حقیقی خوشی کا راز، فارغ اوقات یا دنیاوی اشیا؟

حقیقی خوشی کا راز، فارغ اوقات یا دنیاوی اشیا؟
 حقیقی خوشی کا راز، فارغ اوقات یا دنیاوی اشیا؟

  

لندن(مانیٹرنگ ڈیسک)ایک تجزیے سے معلوم ہوا ہے کہ دنیاوی اشیا پر خرچہ کرنے والوں سے زیادہ اْن لوگوں کو حقیقی خوشی اور ذہنی اطمیان حاصل ہوتا ہے جو اپنا وقت بچانے کے لیے پیسہ خرچ کرتے ہیں۔ماہرین نفسیات کے مطابق وقت کی کمی کے احساس سے پیدا ہونے والے ذہنی دباؤ سے صحت پر منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں اور یہ ذہنی پریشانی اور بے خوابی کا باعث بھی بنتے ہیں۔اس کے باوجوہ بہت سے صاحب ثروت افراد بھی ان کاموں کے لیے خرچ کرنے میں ہچکچاہٹ محسوس کرتے ہیں جو وہ خود کرنا پسند نہیں کرتے۔کینیڈا کے صوبے برٹش کولمبیا میں واقع یونیورسٹی کی ماہرِ نفسیات ڈاکٹر الیزبتھ ڈن کا کہنا ہے کہ متعدد تجزیوں سے یہ نتائج سامنے آئے ہیں کہ جو لوگ فراغت کے اوقات حاصل کرنے کے لیے پیسہ خرچ کرتے ہیں وہ زیادہ مطمئن اور شاد رہتے ہیں۔دنیا کے کئی ملکوں میں آمدن میں اضافے کی وجہ سے اس خیال نے جنم لیا ہے۔ جرمنی سے امریکہ تک لوگ وقت کی کمی کی شکایت کرتے نظر آتے ہیں جس کی وجہ سے وہ اپنے روزمرہ کے کاموں کو پورا کرنے کی تگ و دو میں ذہنی دباؤ کا شکار ہو جاتے ہیں۔ماہرین نفسیات نے امریکہ، کینیڈا اور ہالینڈ میں یہ سروے کرنے کا سوچا کہ کیا پیسہ خرچ کر کے فراغت کی چند گھڑیاں حاصل کرنے سے لوگ خوشی حاصل کر سکتے ہیں۔

مزید : میٹروپولیٹن 4