میں، جس تک دہشت گردی کی نیت سے پہنچنے کے لئے کئی مرحلوں اور رکاوٹوں کو عبور کرنا پڑتا ہے، افغانستان سے آتے ہوئے کسی خود کش حملہ آور کو اپنے ہدف تک جانے کے لئے گویا پل صراط سے گزرنا پڑتا ہے، مگر اس کے باوجود لاہوراگر بار بار دہشت گردی کا نشانہ بن رہا ہے تو اس حقیقت کو تسلیم کرلینا چاہئے کہ ہمارے ادارے ناکام ہو چکے ہیں، ہمارا سیکیورٹی حصار بہت کمزور ہے اور ہم اس قابل نہیں کہ دہشت گردوں کے لئے اپنی زمین تنگ کرسکیں۔

موجودہ واردات کے سہولت کار بھی لاہور ہی میں موجود ہیں، گویا افغانستان سے شروع ہونے والا نیٹ ورک لاہور تک پھیلا ہوا ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ اس نیٹ ورک کے درمیان رابطے کا ذریعہ کیا ہے؟ دھماکے اور خودکش حملے پر ردعمل بیرون ملک سے کیسے آجاتا ہے اور ذمہ داری بھی کیونکر قبول کرلی جاتی ہے؟ حیرت ہے کہ نہ کوئی ایسی کال ٹریس ہوتی ہے، جو منصوبے کو وقت سے پہلے بے نقاب کرے اور نہ واردات کے بعد ان سہولت کاروں تک پہنچا جاتا ہے، جنہوں نے ایک اٹھارہ سال کے نوجوان کو، جو نہ تو لاہور کے راستوں سے واقف ہے اور نہ علاقوں سے ، لیکن وہ اپنے ہدف تک آسانی سے پہنچ جاتا ہے۔لاہور دھماکے سے سبق سیکھنے کی ضرورت ہے۔ اس پر روایتی اقدامات اور بیانات کی ملمع کاری کرکے کام نہیں چلے گا۔ سانحے کے بعد بر وقت آپریشن کرنا اور ریسکیو کے ذریعے زخمیوں کو فوری ہسپتال پہنچانا ایک احسن عمل ضرور ہے، مگر اصل کامیابی تو یہ ہے کہ دہشت گردوں کو واقعہ سے پہلے دبوچ لیا جائے۔ اس کے لئے انٹیلی جنس اداروں، پولیس اور حکومت کو باہم مل کر کام کرنا ہوگا۔ لکیر پیٹنے کی بجائے سانپ کو سانپ کے بل کے اندر ہی مارنا ہوگا۔ لاہور پھولوں کا شہر ہے، اس کا لہولہان چہرہ پورے ملک کو مایوس اور عدم تحفظ میں مبتلا کردیتا ہے۔ لاہور کو محفوظ بنانے کے لئے اگر رینجرز کراچی کی طرز پر گھر گھر تلاشی کا عمل شروع کرے اور اس کے بعد پولیس فالو اپ کرتی رہے تو دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کو شاید کہیں پناہ نہ مل سکے۔۔۔ دیکھتے ہیں، خادم اعلیٰ شہباز شریف اس سانحہ کے بعد کیا قدم اُٹھاتے ہیں یا ہم سب نئے سانحہ کے انتظارمیں ایک بار پھر خواب غفلت کی چادراوڑھ کر سو جائیں گے۔

مزید : کالم