پاناما کیس ، تین رکنی بنچ کے متوقع فیصلہ کی پیش گوئی ناممکن نہیں

پاناما کیس ، تین رکنی بنچ کے متوقع فیصلہ کی پیش گوئی ناممکن نہیں

تجزیہ: -سعید چودھری

گزشتہ ہفتے جمعہ کے روز مسٹر جسٹس اعجاز افضل خان ،مسٹر جسٹس شیخ عظمت سعید اور مسٹر جسٹس اعجاز الاحسن پر مشتمل سپریم کورٹ کے بنچ نے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کی رپورٹ پر سماعت مکمل کرکے وزیراعظم کی نااہلی کے لئے دائر پاناما لیکس کیس کا فیصلہ محفوظ کیا تھا ۔کئی روز گزرنے کے باوجود تبصروں کا سلسلہ جاری ہے ،کبھی سوال اٹھا دیا جاتا ہے کہ اس کیس کا فیصلہ کتنے رکنی بنچ سنائے گا ؟ کبھی ممکنہ عدالتی فیصلے کے حوالے سے اندازے قائم کرنے کی کوشش کی جاتی ہے ۔کبھی سوال اٹھایا جاتا ہے کہ کیا فیصلہ محفوظ ہونے کے بعد کوئی دستاویز یا تحریری دلائل عدالت میں پیش کئے جاسکتے ہیں ؟ زیادہ تر مبصرین اپنی خواہشات کی بنیاد پر آئین اور قانون کی تشریح کرتے نظر آرہے ہیں ۔پاکستان تحریک انصاف کے نئے نویلے راہنما بابر اعوان ایڈووکیٹ نے تو ببانگ دہل اعلان کردیا ہے کہ پاناما لیکس کیس کی ابتدائی طور پر سماعت کرنے والا پانچ رکنی بنچ ہی اب حتمی طور پر اس کا فیصلہ سنائے گا جووزیراعظم کی نااہلی پر منتج ہوگا ۔جے آئی ٹی کی رپورٹ آنے کے بعد ہونے والی عدالتی کارروائی اور فاضل جج صاحبان کے ریمارکس کے ساتھ ساتھ اگر پانچ رکنی بنچ کے اکثریتی ارکان کے فیصلے کو پڑھ لیا جائے تو کافی حد تک مذکورہ سوالوں کے جواب مل سکتے ہیں ۔20اپریل کے فیصلے میں فاضل بنچ نے 13مختلف سوالات اٹھاتے ہوئے ان کے جواب تلاش کرنے کے لئے جے آئی ٹی تشکیل دینے کا حکم صادر کیا تھا ۔عدالتی حکم کے پیراگراف نمبر 3میں فاضل بنچ نے قرار دیا تھا کہ اس سلسلے میں تشکیل دیئے گئے سپریم کورٹ کے ایک بنچ کے روبرو جے آئی ٹی 15روز بعد اپنی رپورٹ پیش کیا کرے گی ۔جے آئی ٹی اسی (نئے) بنچ کو اپنی حتمی رپورٹ پیش کرے گی جس کے بعد بنچ آئین کے آرٹیکلز 184(3)،187(2)اور190کے تحت حاصل اختیارات کی بنا پر مناسب فیصلہ جاری کرے گا جس میں پیش کئے گئے مواد میں کسی مجرمانہ اقدام کا جواز پائے جانے کی صورت میں وزیراعظم یا کسی دوسرے فرد کے خلاف ریفرنس دائر کرنے کا حکم بھی شامل ہوگا۔20اپریل کے عدالتی حکم کے پیراگراف نمبر4میں فاضل بنچ نے قرار دیا تھاکہ جے آئی ٹی کی رپورٹ کی روشنی میں وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کی نااہلی کے معاملہ کا جائزہ لیا جائے گا اور اگر اس سلسلے میں مناسب احکامات جاری کرنے کی ضرور ت ہوئی تو وزیراعظم یا متعلقہ فرد کو طلب کیا جائے گا اور اس پر جرح کی جائے گی ۔پیراگراف نمبر4میں قرار دیا گیا کہ

"It is further held that upon receipt of the reports, periodic or final of the JIT, as the case may be, the matter of disqualification of respondent No. 1 shall be considered. If found necessary for passing an appropriate order in this behalf, respondent No. 1 or any other person may be summoned and examined. "

