سب نگاہیں، پانامافیصلے پر ، جلدسنایا جائے ، یوسف رضا گیلانی ، حکومت اپنا وزیر اعظم لاکر مدت پوری کرے، شاہ محمود

سب نگاہیں، پانامافیصلے پر ، جلدسنایا جائے ، یوسف رضا گیلانی ، حکومت اپنا ...

جمہوریت کا حسن دراصل مقامی حکومت ہوا کرتی ہیں جبکہ یہ مقامی علاقوں سے شہروں، صوبوں اور پھر وفاق تک سیاستدان کی نرسری کا کردار بھی ادا کرتی ہیں دنیا بھر میں جہاں جہاں جمہوریت ہے وہاں مقامی حکومتوں کا کردار بہت فعال ہے مگر بڑی بد قسمتی رہی ہے کہ اس وقت قومی سطح پر قیادت کرنے والے بیشتر سیاستدان خود اسی چکی سے پس کر نکلے ہیں مگر اب انہوں نے اس نظام کو اس طریقے سے دیوار کے ساتھ لگایا ہوا ہے کہ یہ نہ تو تیتر ہے اور نہ ہی بٹیر نظر آتا ہے اور اس پر مستزاد یہ ہے کہ اس مرتبہ ’’بوجوہ‘‘ بیورو کریسی نے اس پر مکمل گرفت کر لی ہے اور خصوصاً جنوبی پنجاب میں اس کا بہت ہی برا حال ہے ایسی کارروائیاں بھی جاری ہیں جو براہ راست مسلم لیگ ن حکومت کو سخت نقصان پہنچا رہی ہیں دن کے وقت کسی بھی ریسٹورنٹ، ہوٹل یا پلازہ کو سیل اور شام کو خود ہی جا کر ڈی سیل کر دیں یہ پریکٹس بہت ہی زوروں پرہے جس کا تدارک شاید ضلعی انتظامیہ بھی نہیں کرنا چاہتی کیونکہ ان کے مفادات بھی شاید اسی میں ہی پوشیدہ ہیں ادھر ملتان کے تاریخی ورثہ ابن قاسم باغ میں واقع آرٹ گیلری سے بہت ہی نایاب قسم کی تصاویر گذشتہ دنوں گم ہو گئیں جس کی ذمہ داری نہ تو میونسپل کارپوریشن لے رہی ہے اور نہ ہی ضلعی انتظامیہ اس حوالے سے کوئی بات سننے کو تیار ہے ٹھیک اسی طرح پہلے تاریخی شاہی عید گاہ کے ساتھ ہوا اب یہاں ایسا ہو گیا جبکہ کچھ عرصہ قبل ملتان میں قدیمی و تاریخی شیش محل کو بھی منہدم کر دیا گیا تھا اور قبل ازیں قدیمی اور تاریخی ایمرسن کالج جو اس وقت خواتین یونیورسٹی ہے کی اس بلڈنگ کو بھی منہدم کر دیا گیا جس میں نوبل انعام یافتہ سائنس دان ڈاکٹر عبدالسلام تعلیم اور تجربات کرتے رہے تھے اب میونسپل کارپوریشن اجلاس میئر ملتان چوہدری نوید الرحمن ارائیں کی طرف سے وزیر اعظم نواز شریف کے حق میں اور اظہار یکجہتی کے سلسلے میں تقریر شروع کرنے اور قرار داد پیش کرنے پر ہنگامہ آرائی کا شکار ہو گیا اپوزیشن نے گو نواز گو کے نعرے لگائے معاملات کنٹرول نہ ہونے پر ڈپٹی میئر اور کنوینئر منور احسان قریشی کو اجلاس ملتوی کرنا پڑا اجلاس میں اپوزیشن اور کچھ کوحکومتی ارکان نے شہر میں پارکوں، سڑکوں، سیوریج اور صفائی کی حالت زار پر یکجا ہو کر شہر کی حالت بہتر بنانے کی طرف توجہ دلائی لیکن حکمران جماعت کے بیشتر ارکان ملتان کی ترقی کے حوالے سے مکمل چپ رہے اپوزیشن ممبر قربان فاطمہ نے مطالبہ کیا کہ میئر کو ملتان کی ترقی کے سلسلے میں فنڈز مساویانہ تقسیم کرنے چاہئیں پارکوں کی حالت انتہائی خراب ہے شاہ رکن عالم کالونی میں جناح پارک کے بلاک کھنڈرات کا منظر پیش کر رہے ہیں سیوریج، صفائی اور پینے کے پانی کے مسائل کی طرف توجہ نہیں دی جا رہی بیشتر ارکان نے کہا کہ انہیں ترقی کے لئے 10 لاکھ روپے تک کے فنڈز دینے کے اعلانات ہوتے ہیں لیکن 2 لاکھ روپے بھی نہیں مل پاتے ارکان نے کہا کہ ملتان کی ترقی کے لئے مل کر کام کرنا ہو گا۔دریں اثناء سابق وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی نے قرار دیا پوری قوم کی نگاہیں پانامہ کیس کے فیصلے پر لگی ہوئی ہیں مختلف چہ میگوئیاں ہو رہی ہیں عدالت محفوظ سنادے کہ سکون ہومیڈیا سے گفتگو میں انہوں نے اداروں میں تصادم کے خطرے کی نشاندہی کی اور کہا کہ میں اس بات کے حق میں ہوں کہ موجودہ حکومت اپنی آئینی مدت پوری کرے اور الیکشن 2018 میں ہوں انہوں نے پیپلز پارٹی سمیت سب سیاسی جماعتیں بہت متحرک ہیں مگر انتخابی اصلاحات پر کام نہیں ہو رہا ہے تمام سیاسی جماعتوں کو مل کر انتخابی اصلاحات پر کام کرنا چاہیے کہ دھاندلی نہ ہو سکے الیکٹرول ریفارمز نہ ہونے پر پھر دھاندلی ہو گی اور ہنگامہ ہو گا ابھی ایک پانامہ آیا ہے ایسے اور بہت سے پانامے آئیں گے کیا ہر بار جے آئی ٹی بنے گی؟ کرپشن کے خاتمہ کے لئے پارلیمنٹ سے قوانین پاس کرانا ہوں گے۔ 2018 کے الیکشن اپنے منشور پر لڑیں گے جبکہ بلوچستان میں بھارتی مداخلت کی بات سب سے پہلے انہوں نے کی تھی انہوں نے کہا کہ پاکستان کمزور نہیں ہے پاکستان مضبوط ہاتھوں میں ہے اور اپنا دفاع بخوبی کر سکتا ہے۔ کلبھوشن کا فیصلہ ملکی قوانین کے مطابق ہو گا۔ سید یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ پی پی پی کے چیئر مین بلاول بھٹو زرداری نے گو نواز گو تحریک کی کال دیدی ہے جس پر ملک بھر میں احتجاجی مظاہرے ہوئے تاہم لیڈر آف اپوزیشن سید خورشید شاہ کا کیا موقف ہے ان کے علم میں نہیں ہے انہوں نے کہا کہ برسراقتدار جماعت کا یہ کہنا کہ ان کے خلاف سازش ہو رہی ہے تو حکمرانوں کو چاہیے کہ وہ عوام کے سامنے اس سازش کو بے نقاب کریں چوہدری نثار علی خان کے حوالے سے ان کا کہا تھا کہ کہ چوہدری نثار نے ابھی تک استعفیٰ دیا ہے نہ ہی انہوں نے پروگرام کے مطابق پریس کانفرنس کر کے اپنا موقف بیان کیا ہے اس تاثر کو غلط قرار دیا کہ پیپلز پارٹی فرینڈلی اپوزیشن ہے اور واضح الفاظ میں کہا کہ پیپلز پارٹی فرینڈلی اپوزیشن تھی نہ ہے۔

