پاک فوج نے راجگال آپریشن میں شاندارفتوحات حاصل کیں

پاک فوج نے راجگال آپریشن میں شاندارفتوحات حاصل کیں

پاک افغان سرحد پر انتہائی دشوار گزار پہاڑی سلسلے راجگال میں داعش کیخلاف جاری آپریشن خیبر فور نے چند دنوں میں قابل ذکر اور لائق تحسین کامیابیاں حاصل کی ہیں کم و بیش ایک ہفتے کے اندر پاک فوج نے راجگال کا 90 مربع کلومیٹر کا علاقہ داعش کے جنگجوؤں سے آزاد کرا لیا اور بلند ترین چوٹی پر پاکستان کا پرچم لہراتے ہوئے حکومتی رٹ بحال کر دی۔ پاک فوج نے پرائی، شارکلے درے کے وسیع علاقے پر مشتمل دیہات کو دہشتگردوں سے کلیئر کر دیا۔ راجگال میں دہشتگردوں کے 2 مضبوط ٹھکانوں پر قبضہ کر لیا گیا پاک فوج اپنی شاندار کامیابیوں کے ساتھ اپنی پیش قدمی جاری رکھے ہوئے ہے۔ اس آپریشن میں پاک فوج کو دہشتگردوں کی جانب سے مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا جس کے نتیجے میں پاک فوج کے 2جوان شہید اور متعدد زخمی ہوئے جبکہ داعش کے ہلاک دہشتگردوں کی تعداد 30 سے زائد بتائی جا رہی ہے ہلاک ہونے والے داعشی دہشتگردوں میں ایک اہم ترین اور سفاک کمانڈر مظفر اورکزئی بھی شامل ہے مظفر اورکزئی کی سفاکیت کا عالم یہ تھا کہ تنظیمی مخالفین سمیت ہر قسم کے مخالفین کے سر قلم کر کے ان کے ساتھ کھیلنا اس کا محبوب مشغلہ تھا اسی وجہ سے مظفر اورکزئی کو داعش میں غیر معمولی اہمیت اور مقام حاصل تھا۔ تاہم پاک فوج کے ساتھ سامنا ہونے پر اس کی ساری کاریگری ایک گھولی سے ڈھیر ہو گئی آخری اطلاعات تک پاک فوج کے جوان مسلسل پیش قدمی کر رہے ہیں۔ مظفر اورکزئی کی ہلاکت سے پہلے پاک فوج نے راجگال کے گھنے جنگلات اور سنگلاخ پہاڑوں کو سر کرتے ہوئے 13 ہزار فٹ بلند چوٹی پر یخ کنداؤ پر قبضہ کر کے پاکستانی پرچم لہرایا تو اللہ اکبر کے نعروں سے فضاء گونج اٹھی اور مقامی آبادی نے نعروں جو بھرپور جواب دیتے ہوئے پاک فوج کی حمایت کا اعادہ کیا۔ مذکورہ علاقہ گھنے جنگلات، دشوار گزار پہاڑی سلسلہ اور بلند ترین پہاڑی راستوں کے باعث دہشتگردوں کی آمد و رفت اور اہم ترین محفوظ پناہ گاہ سمجھی جاتی تھی دہشتگردوں کی اکثریت اپنے ساتھیوں کی لاشیں اور گولہ بارود کا بڑا ذخیرہ چھوڑ کر افغانستان کی جانب پسپا ہو گئی مذکورہ علاقے پر پاک فوج کے قبضے کے بعد پاک افغان سرحد کے درمیان دہشتگردوں کا اہم زمینی رابطہ منقطع ہو گیا دلچسپ بات یہ ہے کہ پاک فوج نے جب راجگال میں آپریشن خیبر فور کا اعلان کیا تو بیشتر افغان حکام نے اس آپریشن کی مخالفت کرتے ہوئے اسے روکنے کا مطالبہ کیا مگر پاک فوج کی طرف سے شاندار کامیابی کے بعد علاقے کے محل وقوع بارے حقائق سامنے آنے پر اس بات کا اندازہ با آسانی لگایا جا سکتا ہے کہ افغان حکام داعش کے دہشتگردوں کے سہولت کار بلکہ سر پرست بنے ہوئے ہیں اور ان کے محفوظ ترین پناہ گاہیں چھیننے کے خوف سے قبل از وقت چلانا شروع ہو گئے تھے یہ بات اب کسی سے ڈھکی چھپی نہیں رہی کہ افغانستان میں امریکہ اور افغان حکام مل کر داعش کی پرورش کر رہے ہیں اور اس بدنام زمانہ تنظیم کو اپنے مقاصد کے لئے استعمال کرنے کے بعد دہشتگردوں کی ہر کارروائی کی ذمہ داری پاکستان پر تھوپ دیتے ہیں۔ افغانستان بلکہ امریکہ اور بھارت کو بھی رنج ہے ایسے حالات میں ضرورت اس بات کی ہے کہ ان مشکل ترین مگر شاندار فتوحات کو مستحکم کرنے کے لئے ملحقہ سرحد اور راستوں پر باڑ لگانے کا کام برق رفتاری سے کر کے وہاں چوکیاں قائم کی جائیں تاکہ افغانستان سے آنے والے دہشتگردوں اور گولہ بارود کا راستہ مستقل بنیادوں پر بند ہو سکے پوری قوم دہشتگردوں کے خلاف جنگ میں اپنی افواج کے شانہ بشانہ کھڑی ہے اور ملک و قوم کی خاطر قربانیاں دینے والے جوانوں اور افسروں کو خراج عقیدت پیش کرتی ہے۔

