رہبر پاکستان ۔۔۔ مجید نظامیؒ ،آج اُن کی تیسری برسی منائی جا رہی ہے

رہبر پاکستان ۔۔۔ مجید نظامیؒ ،آج اُن کی تیسری برسی منائی جا رہی ہے

شاہد رشید

مجید نظامی مرحوم ہماری قومی تاریخ کا ایک ایسا جگمگاتا ستارہ تھے جن کی ضوفشانی رہتی دنیا تک اہل وطن کے قلوب و اذہان کو منور کرتی رہے گی۔ انہوں نے قائداعظم محمد علی جناحؒ اور علامہ محمد اقبالؒ کے حیات و افکار سے اخذ کردہ جن اصولوں کو اپنی پیشہ وارانہ زندگی کی ابتداء میں حرزِ جاں بنایا، تادم آخر ان پر قائم و دائم رہے۔ کبھی کسی صورت ان پر سمجھوتہ نہ کیا۔ نہ تو فوجی حکمرانوں کا جاہ و جلال ان کے پائے استقامت میں لغزش پیدا کرسکا، نہ ہی کبھی کوئی طمع انہیں راہِ حق سے ہٹانے میں کامیاب ہو سکی۔ وہ صحیح معنوں میں علامہ محمد اقبالؒ کے مرد مومن تھے، گفتاروکردار میں اللہ رب العزت کی برہان تھے۔ خارزارِ صحافت میں اُنہوں نے بڑے نشیب و فراز دیکھے۔ حق گوئی کی پاداش میں انہوں نے زبردست مالی نقصانات برداشت کرلیے مگر قلم کے تقدس اور لفظ کی حرمت پر کبھی آنچ نہ آنے دی۔ روزنامہ ’’نوائے وقت‘‘ کے مدیر اعلیٰ کی حیثیت سے پاکستان کے تمام حکمرانوں سے ان کی ملاقات رہی مگر وہ کبھی کسی بھی مرحلہ پر کلم�ۂ حق کہنے سے پیچھے نہ ہٹے۔ ان کا اصول تھا کہ حکمران اچھا کام کریں تو ان کو سراہا جائے اور نااہلی کا مظاہرہ کریں تو محاسبہ کیا جائے۔ وہ ساری زندگی وطن عزیز کے بنیادی مفادات کی نگہبانی کرتے رہے۔ایسا کرتے وقت وہ کسی کو خاطر میں نہ لاتے تھے، کیونکہ ان کے نزدیک حکمران نہیں، ریاست پاکستان اوّلین ترجیح تھی۔

مجید نظامی مرحوم عہد حاضر میں نظرےۂ پاکستان کے سب سے بڑے مبلغ تھے۔ اسے پاکستان کی اساس قرار دیتے تھے۔ اس کے ساتھ جڑے رہنے کو پاکستان کی وحدت اور بقاء کا ضامن تصور کرتے تھے۔ پاکستان کو عطیہ خداوندی سمجھتے تھے، لہٰذا اس کی خدمت اور اس کی نظریاتی اساس کی حفاظت کو جزوِ ایمان تصور کرتے تھے۔ بابائے قوم قائداعظم محمد علی جناحؒ کے اس سچے پیروکار کی زندگی کا محور پاکستان‘ فکر و عمل کا مرکز بانیانِ پاکستان تھے۔ قائداعظم محمد علی جناحؒ اور علامہ محمد اقبالؒ کے نظریات و تصورات سے اختلاف رکھنے والے افراد، ادارے اور جماعتیں ان کی کتاب زندگی سے خارج تھے۔

مجید نظامی 12شوال 1348ھ بمطابق 3اپریل 1928ء سانگلہ ہل میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم سانگلہ ہل میں حاصل کی بعدازاں آپ لاہور آگئے۔اسلامیہ کالج ریلوے روڈ‘ لاہور میں حصول تعلیم کے دوران تحریک پاکستان میں سرگرم حصہ لیا اور 1946ء کے تاریخی انتخابات میں مسلم لیگی امیدواروں کی کامیابی کے لئے بھرپور مہم چلائی۔ تحریک پاکستان میں آپ کی خدمات کے اعتراف میں پاکستان کے پہلے وزیراعظم شہید ملت نوابزادہ لیاقت علی خان نے انہیں ’’مجاہد پاکستان‘‘ کی سند اور تلوار عطا کیے۔

