پی سی بی کا خواتین کرکٹرز کو سینٹرل کنٹریکٹ دینے کا فیصلہ

پی سی بی کا خواتین کرکٹرز کو سینٹرل کنٹریکٹ دینے کا فیصلہ

 لاہور(سپورٹس رپورٹر)پاکستان کرکٹ بورڈنے خواتین کرکٹرز کو سینٹرل کنٹریکٹ دینے کا فیصلہ کرلیا ہے۔ خواتین کرکٹرز کا کنٹریکٹ دسمبر 2016 میں ختم ہوچکا تھا۔پاکستان کرکٹ بورڈ نے خواتین کرکٹرز کو سینٹرل کنٹریکٹ دینے کا فیصلہ کرلیا ہے۔خواتین کرکٹرز کا سینٹرل کنٹریکٹ گزشتہ برس دسمبر میں ختم ہوچکا تھا۔ ذرائع کے مطابق ویمن کرکٹرز کے سینٹرل کنٹریکٹ دینے کا اعلان ایک دو دن میں متوقع ہے۔دوسری جانب پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئر مین شہریار خان نے آئی سی سی خواتین ورلڈ کپ میں مایوس کن کارکردگی کے بعدکوچ صبیح اظہر ،کپتان ثنا ء میر اور منیجر عائشہ اشعر کو بھی ہٹانے کا عندیہ دیا ہے۔ دوسری جانب ویمن ورلڈ کپ میں قومی ٹیم کی ناقص کارکردگی کے بعد پہلے ہی کوچ صبیح اظہر کو ہٹایا جاچکا ہے اور اب پی سی بی ذرائع کا دعویٰ ہے کہ آپریشن ویمن کرکٹ کلین اپ کا اگلا ہدف قومی کرکٹ ٹیم کی کپتان ثنا میر ہیں لیکن اس کلین اپ آپریشن میں وہ اکیلی زد میں نہیں ہوں گی ان کے ساتھ سینئر کھلاڑیوں کو گھر بھجوانے کافیصلہ بھی کرلیا گیا۔کپتان کے علاوہ نین عابدی، جویریہ خان، مرینہ اقبال، اسماویہ اقبال اور ناہیدہ خان کوبھی فارغ کئے جانے کا امکان ہے۔ اس حوالے سے یہ بھی کہا جارہا ہے کہ پی سی بی ویمن ونگ کی ایک اہم آفیشل اپنی من پسند کھلاڑیوں کو بچانے کے لئے سر گر م ہوگئی ہیں۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ ٹیم کی منیجر عائشہ اشعر چھ برس سے ٹیم کے ساتھ کام کر رہی ہیں اور آئندہ چند روز میں وہ اپنی رپورٹ پی سی بی کو جمع کرائیں گی اور خودصاف بچ نکلنے میں کامیاب ہو جائیں گی۔ ان چھ برسوں میں ٹیم کے چھ کوچز تبدیل کیے جاچکے ہیں۔

شہریار خان نے کہا کہ اب وقت آگیا ہے کہ کپتان ثناء میر اور باقی مینجمنٹ کو تبدیل کر دیا جائے۔ ٹورنامنٹ کے دوران پاکستان ٹیم گروپنگ کا شکار رہی۔کوچ من پسند کھلاڑیوں کو پر وموٹ کرتے رہے۔جبکہ کپتان اور منیجر اپنے گروپ کو پروموٹ کرتی رہیں۔سابق ٹیسٹ اوپنر اور چیف سلیکٹر محمد الیاس بھی صورتحال میں بے بس دکھائی دیئے۔جب بھی انہوں نے ٹیم میں بہتری کے لئے تجاویز دیں انہیں بھرپور مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا۔کپتان نے الزام لگایا ہے کہ باہر سے انہیں غلط مشورے بھیجے گئے۔جنوبی افریقا کے میچ میں آخری اوور دینے پر بھی ٹیم انتظامیہ اختلافات کا شکار دکھائی دی۔ذرائع کا کہنا ہے کہ پورے ٹورنامنٹ میں ٹیم انتظامیہ ایک صفحے پر نہیں تھی۔ہر کوئی اپنی الگ رائے رکھتا تھا۔

مزید : کھیل اور کھلاڑی