لاہور پھر دہشت گردوں کے نشانے پر،26شہید،50سے زائد زخمی

لاہور پھر دہشت گردوں کے نشانے پر،26شہید،50سے زائد زخمی

گزشتہ ہفتے کے دوران ہی یہ خبر نظر سے گزری کہ سیکیورٹی کے حوالے سے خبردار کیا اور بتایا گیا ہے کہ لاہور میں قریباً دس مشتبہ افراد داخل ہوئے ہیں اِس لئے عوام اور انتظامی مشینری کو خبردار رہنا چاہئے اسے ہائی الرٹ کہا گیا اور پولیس حکام نے تسلیم کیا ہے کہ ایسی اطلاع تھی اس کے باوجود ہونی ہو کر رہی اور پیر کی سہ پہر لاہور ہی کے ایک اہم علاقے میں خودکش حملہ ہو گیا۔26افراد جاں بحق اور پچاس سے زیادہ زخمی ہو گئے، دھماکے کے وقت پرانی سبزی منڈی(ماڈل ٹاؤن) نزد پُل چونگی امرسدھو میں ایل ڈی اے والے پولیس کی بھاری جمعیت کے تعاون سے آپریشن کر رہے تھے اور تعمیر شدہ ڈھانچے گرائے جا رہے تھے۔بتایا جاتا ہے کہ اس روز کا کام قریب الاختتام تھا کہ موٹر سائیکل پر خود کش حملہ آور نے پولیس کی گاڑیوں کے قریب آ کر خود کو اڑا لیا،یہ علاقہ فیروز پور روڈ سے منسلک ہے اور یوں بھی کافی لوگ آپریشن دیکھ رہے تھے۔یوں نقصان زیادہ ہوا اور قریباً ساڑھے پانچ ماہ بعد لاہور پھر سے دہشت گردی کا نشانہ بن گیا۔

اِس دہشت گردی کے حوالے سے بہت کچھ سامنے آ چکا، افسوسناک پہلو یہ ہے کہ حادثے کی فوٹیج سرکاری طور پر جاری تنصیب والے لاہور سیف سٹی کے کیمرے سے نہ مل سکی کہ قریب ارفع کریم آئی ٹی پارک کے پاس نصب کیمرہ کام ہی نہیں کر رہا تھا اِس لئے جو فوٹیج ملی وہ علاقے میں نصب دوسرے سی سی ٹی وی کی تھی اب یہ بتا دیا گیا ہے کہ سیف سٹی پروگرام جس کی بہت دھوم ہے۔ 12ارب روپے کی لاگت سے2016ء میں مکمل ہونا اور ابتدائی منصوبے کے مطابق آٹھ ہزار کیمرے لگائے جانا تھے جو بتدریج بڑھ کر قریباً 40ہزار ہو جاتے اور اس سے پورا ضلع کور ہوتا، لیکن سال گزر گیا،لاگت بڑھ گئی اور ابھی تک صرف 1500کیمرے لگائے جا سکے اور یہ منصوبہ تاحال مکمل نہیں ہوا،اس کے علاوہ کارکردگی کا یہ عالم ہے کہ جو مرکزی سڑکیں کھود کر تاریں ڈال دی گئی تھیں ان کے روڈ کٹ کی مرمت نہیں ہوئی، جس جس جگہ یہ روڈ کٹ ہیں وہاں حادثات ہوتے اور گاڑیوں کے ٹائر خراب ہوتے ہیں۔

حادثے نے لاہور کو غمگین اور افسردہ کر دیا، شہر سوگ میں ڈوبا ہوا ہے،مزید پولیس ملازم فرض پر جان قربان کر گئے ہیں،شہری پوچھ رہے ہیں کہ دشت گردی ختم کرنے کے دعوے کیا ہوئے،پھر غیر محفوظ ہونے کا تاثر پیدا ہو گیا اور جن ’’طالبان‘‘ نے ذمہ داری قبول کی وہ تو مطمئن اور خوش ہوں گے۔ بہرحال صرف لاہور ہی نہیں،مُلک بھر کے شہریوں نے مذمت کی اور پوچھا ہے کہ محکموں کے درمیان ہم آہنگی کی صورت کیا ہے؟

