اس حمام میں۔۔۔ کئی اقامے سامنے، معززین کی فہرست آئی تو حیرت ہوگی

اس حمام میں۔۔۔ کئی اقامے سامنے، معززین کی فہرست آئی تو حیرت ہوگی

وزیراعظم میاں نواز شریف کا اقامہ کیا منظر عام پر آیا سب ہی کے اقامے باہر آنا شروع ہو گئے، سندھ میں بھی وزیراعلیٰ، وزیر داخلہ اور سابق وزیر اطلاعات کے علاوہ بہت سے بااثر افراد کے اقامے کی باز گشت سنی جا رہی ہے،سندھ میں کس کس کے پاس غیر ملکی ملازمت کا پروانہ ہے تفصیل آئے گی تو ہوش اُڑ جائیں گے اس پر آئندہ تفصیل سے بات ہو گی۔ سندھ حکومت نے ’’نیب‘‘ قوانین کی منسوخی کا بل اور نجی شعبہ اومنی گروپ کے پاور پراجیکٹ کو حکومت سندھ کے خزانہ سے وفاق کو اعتماد میں لئے بغیر ’’سبسڈی‘‘ دینے کی منظوری کے بل پر گورنر سندھ کے اعتراضات کو مسترد کر کے سندھ اسمبلی میں دوبارہ عددی اکثریت کی بنیاد پر حزب اختلاف کے شدید احتجاج اور شور شرابے کے باوجود پاس کرا لئے ہیں، جس کے بعد حکومت کا موقف ہے کہ اٹھارویں آئینی ترمیم کے بعد اب گورنر سندھ اس بل پر دستخط نہ کریں، تب بھی یہ دونوں قانون عملی طور پر سندھ میں نافذ العمل ہو جائیں گے۔حزب اختلاف نے ان بلوں کو آئین سے متصادم قرار دے کر اعلیٰ عدالتوں میں چیلنج کرنے کا اعلان کیا ہے۔ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے ’’نیب‘‘ اور ’’نیب ‘‘ کے ذمہ داروں پر سنگین الزامات عائد کرتے ہوئے اسے سندھ دشمن ادارہ قرار دے دیا ہے، مگر سوال یہ ہے کہ سندھ حکومت کو ’’نیب‘‘ سے گلو خلاصی کا خیال اس وقت کیوں نہیں آیا؟ جب سندھ کا حکمران خاندان ایوانِ صدر میں صدرِ مملکت کے منصبِ جلیلہ پر بھی فائز تھا اور سندھ، بلوچستان اور خیبرپختونخوا میں اس پارٹی کی مخلوط حکومتیں موجود تھیں، پھر اس کارکردگی پر اس وقت سوال کیوں نہیں اٹھائے جب ان کی مرضی اور منشا کے ساتھ ’’نیب‘‘ کے موجودہ چیئرمین کا تقرر آئین میں دیئے گئے طریقہ کار کے مطابق عمل میں آیا تھا۔ وزیراعلیٰ نے جو سنگین الزامات ’’نیب‘‘ اور ’’نیب‘‘ کی کارکردگی پر عائد کئے ہیں ان کی صداقت اور عدم صداقت کی بحث سے قطع نظر بنیادی سوال یہ ہے کہ سندھ کی حکمران جماعت پیپلزپارٹی یارلیمینٹیرین جس کے ارکان قومی اسمبلی اور سینیٹ میں حزب اختلاف کے قائد کے منصب پر فائز ہیں ان الزامات کو زیر غور کیوں نہیں لاتے؟ جو الزامات وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ سندھ اسمبلی کے ایوان میں کھڑے ہو کر لگا رہے ہیں۔

جونیا بل دوسری مرتبہ سندھ اسمبلی نے منظور کیا ہے اسے سپریم کورٹ میں چیلنج کیا گیا تو فیصلہ وہیں ہوگا جسے تشریح کا اختیار آئینِ پاکستان نے دیا ہے،مگر خلقِ خدا کا عمومی تاثر یہ ہے کہ ’’نیب‘‘ کے دائرہ کار کو سندھ سے بے دخل کرنے کا منظر اور پس منظر صرف سندھ حکومت کے اصل حکمران خاندان اور اس کے کاروباری مفادات کے نگرانوں کو ’’نیب‘‘ کے تحت قانون کی گرفت سے محفوظ رکھنے کے لئے حفظ ماتقدم ہے۔ دوسرا بل جسے گورنر سندھ نے مسترد کردیا ہے سندھ اسمبلی سے منظور کرایا گیا ہے وہ نجی شعبہ میں قائم پاور پراجیکٹ کو سندھ کے سرکاری خزانہ سے ’’سبسڈی‘‘ دینے کی منظوری کا ہے۔ یہ پاور پراجیکٹ پیپلزپارٹی پارلیمنٹیرین کے صدر آصف علی زرداری کے معتمد دوست اور مبینہ طور پر ان کے کاروباری مفادات کے نگران کی ملکیت ہے۔گورنر سندھ کے اِس بل پر دستخط نہ کرنے کی وجہ یہ بتائی گئی تھی کہ صوبائی حکومت وفاقی حکومت کی رضامندی اور اجازت کے بغیر از خود کسی نجی شعبہ میں قائم پاور پراجیکٹ کو سبسڈی دینے کی مجاز نہیں ہے۔واضح رہے کہ سندھ کے آئی جی اے ڈی خواجہ اور سندھ حکومت کے درمیان اختیارات کا جو تنازعہ چل پڑا ہے اس کے پس منظر میں بھی اومنی گروپ کے سربراہ انور مجید کے غیر قانونی احکامات کی ’’حکم عدولی‘‘ کی کہانی ہے۔

