59فیصد پاکستانی شہباز شریف کو وزیر اعظم بنانے کے حامی ہیں ، گیلپ سروے

59فیصد پاکستانی شہباز شریف کو وزیر اعظم بنانے کے حامی ہیں ، گیلپ سروے

اسلام آباد( ما نیٹر نگ ڈیسک) غیر سرکاری ادارے گیلپ پاکستان نے اپنے تازہ سروے میں بتایا ہے کہ59فیصد پاکستانی شہباز شریف کو وزیر اعظم بنانے کے حامی ہیں ، ادارے نے سروے ملک بھر کے شہری اور دیہی علاقوں میں منعقد کرایا تھا۔ گیلپ پاکستان کے مطابق انہوں نے17جولائی سے20جولائی کے درمیان ملک گیر سروے کیا ہے جس میں چاروں صوبوں کے1750مرد و خواتین کا ڈیٹا لیا گیا۔سروے میں جے آئی ٹی رپورٹ آنے کے بعد ملک کی تازہ سیاسی صورت حال کے بارے میں لوگوں سے پوچھا گیا تھا۔ سروے میں وزارت عظمیٰ کے متوقع امیدوار کے حوالے سے سوال کیا گیا کہ فرض کریں کہ اگر پاکستان مسلم لیگ )ن( شہباز شریف کو وزیر اعظم منتخب کرنے کا فیصلہ کرتی ہے اور شہباز شریف ملک کے وزیراعظم بن جاتے ہیں توآپ پاکستان مسلم لیگ(ن)کے اس فیصلے کی کس حد تک حمایت یا مخالفت کریں گے؟سروے میں شامل 59 فیصد افراد کا کہنا تھا کہ مسلم لیگ (ن) شہباز شریف کو وزیر اعظم نامزد کرتی ہے تو وہ اس فیصلے کی حمایت کریں گے جبکہ 41 فیصد نے اس کی مخالفت کی۔ نجی ٹی وی چینل کے پروگرام ’’نقطہ نظر ‘‘ سے گفتگو کرتے ہوئے غیر سرکاری ادارے گیلپ پاکستان کے سربراہ اعجاز شفیع گیلانی کا کہنا تھا کہ ان کے ادارے نے جے آئی ٹی رپورٹ منظر عام پر آنے کے بعد ملک گیر سروے کیا جس میں 50فیصد سے زائد پاکستانیوں نے وزیر اعظم پاکستان سے استعفیٰ کا مطالبہ کیا ہے لیکن جب ہم نے پوچھا کہ آپ اگلے الیکشن میں کس کو ووٹ دیں گے تو جو لوگ پہلے مسلم لیگ (ن) کو ووٹ دینے کا کہہ رہے تھے ان کی تعداد میں 4سے5فیصد کمی واقع ہوئی ہے۔اس کمی سے مسلم لیگ (ن) کی سیٹوں میں کوئی کمی واقع نہیں ہو گی کیوں کہ ن لیگ کو پنجاب میں اکثریت حاصل ہوئی تھی اور جیتنے اور ہارنے والے افراد میں مارجن بہت زیادہ تھا اسی وجہ سے مسلم لیگ(ن) پرا س کا کوئی اثر نہیں پڑے گا اور نواز شریف ایک مرتبہ پھر واضح اکثریت سے کامیابی حاصل کر سکتے ہیں۔ اعجاز شفیع گیلانی کا مزید کہنا تھا کہ مسلم لیگ (ن) کے ووٹوں میں پنجاب میں10فیصد کمی ہوئی ہے ، ان افراد سے جب پوچھا گیا کہ اب وہ کسے ووٹ دیں گے تو3فیصد نے کہا کہ وہ پیپلز پارٹی کو ،3فیصد نے کہا کہ تحریک انصاف جبکہ باقی افراد نے دیگر پارٹیوں کو ووٹ دینے کا کہا۔ جب ان سے سوال پوچھا گیا کہ اگر باقی جماعتیں اتحاد قائم کرکے مسلم لیگ (ن) کے خلاف انتخابات میں حصہ لیں تو اس کا پارٹی پر کیا اثر ہو گا تو اس کے جواب میں گیلپ سربراہ کا کہنا تھا کہ پاکستان میں سیاسی تقسیم مختلف نوعیت کی ہے اور انتخابی اتحاد کے کوئی واضح امکانات نہیں ہیں اس لئے مسلم لیگ(ن) کو اس سے بھی کوئی نقصان نہیں ہوگا۔

گیلپ سروے

مزید : علاقائی