صحافت کے ایک عہد کا خاتمہ

صحافت کے ایک عہد کا خاتمہ

اداریہ

نوائے وقت گروپ کے چیف ایڈیٹر مجید نظامی 86 برس کی عمر میں لاہور میں انتقال کر گئے، وہ تین ہفتوں سے زیر علاج تھے اور ڈاکٹر پوری جانفشانی سے ان کا علاج کر رہے تھے لیکن وہ بیماری سے جانبر نہ ہو سکے اور اپنے اللہ کے حضور حاضر ہو گئے، جہاں ہرایک نے اپنی اپنی باری پر چلے جانا ہے۔ ’’نوائے وقت‘‘ کے 74 سالہ دورِ اشاعت کو واضح طور پر دو حصوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔ پہلا دور اس کے بانی ایڈیٹر حمید نظامی کا تھا جو اپنی زندگی کے آخری لمحے تک اس کے ایڈیٹر رہے۔ انہیں جوانی ہی میں بلاوا آ گیا تو مجید نظامی نے لندن سے آکر اخبار کا انتظام و انصرام سنبھالا اس وقت سے لے کر اب تک (درمیان میں پونے دو سال کے ایک مختصر عرصے کو چھوڑ کر) وہ اس کے ایڈیٹر چلے آ رہے تھے۔ان کی ادارت کا یہ عرصہ 52 سال پر محیط ہے۔ مرحوم حمید نظامی کے دور میں اخبار لاہور اور راولپنڈی سے بیک وقت شائع ہوتا تھا ان کے دور میں کچھ عرصے کیلئے اخبار کا ایڈیشن ملتان سے بھی نکلا لیکن بند ہو گیا، مجید نظامی نے جب اخبار سنبھالا تو انہوں نے اخبار کے دائرہ اثر کو تدریجاً وسیع کیا۔ 64ء کے صدارتی انتخاب میں انہوں نے مادر ملت محترمہ فاطمہ جناحؒ کی ڈٹ کر حمایت کی‘ نتیجے کے طور پر اخبار کا حلقۂ اثر و اشاعت بہت وسیع ہو گیا۔ ایوب خان کی مخالفت کا دوسرا دور اس وقت آیا جب ذوالفقار علی بھٹو نے ایوب خان کے خلاف تحریک شروع کی، آغاز میں مجید نظامی اور ان کے اخبار نے بھٹو کا کھل کر ساتھ دیا لیکن جب بھٹو نے اسلامی سوشلزم کا نعرہ لگایا تو انہوں نے بھٹو کا ساتھ چھوڑ دیا اور ان کے سیاسی نظریات کو ہدفِ تنقید بنایا۔ ایوب خان کے خلاف تحریک جاری تھی کہ انہیں بو جوہ ’’نوائے وقت‘‘ کی ادارت سے الگ ہونا پڑا اور انہوں نے ’’ندائے ملت‘‘ کے نام سے اپنا اخبار نکالا جو جون 1969ء سے لے کر مارچ 1971ء تک نکلتا رہا۔ بعد میں انہوں نے دوبارہ ’’نوائے وقت‘‘ سنبھالا اور اس ادارے کو وسیع سے وسیع تر کرتے چلے گئے۔ملتان سے اخبار کا دوبارہ اجراء کیا اور پھر کراچی تک پھیلا دیا۔ انگریزی اخبار ’’نیشن‘‘ نکالا،، ہفت روزہ ’’فیملی میگزین‘‘ جاری کیا ’’ندائے ملت‘‘ کا دوبارہ طلوع سیاسی ہفت روزے کی شکل میں ہوا، بچوں کے لئے خوبصورت رسالہ ’’پھول‘‘ کا آغاز کیا، اور جب پاکستان میں آزاد الیکٹرانک میڈیا نے جنم لیا تو ’’وقت نیوز‘‘ کے نام سے چینل کا آغاز بھی کیا۔مجید نظامی نے نوائے وقت کو نہ صرف ایک گروپ آف پبلی کیشنز کی شکل میں وسیع تر کیا بلکہ اخبار کو مالی استحکام بھی عطا کیا، جس کا فائدہ ملازمین کو بھی بہتر مراعات میں شکل میں پہنچا۔ انہوں نے ’’نوائے وقت‘‘ کے پریس میں جدید پرنٹنگ مشینوں کا اضافہ کیا اور پرنٹنگ کو نئے دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ کیا۔ان کی زندگی میں یہ ادارہ پھیل کر ایک شجر سایہ دار بن چکا تھا۔مجید نظامی صاحب نے ایڈیٹر کے منصب کو باوقار بنایا اور اسے تمکنت عطا کی۔ وہ حکمرانوں کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر حق بات کہنے کا جگرا رکھتے تھے اور اس بات کی قطعاً پرواہ نہیں کرتے تھے کہ ان کی تلخ بات سے حکمران کی جبین شکن آلود ہو جائے گی ۔نتائج سے بے نیاز ہو کر وہ حق گوئی کا فرض تا دم آخر نبھاتے رہے اور انہوں نے ادارے کی پیشانی پر لکھی جانے والی اس حدیث رسولؐ کا حق حقیقی معنوں میں ادا کیا ’’جابر سلطان کے سامنے کلمہ حق ادا کرنا بہترین جہاد ہے۔