پاناما لیکس کے حوالے سے جے آئی ٹی کی تحقیق پر سماعت مکمل ہو جانے کے بعد بھی سیاسی گرما گرمی میں کمی نہیںآئی،بلکہ یہ عدالتی معاملہ سیاسی تو تھا اب اور بھی زیادہ ہو گیا اور محاذ آرائی بڑھ گئی۔سلسلہ تو تحریک انصاف نے شروع کیا تھا، تلخی بھی تحریک انصاف اور مسلم لیگ(ن) ہی کے درمیان تھی،لیکن یہ بتدریج پھیلنے لگے اور اب پاکستان پیپلزپارٹی بھی اِس میدان میں اُتر آئی ہے، پہلے تو قائد حزب اختلاف سید خورشید شاہ مشورے دیتے رہے تاہم بتدریج بات پیپلزپارٹی کے حلقوں میں ’’فرینڈلی اپوزیشن‘‘ کے طعنے تک پہنچی تو پالیسی میں تبدیلی لانا پڑی، چنانچہ پاناما لیکس کیس کے حوالے سے موقف میں تبدیلی کی گئی۔ گزشتہ ہفتے کے دوران چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے مشاورت کی اور بالآخر وزیراعظم محمد نواز شریف سے استعفے کا مطالبہ کر دیا اور اس پر زور دینے کے لئے ریلیاں نکالنے کا فیصلہ کیا۔گزشتہ اتوار کو پنجاب کے مختلف اضلاع میں احتجاجی جلوس نکالے اور مظاہرے کئے گئے۔لاہور میں احتیاط کا مظاہرہ کیاگیا اور لاہور پریس کلب سے اقبال کمپلیکس تک جلوس نکالا گیا۔اس کی قیادت لاہور کے صدر الحاج عزیز الرحمن چن نے کی،اس مظاہرے کی معقول تیاری کی گئی تھی اِس لئے قریباً تمام قابلِ ذکر رہنما شرکت کے لئے آ گئے، کارکنوں کی بھی معقول تعداد تھی،بینرز اور پلے کارڈ بھی تھے، خواتین کی جمعیت بھی موجود تھی۔یوں یہ ایک پُرجوش مظاہرہ ثابت ہوا،تاہم اگر دیکھا جائے تو یہ ابتدا ہے،عوام کی حد تک شرکت کمزور تھی،اس کے باوجود رہنما مطمئن ہیں کہ یہ آغاز ہے بات آگے بڑھی تو پذیرائی بھی ممکن ہے۔ دوسری طرف حکومت نے بھی اپنا رویہ انتظامی بنا لیا ہے۔ ساہیوال اور گوجرانوالہ میں دفعہ144 کی خلاف ورزی پر16ایم پی او کے تحت مقدمات درج کر لئے گئے ہیں، اور بعض گرفتاریاں بھی ہوئی ہیں اس پر بلاول بھٹو زرداری نے سخت بیان بھی دیا اور اعلان کیا کہ پیپلزپارٹی نہ پہلے کبھی گھبرائی نہ اب ایسا ہو گا، مقدمات اور گرفتاریاں ڈرا نہیں سکتے، بلاول کے مطابق احتجاج جمہوری حق اور بنیادی حقوق میں شامل ہے۔بہرحال یہ سلسلہ مزید بڑھے گا کہ ’’لہو گرم رکھنے کا ہے اک بہانہ‘‘۔