تحریک انصاف کے مرکزی وائس چیئرمین مخدوم شاہ محمود حسین قریشی نے آئندہ ہفتے پانامہ کیس کا فیصلہ آنے کی توقع ظاہر کی ہے۔ نواز شریف کے علاوہ ایفی ڈرین کیس میں ملوث لوگ بھی کٹہرے میں آئیں گے ۔ احتساب سب کا ہونا چاہیے خواہ لوٹ مار کرنے والوں کا تعلق کسی بھی سیاسی جماعت سے ہو ۔ میاں نواز شریف کا احتساب ابتدا ہی نہیں ’’آغاز محبت ‘‘ ہے ۔ نگران سیٹ اپ یا قبل از وقت الیکشن کا کوئی امکان نہیں ، مسلم لیگ (ن)2حصوں میں تقسیم ہوچکی ہے ۔ ’’بچہ ‘‘ گروپ اداروں کے خلاف محاذ آرائی چاہتا ہے ان خیالات کا اظہار انہوں نے خواجہ رضوان عالم کی والدہ کی نمازجنازہ کے موقع پر میڈیا سے بات چیت میں کیا ۔ مخدوم شاہ محمود حسین قریشی نے مزید کہا کہ سپریم کورٹ نے نواز شریف کو دوبار اپنا موقف پیش کرنے کا موقع دیا مگر وہ منی ٹریل ثابت نہیں کرسکے اور عدالت کو دھوکہ دیتے ہوئے جعلی دستاویزات پیش کیں ۔ چنانچہ اب تو جو تحقیقات سامنے آئی ہے اس میں میاں نواز شریف آئین کے آرٹیکل 63,62کی زد میں آتے ہیں اور نااہلی کے مستحق ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ نواز شریف نااہل ہوں گے تو انصاف اور احتساب ہوگا ۔ انہوں نے کہا کہ یہ تاثر غلط ہے کہ جمہوریت کے خلاف کوئی سازش ہورہی ہے بلکہ جمہوریت کو کوئی خطرہ نہیں ہے ۔ مسلم لیگ (ن) کے پاس ایوان میں واضح اکثریت ہے وہ اپنا نیا وزیراعظم منتخب کریں ہمیں کیا اعتراض ہو سکتا ہے ۔ جب ان سے سوال کیا گیا کہ کیا اپوزیشن مسلم لیگ (ن) کے نئے وزیراعظم کا مقابلہ کرے گی ۔ مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہا کہ متحدہ اپوزیشن کا پانامہ لیکس پر ایک موقف ہے ۔ البتہ نے وزیراعظم کے انتخاب کے حوالے سے کوئی لائحہ عمل مرتب نہیں کیا گیا جب حکومت کی حکمت عملی سامنے آئے گی تو متحدہ اپوزیشن کے سامنے نئے وزیراعظم کے انتخاب کا معاملہ پیش کیا جائے گا اور توقع ہے کہ اس پر بھی متفقہ لائحہ عمل اختیار کیا جاسکتا ہے ۔

