مادہ چیتے تنہا جبکہ نر غول میں رہنا پسند کرتے ہیں

مادہ چیتے تنہا جبکہ نر غول میں رہنا پسند کرتے ہیں
 مادہ چیتے تنہا جبکہ نر غول میں رہنا پسند کرتے ہیں

  

تہران(مانیٹرنگ ڈیسک)چیتا دنیا کا سب سے تیز رفتار جانور ہے۔ یہ سو کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے دوڑ سکتا ہے۔آج پوری دنیا میں صرف افریقہ میں چند چیتے باقی بچے ہیں۔ انڈیا سمیت ایشیا کے کم و بیش تمام ممالک سے یہ جانور ناپید ہو چکا ہے۔ہم چیتے کے حوالے سے عام طور اتنی باتیں جاننے کے دعوے کرتے ہیں مگر چیتے سے منسلک کچھ اور باتیں بھی ہیں، جو شاید آپ نہیں جانتے۔ آج بھی ایران میں 60 سے 100 کے درمیان چیتے پائے جاتے ہیں۔ یہ وسطی ایران کے پٹھاری علاقوں میں رہتے ہیں۔ایک وقت تھا جب چیتے انڈیا، پاکستان اور روس کے ساتھ ساتھ مشرق وسطیٰ کے ممالک میں بھی پائے جاتے تھے۔ایشیائی نسل کے چیتے کے سر اور پاؤں چھوٹے ہوتے ہیں۔ ان کی کھال اور روئیں موٹے ہوتے ہیں۔ مادہ چیتے تنہا جبکہ نر چیتے غول میں رہنا پسند کرتے ہیں، افریقی چیتوں کے مقابلے میں ان کی گردن بھی موٹی ہوتی ہے۔ ایشیائی چیتے بہت بڑے دائرے میں زندگی بسر کرتے ہیں جبکہ عام طور پر یہی سمجھا جاتا ہے کہ چیتے چھوٹے سے علاقے تک محدود رہتے ہیں۔چیتوں کے بچے بڑی مشکل سے بچتے ہیں۔ یہ اس جانور کے ختم ہونے کی بڑی وجہ ہے۔ افریقہ میں 90 کی دہائی میں ہونے والے ایک تجربے سے پتہ چلا تھا کہ چیتوں کے 95 فیصد بچے، بالغ ہونے سے پہلے ہی مر جاتے ہیں۔ یعنی چیتے کے 100 بچوں میں سے پانچ ہی بڑے ہونے تک زندہ رہتے ہیں۔جبکہ سنہ 2013 میں افریقہ کے گال گاڈی پارک میں پائے جانے والے چیتوں پرتحقیق سے پتہ چلا تھا کہ ان کے بچوں کے بچنے کی امید 36 فیصد تک ہی ہوتی ہے۔

مزید : میٹروپولیٹن 4