1962ء میں اپنے بڑے بھائی جناب حمید نظامی کی رحلت کے بعد روزنامہ ’’نوائے وقت‘‘ کی باگ ڈور سنبھالی اور اسے صحیح معنوں میں پاکستانی قوم کی آرزوؤں اور امنگوں کا ترجمان بنا دیا۔ آپ اس ملک کو قائداعظمؒ ، علامہ محمد اقبالؒ ، مادرِ ملت محترمہ فاطمہ جناحؒ اور تحریک پاکستان کے لاکھوں شہداء کی امانت سمجھتے تھے، اس لئے آپ نے اپنی زندگی کو پاکستان کی نظریاتی سرحدوں کے تحفظ کے لیے وقف کر رکھا ہے۔ ایوبی آمریت کے خلاف جب مادرِ ملتؒ نے انتخابات میں حصہ لیا تو آپ نے ان کا بھرپور ساتھ دیا۔ آپ کی ساری زندگی جہد مسلسل سے عبارت تھی اور جابر سلطانوں کے رُو برو کلمۂ حق بلند کرنا ہمیشہ سے آپ کا طرّۂ امتیاز رہا۔ آپ نے اصولوں اور تحریر و تقریر کی آزادی پر نہ تو کبھی سمجھوتہ کیا اور نہ ہی کبھی کسی مصلحت کو آڑے آنے دیا۔ آپ کی جرأت و استقامت کے سبھی معترف ہیں۔ جنرل ایوب خان سے لے کر جنرل پرویز مشرف تک ہر حکمران کے آمرانہ ہتھکنڈوں کا آپ نے ڈٹ کر مقابلہ کیا۔

مجید نظامی مرحوم نے ہر اہم قومی ایشو پرملکی مفادات کے عین مطابق موقف اختیار کیا اور اصولوں پر کبھی کوئی سمجھوتہ نہ کیا۔ پاکستان کو عالم اسلام کی واحد ایٹمی قوت بنانے میں آپ کے کردار سے ہر پاکستانی بخوبی واقف ہے۔ بھارت کے ایٹمی دھماکوں کے بعد پاکستان پر دباؤ ڈالا جا رہا تھا کہ وہ جوابی ایٹمی دھماکے نہ کرے۔ وزیراعظم میاں نواز شریف اس اہم ایشو پر مشاورت کے لئے مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد سے ملاقاتیں کر رہے تھے۔ اسی تناظر میں اخبارات کے ایڈیٹرز کے ساتھ بھی ایک اہم مشاورتی اجلاس منعقد ہوا۔ اس اجلاس میں مختلف آراء سامنے آرہی تھیں۔ میاں نواز شریف نے جب آپ سے ایٹمی دھماکہ کرنے یا نہ کرنے کے بارے میں رائے مانگی تو آپ نے کہا ’’میاں صاحب، دھما کہ کردیں ورنہ قوم آپ کا دھماکہ کر دے گی‘‘۔ چنانچہ 28مئی1998ء کو ایٹمی دھما کے کر کے پاکستان عالم اسلام کی پہلی اور دُنیا کی ساتویں ایٹمی قوت بن گیا۔

پاکستان سے عشق نے انہیں عالم پیری میں بھی نوجوانوں جیسے جوش و جذبے اور طاقت سے سرشار کر رکھا تھا، چنانچہ وہ امریکہ، بھارت اور اسرائیل پر مشتمل پاکستان دشمن شیطانی اتحاد ثلاثہ کو ببانگ دہل للکارا کرتے تھے۔ وہ تسلسل کے ساتھ پاکستانی حکمرانوں کو باور کراتے رہے کہ جب تک بھارت پاکستان کی شہ رگ کشمیر پر قابض ہوئے، تب تک اس ازلی دشمن کے ساتھ دوستی کی پینگیں بڑھانے کی حماقت نہ کرو۔ ان کے اس اٹل موقف کی بناء پر بھارتی نیتا انہیں اپنے مذموم عزائم کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ سمجھتے تھے۔

تحریک ختم نبوت ہو یا تحریک نظام مصطفی ؐ تحریک بحالی جمہوریت ہو یا تحریک تحفظ ناموس رسالت مآب ؐ ہر موقع پر آپ کا اور آپ کے ادارے کا کلیدی کردار رہا۔ قومی مفادات کی پاسداری آپ کی زندگی کا مشن تھا۔ آپ کے وضع کردہ رہنما اصولوں کے مطابق نظریۂ پاکستان ٹرسٹ‘ نوائے وقت گروپ آف پبلی کیشنز اور وقت نیوز ٹیلی ویژن پاکستان کے نظریاتی اور جغرافیائی دشمنوں سے نبرد آزما رہے۔آپ اخباری مالکان کی تنظیم کونسل آف پاکستان نیوزپیپرز ایڈیٹرز (CPNE) اور آل پاکستان نیوزپیپرز سوسائٹی (APNS) کے متعدد بار صدر منتخب ہوئے۔

