امریکی عدالت نے 1400عراقیوں کو ملک بدر کرنے کا حکم منسوخ کر دیا

امریکی عدالت نے 1400عراقیوں کو ملک بدر کرنے کا حکم منسوخ کر دیا

واشنگٹن( اظہر زمان، بیورو چیف) ایک وفاقی جج نے امریکہ میں موجود 1400عراقیوں کو ملک بدر کرنے کے ٹرمپ انتظامیہ کے حکم کو منسو خ کرتے ہوئے اپنے فیصلے میں انہیں اپنا ریکارڈ درست کرنے کا ایک اور موقع دینے کی ہدایت کی۔ وفاقی بنچ میں اوبامہ کے طرف سے نا مز د کردہ جج مارک گولڈ سمتھ نے اپنے فیصلے میں لکھا ہے کہ ان عراقیوں کو کریمینل ریکارڈ درست نہ ہونے کی بناء پر ملک بدر کرنا درست نہیں ہے کیونکہ ملک بدری کی صورت میں انہیں واپس عراق جا کر داعش کے حملوں اور فرقہ وارانہ تعصب کا نشانہ بننے کا خطرہ ہے۔ ٹرمپ انتظا میہ کے امیگریشن ضوابط کے مطابق ان امیگریٹس کو محفوظ پناہ گاہوں سے پکڑ کر ملک بدر کر دیا جاتا ہے جو جرائم میں ملوث پائے جاتے ہیں۔ وفاقی بنچ میں خاص طور پر سابق صدر اوبامہ کے نامزد کردہ جج ان امیگرینٹس کیساتھ زیادہ ہمدردانہ رویہ دکھاتے ہیں، جس کی تازہ مثال جج مارک گولڈ سمتھ کا یہ فیصلہ ہے۔

ملک بدری منسوخ

مزید : علاقائی