اسرائیل کا حرم الشریف میں تلاشی کے متنازع سسٹم کو ہٹانے کا اعلان

اسرائیل کا حرم الشریف میں تلاشی کے متنازع سسٹم کو ہٹانے کا اعلان

مقبو ضہ بیت المقد س(آن لائن)اسرائیل نے یروشلم میں مسلمانوں اور یہودیوں کے مقدس مقام کے انٹری پوائنٹس پر لگائے جانے والے میٹل ڈیٹیکٹرز کو ہٹا کر تلاشی کے لیے کم رکاوٹ پیدا کرنے والے جدید آلات استعمال کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔اس مقدس مقام کو مسلمان حرم الشریف جبکہ یہودی ٹیمپل ماؤنٹ کہتے ہیں۔اسرائیل کے وزیراعظم بنیامین نتن یاہو کی سکیورٹی کابینہ کی جانب سے اس معاملے پر رائے شماری ہوئی۔خیال رہے کہ اس سے قبل 14 جولائی کو اس مقام پر دو اسرائیلی پولیس اہلکاروں کی ہلاکت کے بعد اسرائیلی حکام کی جانب سے وہاں میٹل ڈیٹیکٹر لگانے شروع کیے گئے تاہم فلسطینیوں کی جانب سے اس پر احتجاج کیا گیا۔اسرائیل کے اس فیصلے سے چند ہی گھنٹے قبل مشرق وسطیٰ کے لیے اقوامِ متحدہ کے سفیر نے خبردار کیا تھا کہ یروشلم کے مقدس مقام پر جمعے تک کشیدگی کو ختم کیا جانا ضروری ہے بصورت دیگر خطرہ اس تاریخی شہر میں پھیل جائے گا۔وزیراعظم نتن یاہو کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ سکیورٹی کابینہ معائنہ کرنے کے لیے میٹل ڈیٹیکٹرز کے بجائے جدید ٹیکنالوجی کے دیگر ذرائع کے استعمال کے لیے تمام سکیورٹی اداروں کی سفارشات کو منظور کرتی ہے۔اس سے قبل اسرائیل کا کہنا تھا کہ 14 جولائی کو فائرنگ کرنے والے حملہ آور وہاں گنز سمگل کرنے میں کامیاب ہوئے تھے اور میٹل ڈیٹیکٹرز کی ضرورت اس قسم کے حملوں کو روکنے کے لیے ہے۔ ادھر اقوام متحدہ کے سفیر نکولے ملادینو نے کہا کہ 'یہ بہت اہم ہے کہ حالیہ کشیدگی کا حل آنے والے جمعے تک نکال لیا جائے۔ میرا خیال ہے کہ اگر جمعے کو عبادت کا دور بغیر کسی حل کے گزر گیا تو زمینی صورتحال مزید خراب ہو جائے گی۔'ان کا مزید کہنا تھا کہ 'کسی کو بھی یہ نہیں سمجھنا چاہیے کہ یہ مقامی نوعیت کے واقعات ہیں۔ درحقیقت شاید یہ چند سو مکعب میٹر پر ہے لیکن یہ دنیا کے اربوں نہیں تو لاکھوں افراد کو ضرور متاثر کر رہے ہیں۔'تاہم فلسطینی میٹل ڈیٹیکٹرز کے لگانے کے فیصلے کی مخالفت کر رہے ہیں۔

ان کا موقف ہے کہ ایسا کرنے کے پیچھے اسرائیل کا مقصد مقدس مقامات پر کنٹرول حاصل کرنا ہے اور یہ ان مقامات تک رسائی حاصل کرنے کے دیرینہ انتظامات کی خلاف ورزی ہے۔بہت سے فلسطینیوں نیان میٹل ڈیٹیکٹرز سے گزر کر حرم الشریف میں داخل ہونے کے بجائے گلیوں میں نماز ادا کی۔

مزید : عالمی منظر