‘‘ہر صاحب الرائے شخص کی طرح ان کی رائے سے اختلاف کیا جا سکتا تھا اور ایسے لوگ موجود تھے جو ان کی رائے سے اختلاف کی جرات رکھتے تھے اور قومی تاریخ کے بعض اہم مرحلوں اور مواقع پر ان کی ادارتی رائے محلِ نظر بھی رہی ہو گی، لیکن نظریۂ پاکستان اور صحافت کی آزادی کے ساتھ ان کی ناقابل شکست کمٹمنٹ کے دوست اور دشمن سبھی قائل ہیں۔ بھارت کے ساتھ تعلقات کے ضمن میں بھی ان کا اپنا مخصوص نظریہ تھا اور جو کوئی بھی بھارت کے ساتھ تعلقات کی پینگیں بڑھانے کی بات کرتا وہ اسے آڑے ہاتھوں لیتے اور کسی بھی قیمت پر اپنی اس رائے سے دستبردار ہونے کے لئے تیار نہیں تھے کہ بھارت پاکستان کا ازلی دشمن ہے اور اس کے پنجے سے کشمیر کی شہ رگ چھڑانا پاکستان کا فرضِ اولین ہے۔ اس وقت تک بھارت سے کسی بھی قسم کے تعلقات قائم کرنے کو وہ پاکستانی مفادات کے خلاف سمجھتے تھے اور اپنے اخبار کے صفحات کو اِس کے لئے بے دریغ استعمال کرتے تھے ۔جس کسی فورم پر انہیں بات کرنے کا موقع ملتا وہاں بھی ڈنکے کی چوٹ پر اس کا اظہار کرتے تھے۔ نظریہ پاکستان فاؤنڈیشن اور ایوانِ کارکنانِ تحریک پاکستان کو انہوں نے اس مقصد کیلئے مخصوص کر رکھا تھا، یہاں سکول کے بچوں کی نظریاتی تعلیم کیلئے سمر کیمپ باقاعدگی سے لگاتے اور خود تقریبات میں شریک ہو کر بچوں کی حوصلہ افزائی کرتے۔ آخری بیماری کے دوران وہ خود تقریب میں نہ جا سکے تو اپنا پیغام اہتمام کے ساتھ بھجوایا، نظریہ پاکستان کے لئے ان کی کمٹمنٹ کا یہ واضح اظہار تھا۔مجید نظامی صاحب نے ایڈیٹر کے منصب کو وقار و احترام بخشا، ان کی شخصیت بارعب تھی ا ور ملنے والے پر بھرپور تاثر چھوڑتی تھی، انہوں نے جو بھی کام کیا وقار کے ساتھ کیا اور کوئی ایسی حرکت نہ کی جو ایڈیٹر کے انسٹی ٹیوٹ کے شایانِ شان نہ تھی۔ یہ درست ہے کہ نوائے وقت کے بانی ایڈیٹر حمید نظامی نے اس ادارے کی مضبوط بنیاد رکھ دی لیکن اِسے وسعت اور مالی استحکام مجید نظامی کے دور میں ملا۔ان کی خدمات کے اعتراف میں حکومت پاکستان نے کئی اعزازات ان کی نذر کئے لیکن انہوں نے کبھی ان اعزازات کو اپنے نام کا لاحقہ نہ بنایا، البتہ پنجاب یونیورسٹی نے اْنہیں ڈاکٹریٹ کی اعزازی ڈگری دی تو انہوں نے اس ڈگری کو اپنے نام کا مستقل حصہ بنا لیا اور اس کے بعد التزام کے ساتھ اپنے آپ کو ’’ڈاکٹر مجید نظامی‘‘ لکھتے رہے۔ یہ بالواسطہ طور پر پنجاب یونیورسٹی کی طرف سے عزت افزائی کا بر ملا اعتراف بھی تھا۔وہ طویل عرصے تک مالکان اخبارات اور ایڈیٹروں کی تنظیم میں متحرک رہے۔ آل پاکستان نیوز پیپر سوسائٹی (اے پی این ایس) اور کونسل آف پاکستان نیوز پیپرزایڈیٹرز (سی پی این ای) کے صدر بھی رہے اور اس حیثیت میں اخبارات کے مالکان اور ایڈیٹروں کے مفادات کے تحفظ کے لئے سرگرم رہے۔ بطور ایڈیٹر انہوں نے بھرپور زندگی گزاری، ان کے عہدِ صحافت کو بلا شبہ ان کے نام سے موسوم کیا جا سکتا ہے۔ وہ اپنی تمام تر خوبیوں اور بشری کمزوریوں کے ساتھ ایک بڑے آدمی تھے اور ان کے طرز عمل سے اس کا اظہار ہوتا تھا۔ وہ عہد ساز ایڈیٹر تھے۔ اب یہ دور ان کے ساتھ ہی ختم ہو گیا ہے لیکن دنیا کا یہ نظام اسی طرح چل رہا ہے جو بھی دنیا میں آتا ہے اپنا متعین کردار ادا کر کے رخصت ہو جاتاہے۔ مجید نظامی صاحب کو بھی اس سے استثناٰ حاصل نہ تھا، اب ان کا معاملہ اللہ کے سپرد ہے، اللہ ان سے رحمت کا معاملہ فرمائے، ان کی فروگزاشتوں سے در گزر کرے اور ان کو اپنے سایۂ عاطفت میں جگہ دے۔ ادارہ پاکستان ان کے پسماندگان کے لئے صبر جمیل کی دعا کرتا ہے اور ’نوائے وقت‘ اور اس کے کارکنوں کی بہتری کے لئے دعا گو ہے۔

روزنامہ پاکستان 27جولائی 2014

مزید : ایڈیشن 1