تحریک انصاف کے سابق صدر سینئر سیاستدان مخدوم جاوید ہاشمی نے پھر دہرایا ہے کہ میں نے عمران کو ہمیشہ کہا کسی کے کہنے پر چڑھائیاں نہ کریں ، نواز شریف کو پیسہ باہر بھیجنے سے منع کیا تھا، خان صاحب مائنس ون کی بات کرتے ہیں مگر مجھے مائنس چار نظر آرہے ہیں ۔ پیپلز پارٹی جنوبی پنجاب کے ضلعی نائب صدر خواجہ رضوان کی والدہ کی قل خوانی کے موقع پر مخدوم جاوید ہاشمی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ میرا سیاسی تجربہ کہتا ہے چودھری نثار پارٹی نہیں چھوڑیں گے ۔ وہ محنت سے سیاست کا راستہ نکالنا جانتے ہیں ۔ وزیرداخلہ کو پارٹی نہیں وزارت چھوڑنی چاہیے مخدوم جاوید ہاشمی کا کہنا تھا کہ چودھری نثار ، سمجھدار اور عملی سیاست کے طالبعلم ہیں جن کی سوچ کو اچھی طرح جانتا ہوں ۔ اچھے سیاستدان قابل عزت آدمی ان کا احترام کرتا ہوں ۔ وفاقی وزیر داخلہ اداروں سے ٹکراؤ نہیں چاہتے ۔ چودھری نثار پارٹی کے اندر کے آدمی ہیں وہ پارٹی نہیں چھوڑیں گے۔ انہوں نے کہا کہ میں کسی بھی سیاسی جماعت میں فاروڈ بلاک کی حمایت نہیں کرتا کیوں کہ فاروڈ بلاک بنانا سیاسی سازش ہوتی ہے ۔چودھری نثار کوئی فارورڈ بلاک نہیں بنائیں گے ۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ مجھے پی ٹی آئی میں فارورڈ بلاک بنانے کا کہا گیا جس کے میں سخت خلاف ہوں فارورڈ بلاک کسی بھی پارٹی کے خلاف سازش ہوتی ہے ۔ جاوید ہاشمی کا کہنا تھا کہ پانامہ پر تو فٹی فٹی ہے مگر عمران خان تو سو فیصد اپنی سیاست فارغ کرچکے ہیں ۔ جبکہ میں کبھی بھی اندر کا آدمی نہیں رہا ۔ میں سڑک کا آدمی ہوں اور میں کسی کو بھی پسند نہیں تھا۔ ***

مزید : ایڈیشن 2