آپریشن خیبرفور میں بدترین شکست کے بعد دہشتگردوں نے قبائیلی علاقوں سمیت بندوبستی علاقوں میں سکیورٹی فورسز کے جوانوں کو نشانہ بنانے کا سلسلہ تیز کر دیا ہے خیبر ایجنسی کی تحصیل باڑہ کے علاوہ باجورڑ ایجنسی جنوبی وزیرستان اور دیگر مختلف مقامات پر سکیورٹی فورسز پر حملے کئے گئے جن کے نتیجے میں متعدد جوان شہید و زخمی ہوئے۔ بندوبستی علاقوں میں پولیس کے جوانوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے ایک طرف جوانوں کی شہادتوں کا سفر جاری ہے تو دوسری طرف پر عزم فوج نے فتوحات کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے ۔امید کی جاتی ہے کہ پاک فوج بہت جلد پورے ملک کو دہشت گردی کے وجود سے پاک کردے گی اور ملک میں ایک مرتبہ پھر ویسا ہی امن ہوگا جیسا 1980ء سے پہلے تھا۔ (انشاء اللہ) ۔

دوسری طرف تحریک انصاف کی صوبائی حکومت کے خلاف مالی بے ضابتگیوں کی شکایات میں غیر معمولی اضافہ ہوگیا صوبائی حکومت کے اپنے بنائے گئے احتساب کمیشن میں مختلف محکموں کے خلاف 798 شکایات موصول ہوئی ہیں، جن میں 324 شکایات پر عملدرآمد شروع کردیا گیا کرپشن کی ان شکایات میں بعض وزراء، ایم پی اسیز، بیوروکریٹس اور پولیس افسران بھی شامل ہیں ٹیوٹا کے زیر انظام ٹیکنیکل ووکیشنل اداروں کی ایسوسی ایشن نے چیف جسٹس آف پاکستان چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ کورکمانڈر پشاور اور وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے نام ایک شکایت ارسال کی ہے، جس میں سنگین مالی بے قائدگیوں کی نشاندہی کرتے ہوئے امین نامی ایک شخص کو ذمہ دار قرار دیا اور انکشاف کیا ہے کہ ٹیوٹا میں 600ملین روپے غلط طریقے سے استعمال ہوئے امین نامی شخص نے ٹیکنیکل ووکیشنل سنٹر مردان سے کروڑوں کی مشینری نکال لی اور مذکورہ ادارئے کو کھنڈر میں تبدیل کردیا جبکہ مذکورہ شخص نے سرکاری فنڈ سے 220 کے وی کا ٹرانسفارمر خرید کر اپنے گاؤں میرکھنڈر یار حسن صوابی میں لگایا ہے۔ ایسوسی ایشن نے اس تمام بے قاعدگیوں کی ذمہ داری امین نامی شخص پر عائد کرتے ہوئے اس کے خلاف مقدمات قائم کرنے کی درخواست کی ہے اسی طرح محکمہ صحت اور محکمہ تعلیم میں سنگین الزامات سامنے آئے ہیں تاہم وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا پرویز خٹک جنہیں ان تمام معاملات سے لاعلم رکھا گیا ہے وہ مسلسل سرکاری اداروں اور ملازمین کی بہتری کے لئے اقدامات کی منظوری دیتے رہے ہیں حال ہی میں انہوں نے تمام سرکاری ملازمین کی تنخواہوں کو بہتر کرنے اور سکیل اپ گریڈ کرنے کا بھی حکم دیا ہے، مگر بدقسمتی سے بیوروکریسی میں امین جیسے لوگ بیٹھے ہیں جو وزیر اعلیٰ کے احکامات پر اس کی اصل روح کے مطابق عمل درآمد کرنے کی بجائے رکاوٹیں پیدا کرکے حکومت کے لئے مشکلات پیدا کرنے کی سازشوں میں مصروف ہیں۔

مزید : ایڈیشن 2