اس سے پہلے مسلم لیگ(ن) کی طرف سے بھی اظہارِ یکجہتی کیا گیا اور الحمرا ہال میں شعبہ خواتین کا اجتماع ہوا،شرکت بھرپور تھی اور خواتین نے وزیراعظم محمد نواز شریف کے حق میں نعرہ بازی بھی بہت کی اور ان پر مکمل اعتماد کا اظہار کیا گیا، اس کے ساتھ ہی مسلم لیگ(ن)کو وزیر داخلہ چودھری نثار کی خاموشی اورپھر پریس کانفرنس کے اعلان نے پریشان کیا اور ہمارے مُلک کے دستور کے مطابق ایسے حضرات بھی پیدا ہو گئے جو موقع سے فائدہ اٹھانا جانتے ہیں۔لاہور پریس کلب کے سامنے دو بینرز آویزاں کئے گئے جو کسی پاکستان این جی او کی طرف سے ہیں اور ان پر تحریر کنندہ کے فون نمبر بھی لکھے ہوئے ہیں،ان بینروں میں وزیراعظم پنجاب محمد شہباز شریف کو وزیراعظم بنانے کا کہا گیا اور پنجابی میں تحریر ہے ’’میاں! جی! جان دیو! شہباز شریف نوں آن دیو‘‘ اگرچہ مسلم لیگی حلقوں نے اس سے قطعاً لاتعلقی کا اظہار کر دیا کہ قیادت کا ہر فیصلہ قبول ہو گا،تاہم یہ بینرز گزشتہ روز تک لگے ہوئے تھے اُتارے نہیں گئے۔

زندہ دِلوں کے اس شہر میں تھڑ دلے بھی بہت تھے، ٹینکرز ایسوسی ایشن نے اپنے مطالبات کے لئے پیر سے ہڑتال کی اور بندرگاہ سے شمال کی طرف پٹرولیم سپلائی متاثر ہو گئی،انتظامیہ اور حکومت کی طرف سے باقاعدہ اعلان کیا اور بتایا گیا کہ پٹرول وافر مقدار میں موجود ہے اس کے باوجود بعض علاقائی پٹرول پمپوں پر بھیڑ دیکھنے میں آئی، لوگ پٹرول حاصل کر لینا چاہتے تھے، حالانکہ متوقع طور پر سپلائی مکمل بند نہیں ہو رہی کہ پی ایس او کا اپنا نظام بھی ہے۔یوں بھی یہ ہڑتال زیادہ دن تک نہیں چل سکتی کہ آئل ٹینکر والوں میں بھی اختلاف موجود ہے۔

ایسے ہی ایک ہڑتال ریلوے کے انجن ڈرائیور حضرات نے کی جو بالکل اچانک تھی، اس سے مسافروں کو بہت پریشانی ہوئی۔اگرچہ ریلوے انتظامیہ نے متبادل انتظام کر کے گاڑیاں چلوائیں،لیکن پھر بھی بہت تاخیر ہوئی اور مسافر بچوں سمیت خوار ہوئے۔گاڑیاں آٹھ، آٹھ گھنٹے کی تاخیر سے پہنچیں۔ اس سلسلے میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ ڈرائیور حضرات اور انتظامیہ ہر دو طرف سے جلد بازی اور بدنظمی کا مظاہرہ کیا گیا،ڈرائیور حضرات کو مطالبات کے لئے نوٹس دینا اور مطالبات کے جائز ہونے کا جواز بھی پیش کرنا تھا اور انتظامیہ کو ہڑتال سے قبل بات چیت کر لینا چاہئے تھی۔چہ جائیکہ ہڑتال کے بعد گرفتاریاں کی جائیں اور انسداد دہشت گردی کی دفعات کا اطلاق کیا جاتا،بہرحال بہتر ہوا کہ مذاکرات ہی کا فیصلہ ہوا،گرفتار رہا کئے گئے اور پھر مذاکرات ہوئے کہ یہی درست اقدام ہے، عوام کو پریشان کرنے سے ڈرائیور حضرات کو عوامی حمایت نہیں مل سکتی اور انتظامیہ کو عارضی انتظام کے تحت ہڑتال کو جزوی کرا لینے سے فائدہ نہیں پہنچتا، بہتر عمل اور راستہ مذاکرات ہی ہیں اور یہ روپہ اور اقدام بھی درست ہے کہ ناجائز مطالبہ نہیں مانا جائے گا، ملازمین کو خود بھی غور کرنا چاہئے۔

مزید : ایڈیشن 2