سندھی قوم پرست لیڈر ایاز لطیف پلیچو نے الزام لگایا ہے کہ سندھ حکومت کرپشن میں ملوث اپنے لوگوں کو قانون کی گرفت سے بچانے کے لئے ’’نیب‘ کو سندھ سے بے دخل کر رہی ہے۔ ایاز پلیچو نے یہ بھی مطالبہ کیا ہے کہ انور مجید کو انٹر پول کے ذریعے پاکستان لایا جائے۔واضح رہے کہ انور مجید آئی جی سندھ کے ساتھ تنازعہ کے بعد سے کافی عرصے سے بیرون ملک مقیم ہیں، معاملہ محض انور مجیدکا نہیں، بلکہ ان کی طرح کے بے شمار ایسے افراد کا ہے جو وقت کے طاقتور حکمران کی قربت حاصل کر کے قومی وسائل اور قومی خزانے کی بندر بانٹ کو اپنا بنیادی حق قرار دے لیتے ہیں۔سندھ خصوصاً کراچی کے باسی آج پانی کی فراہمی اور صحت و صفائی کے جس اذیت نازک عذاب سے دوچار ہیں اس کا سبب بھی مقتدر اور طاقتور طبقات کے کاروباری مفادات کی نگران شخصیات ہیں۔ میئر کراچی وسیم اختر تو یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ سندھ اور وفاقی حکومت کے تعاون سے کراچی کو پانی فراہم کرنے کا کے۔فور کا آبی منصوبہ مکمل ہونے کے بعد بھی کراچی کے باسی پانی کی بوند بوند کو ترستے رہیں گے،کیونکہ کے فور کے آبی منصوبہ کے راستے میں طاقتور لوگوں کے آنے والے ہاؤسنگ پروجیکٹ ہی ناجائز طور پر یہ پانی ہضم کر لیں گے،معاملہ محض پانی کی کمیابی ہی کا نہیں ہے، بلکہ سیوریج کے مسائل اس سے زیادہ ہیں جس کے بارے میں حال ہی میں یہ انکشاف ہوا ہے، کراچی کو فراہم کرنے والا90فیصد پانی پینے کے قابل تو کیا عام استعمال کے لئے بھی نہایت مضر ہے۔ایک اور رپورٹ کے مطابق اس پانی کے استعمال سے جلدی امراض میں ہوش ربا اضافہ ہو رہا ہے۔سپریم کورٹ کراچی بدامنی کیس میں تفصیل کے ساتھ اس ایشو کو ایڈریس کر چکی ہے،مگر بدقسمتی سے اس پر تاحال عمل درآمد نہیں ہوا ہے۔اگر ہو جاتا تو نہ صرف کراچی سے تجاوزات کے خاتمہ میں بڑی حد تک عمل ہو جاتا، مگر آج بھی کے۔ ڈی اے کے ڈائریکٹر جنرل کہہ رہے ہیں کہ کراچی میں ہزاروں ایکڑ سرکاری زمین پر ناجائز طور پر لینڈ گریبر اور اُن کے فرنٹ مین بلڈرز قابض ہیں۔ ان کا کہنا تو یہ ہے کہ ان بااثر افراد نے سرکاری زمینوں پر بڑی بڑی عمارات بھی تعمیر کر لی ہیں۔سندھ کی ایک اور بدقسمتی یہ ہے کہ یہاں 1970ء سے آج تک کوئی وزیراعلیٰ صوبائی خود مختاری کے تحت اتنے اختیارات بھی اپنی صوابدید پر استعمال نہیں کر سکا جتنے اختیارات دوسرے صوبوں کے وزرا اعلیٰ بلا روک ٹوک استعمال کرنے میں آزاد رہے ہیں۔سندھ کے موجودہ وزیراعلیٰ سید مراد علی شاہ کے بارے میں تو تاثر یہ ہے کہ وہ وزیراعلیٰ کی حیثیت سے حاصل اپنے اختیار ات بھی استعمال نہیں کرتے جتنے ان کے پیش رو وزیراعلیٰ سید قائم علی شاہ کر لیا کرتے تھے۔سندھ میں خراب حکمرانی کی اہم وجوہات میں ایک اہم وجہ ماورائے آئین و قانون وزیراعلیٰ کے اختیارات کا(غیر اعلانیہ) کٹی ہاتھوں میں جانا ہے۔ 1988ء میں محترمہ بے نظیر بھٹو صاحبہ کے حوالے سے ان کے اس وقت کے مشیر قومی اسمبلی اقبال اخوند اپنی کتاب’’محترمہ بے نظیر بھٹو کا پہلا دورِ حکومت‘‘میں یہ تحریر کر چکے ہیں، ان کا کہنا تھا کہ سندھ کے حالات درست ہوں تو کیسے ہوں، یہاں تو پانچ وزیراعلیٰ ہیں۔ ان میں ایک میری والدہ محترمہ دوسرے میرے شوہر نامدار آصف علی زرداری بھی ہیں۔آج کی صورت حال یہ ہے کہ حکم تو پارٹی کے سربراہ آصف علی زرداری کا حتمی ہے جو کسر رہ جاتی ہے وہ ان کی بہن محترمہ فریال تالپور اور ان کے ناچیز ہرکارے پوری کر دیتے ہیں۔ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کا جو بھی خیال ہو پارٹی قیادت ان کے پاس نہیں اُن کے والد محترم اور ان کی پھوپھی کے پاس ہے۔یہ منظر 2018ء کے بعد بدلے تو بدلے اِس وقت تو زمینی حقیقت یہی ہے۔

مزید : ایڈیشن 2