نصف ٹن وزنی مصری خاتون اپنے ہاتھ سے کھانے پینے کے قابل

نصف ٹن وزنی مصری خاتون اپنے ہاتھ سے کھانے پینے کے قابل

ابوظہبی(این این آئی)مصر کی نصف ٹن وزنی خاتون ایمان عبدالعاطی کا بھارت کے بعد متحدہ عرب امارات کے شہرابو ظہبی کے ایک اسپتال میں جدید ترین سہولیات کے ساتھ علاج جاری ہے۔ ایمان تیزی کے ساتھ روبہ صحت ہے اور اس نے اڑھائی ماہ میں 60 کلو گرام وزن کم کیا ہے۔عرب ٹی وی کے مطابق غالبا دنیا کی سب سے وزنی اور موٹی سمجھی جانے والی مصری خاتون ایمان عبدالعاطی کے ابو ظہبی میں دوران علاج ایک تازہ ویڈیو سامنے آئی ہے جس میں وہ کافی بہتر اور پہلے کی نسبت تندرست دکھائی دیتی ہے۔

ابو ظہبی میں قائم برجیل اسپتال کے ڈائریکٹر یاسین الشحات نے بتایا کہ فی الحال مصری خاتون ایمان کا اسپتال میں علاج جاری ہے۔ تاہم اس نے اپنا کافی حد تک وزن کم کردیا ہے۔ایک پریس کانفرنس کے دوران ایمان کے علاج کے نگران اور متحدہ عرب امارات میں مصر کے سفیر ڈاکٹر شماشیرفیالیل نے بتایا کہ ایک چوتھائی صدی تک بستر سے لگی رہنے والی ایمان عبدالعاطی اب بیٹھ سکتی ہے۔ اپنے ہاتھوں سے کھانا کھاتی اور واضح الفاظ میں بات کرتی ہے۔انہوں نے بتایا کہ ایمان ادویات اور خوراک کھانے کے قابل ہوگئی ہے۔ وہ خود اپنے ہاتھ سے کھانا بھی کھاتی ہے۔ اس کے لیے ایک وہیل چیئر تیار کی گئی ہیجس پر وہ بیٹھ بھی سکتی ہے۔

مزید : عالمی منظر