سعودی عرب: اشیائے صرف کی دکانوں میں غیر ملکیوں کے کام پر پابندی

سعودی عرب: اشیائے صرف کی دکانوں میں غیر ملکیوں کے کام پر پابندی

ریاض(آن لائن) سعودی عر ب کی وزارت محنت وسماجی فروغ نے مملکت بھر میں اشیائے صرف کی دکانوں میں غیرملکیوں کے کام پر پابندی عا ئد کر نے کا فیصلہ کر لیا ، المدینہ اخبار نے ذرائع کے حوالے سے یہ رپورٹ دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ وزارت کے اعلی عہدیدار ان دنوں ایک قرارداد کا مسودہ تیار کر رہے ہیں جس میں تحریر ہوگا کہ بقالوں، کھانے پینے کی چیزوں اور اشیائے صرف فروخت کرنے والی دکانوں پر کام سعودیوں کے لئے مختص کیا جارہا ہے۔ اس کے بموجب کوئی بھی غیر ملکی کسی بقالے یا خورد ونوش کا سامان فروخت کرنے والی کسی دکان پر کام کرنے کا مجاز نہیں رہے گا۔ ایک سال کے دوران اس فیصلے کی بدولت 20ہزار سعودیوں کو روزگارحاصل ہوگا۔ ذرائع نے یہ بھی بتایا ہے کہ وزارت محنت کے اعلی افسران ریڑھی پر سامان فروخت کرنے کو بھی سعودیوں تک محدود کرنے کا فیصلہ جاری کرنے والے ہیں۔ اس کے بموجب کوئی بھی غیر ملکی ریڑھی پر سامان فروخت کرنے کا اہل نہیں رہے گا۔ ریڑھی پر صرف اور صرف سعودی شہری ہی کام کر سکیں گے۔ اس کی بدولت 6ہزار سے زیادہ سعودیوں کو روزگار میسر آجائے گا۔ ایک اطلاع یہ ہے کہ نجی اداروں کے متعددکام اور پیشے سعودیوں کے لئے مختص کرنے کی کئی اسکیمیں تیار کی جارہی ہیں۔اس حوالے سے متعلقہ ادارے ایک دوسرے سے منصوبہ بندی میں تعاون کر رہے ہیں۔ موبائل مارکیٹ کی سوفیصد سعودائزیشن نے وزارت محنت وسماجی فروغ کو تمام شعبوں کی مکمل سعوائزیشن کا حوصلہ دیا ہے۔ رینٹ اے کار ایجنسیوں کی سو فیصد سعوائزیشن کی تیاریاں بھی شروع کردی گئیں۔ شعبہ صحت میں زیادہ سے زیادہ سعودیوں کی تقرری کے لئے اقدامات کئے جارہے ہیں۔ 7500سعودی ڈاکٹر اور نرسیں ہیلتھ سینٹرز اور سرکاری اسپتالوں میں تعینات کردیئے۔2020ء4 تک 93ہزار سے زیادہ سعودی نرسیں اور ڈاکٹرز سعودی اسپتالوں اور ہیلتھ سینٹرز میں تعینات کئے جائیں گے۔القصیم کے تجارتی مراکز سے منسلک ملازمین کا کہنا ہے کہ بڑے تجارتی مراکز اور مالز میں سعودیوں شہریوں کی تقرری کی بدولت ایسے تجارتی مراکز اپنی موت آپ مرجائیں گے جنہیں غیر ملکی سعودیوں کے نام سے چلا رہے ہیں۔

مزید : عالمی منظر