جس طرح قائداعظم محمد علی جناحؒ کو اپنی اُمیدوں اور آرزوؤں کا مرکز قرار دیتے تھے، بعینہٖ محترم ڈاکٹر مجید نظامی بھی پاکستان کو موجودہ مسائل سے نجات دلانے کے لئے نسل نو کو متحرک کرنے کے داعی تھے۔ وہ صدقِ دل سے سمجھتے تھے کہ اگر نوجوان نسل کی نظریاتی تعلیم و تربیت کا اہتمام کرکے ان کے اندر جذبۂ حرب الوطنی راسخ کردیا جائے تو آئندہ دس پندرہ برسوں میں پاکستانی قوم کو ان نوجوانوں کی شکل میں ایک ایسی قیادت میسر آجائے گی جو اس مملکت خداداد کو اس کی غایت وجود سے ہم آہنگ کرنے میں کامیاب ہوجائے گی۔ اس مقصد وحید کے حصول کی خاطر انہوں نے نظرےۂ پاکستان ٹرسٹ کے پلیٹ فارم سے نئی نسل کی نظریاتی تعلیم و تربیت کا سلسلہ شروع کرایا جس کے انتہائی مثبت اور دُوررس اثرات و نتائج مرتب ہورہے ہیں۔

آپ تحریک پاکستان ورکرز ٹرسٹ کے بانی ٹرسٹی تھے۔ آپ کی دلچسپی اور کاوشوں سے تحریک پاکستان کے کارکنوں کا بلامعاوضہ علاج معالجہ کیا جاتا ہے۔ انہیں مالی امداد دینے کے علاوہ ان کا اعتراف خدمت کرتے ہوئے گولڈ میڈل دیئے جاتے ہیں۔

کشمیریوں کی جدوجہد آزادی کا معاملہ ہو‘ بنگلہ دیش میں پاکستانی محصورین یا قدرتی آفات کے شکار پاکستانیوں کی امداد کا مسئلہ ہو یا بوسنیا کے مسلمانوں کی مدد کے لیے فنڈ ہو‘ ہر موقع پر آپ صف اول میں کھڑے نظر آتے تھے۔ حکومت پاکستان کی جانب سے آپ کی خدمات کے اعتراف کے طور پر آپ کو ستارۂ پاکستان، ستارۂ امتیاز اور نشان امتیاز دیے گئے۔ کشمیریوں کے حق خودارادیت کی مسلسل حمایت اور امداد کی بدولت کشمیریوں میں بالخصوص آپ کو مجاہد کشمیر کے لقب سے جانا جاتا تھا اور اس سلسلے میں حکومت پاکستان کی طرف سے ایوارڈ یافتہ بھی تھے۔ ملک بھر کے علماء و مشائخ کی جانب سے آپ کی دینی‘ ملی و قومی خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے ایک قومی تقریب منعقد کی گئی جس میں آپ کو چاندی کی تلوار اور چاندی کا قلم پیش کیا گیا۔آپ کی 70سالہ صحافتی خدمات کے اعتراف میں پنجاب یونیورسٹی کی جانب سے یکم اکتوبر 2012ء کو صحافت کے شعبے میں پی ایچ ڈی کی اعزازی ڈگری دی گئی۔

مجید نظامی ساری زندگی پاکستان کے اسلامی نظریاتی تشخص کے علم بردار رہے۔ اُنہوں نے ہمیشہ قائداعظَمؒ اور علامہ محمد اقبالؒ کی فکر کے مطابق پاکستان کو ایک جدید اسلامی، جمہوری اور فلاحی مملکت بنانے کا علم بلند کئے رکھا۔ سیکولرازم‘ سوشلزم اور نام نہاد روشن اعتدال پسندی کی تندوتیز آندھیوں میں بھی چراغِ مصطفوی روشن کئے رکھا۔ ان کی راست گوئی‘ نظرےۂ پاکستان سے اٹوٹ وابستگی اور عظمت کردار کے اپنے پرائے سبھی معترف تھے۔ تمام محب وطن پاکستانی ان کی طرف محبت‘ عقیدت اور اُمید بھری نگاہوں سے دیکھتے تھے اور ہم قومی معاملات و مسائل پر ان سے رہنمائی کے طلبگار ہوتے تھے۔ کلم�ۂ طیبہ کی بنیاد پر معرضِ وجود میں آنے والی اس مملکت خداداد کی خدمت اور پاسبانی کے طفیل اللہ تبارک و تعالیٰ نے انہیں ان کی زندگی میں ہی ایک لیجنڈ کی حیثیت عطا فرما دی تھی۔

آپ نے 27رمضان المبارک1435ھ بمطابق 26جولائی 2014ء کو لاہور میں وفات پائی اور قبرستان میانی صاحب میں آپ کی تدفین ہوئی۔

مزید : ایڈیشن 1