فیصلے کے پیرا گراف نمبر5میں فاضل بنچ نے چیف جسٹس پاکستان سے درخواست کی تھی کہ اس عدالتی فیصلے کی روشنی میں خصوصی بنچ تشکیل دیا جائے ۔اس فیصلے کی سفارشات کی روشنی میں چیف جسٹس نے 2مئی کو ایک تین رکنی بنچ تشکیل دیا تھا جو کہ پاناما لیکس کی سماعت کرنے والے پانچ رکنی بنچ کے ان تین ارکان پر مشتمل تھا جنہوں نے جے آئی ٹی بنانے کا حکم جاری کیا تھا ۔مذکورہ تمام تفصیلات سے پتہ چلتا ہے کہ پانچ رکنی بنچ تحلیل ہوچکا ہے اور اب فیصلے کا تمام تر اختیار موجودہ تین رکنی بنچ کے پاس ہے جس نے سماعت مکمل کرکے 21جولائی کو اپنا فیصلہ محفوظ کیا ہے ۔یہ ایک نیا بنچ ہے جس کا پانچ رکنی بنچ سے کوئی تعلق نہیں ہے ،یہ تین رکنی بنچ جو فیصلہ جاری کرے گا اس کی نوعیت یہی ہوگی جیسا کہ اس کے سامنے یہ تنازع پہلی دفعہ آیا اور اس نے اس پر حکم صادر کیا۔تین رکنی بنچ کا فیصلہ پانچ رکنی بنچ کے فیصلے کا تسلسل نہیں ہوگابلکہ یہ ایک ایسا فیصلہ ہوگا جس کی اپنی ایک آزاد حیثیت ہوگی ۔20اپریل کے عدالتی حکم کے پیرا گراف نمبر4میں نااہلی سے متعلق مناسب احکامات جاری کرنے سے قبل وزیراعظم کو طلب کرکے ان پر جرح کرنے کی بابت جو قرار دیا تھا اس کی روشنی میں دیکھا جائے تو تین رکنی فاضل بنچ نے وزیراعظم کو طلب کیا اور نہ ہی ان پر جرح کی ۔جس کا مطلب ہے کہ تین رکنی بنچ کے سامنے ایسا مواد پیش نہیں کیا جاسکا جس کی بنا پر وزیراعظم کو نااہل قرار دیا جاسکتا ہو ،بصورت دیگر 20اپریل کے فیصلے کی روشنی میں وزیراعظم کو لازمی طور پر طلب کر کے ان پر جرح کی جاتی ۔اس لئے معاملہ زیادہ سے زیادہ نیب ریفرنس کی طرف جاسکتا ہے اور یہ ضروری نہیں کہ اس میں وزیراعظم کا نام بھی شامل ہو کیوں کہ وزیراعظم کا پاناما لیکس میں نام نہیں تھا اور نہ ہی ان پر کوئی آف شور کمپنی رکھنے کا الزام تھا ۔جہاں تک فیصلہ محفوظ ہونے کے بعد وزیراعظم کے وکیل خواجہ حارث احمدکی طرف سے تحریری دلائل یااضافی دستاویزات پیش کرنے کا تعلق ہے اس سلسلے میں عرض ہے کہ خواجہ حارث احمد نے کوئی نئی دستاویز نہیں دی بلکہ انہوں نے ایک تحریری وضاحت پیش کی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ وزیراعظم نے اقامہ کے معاملے کو نہیں چھپایا اور یہ کہ اس سلسلے میں الیکشن کمشن کو کاغذات نامزدگی کے وقت پاسپورٹ کی نقل کی صورت میں معلومات فراہم کردی گئی تھیں۔سپریم کورٹ نے اپنے20اپریل کے عدالتی حکم میں جن آئینی آرٹیکلز کا ذکر کیا تھا ان کا سرسری تعارف بیان کردیا جائے تو اس سے قارئین کو معاملہ سمجھنے میں مزید آسانی ہوگی ۔آئین کا آرٹیکل184(3)قانون کی عمل داری کے لئے عدالتی اختیارات کا تعین کرتا ہے ،آرٹیکل187(2)سپریم کورٹ کا حکم تمام پاکستان میں قابل نفاذ ہونے کے بارے میں ہے جبکہ آئین کے آرٹیکل 190میں وضاحت کی گئی ہے کہ پاکستان کی تمام انتظامیہ اور عدالتیں سپریم کورٹ کی معاونت کی پابند ہیں۔عمران خان کے نااہلی کیس میں ان کے وکیل نعیم بخاری نے خود یہ دلائل دیتے ہوئے پاناما لیکس کیس میں سپریم کورٹ کے 20اپریل کے فیصلے کا حوالہ دیا ہے اور کہا ہے کہ آئین کے آرٹیکل 184(3)کے تحت کسی رکن اسمبلی کو نااہل قرار نہیں دیا جاسکتا ،انہوں نے اس سلسلے میں جسٹس شیخ عظمت سعید کے فیصلے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ فیصلے میں قراردیاجاچکا ہے کہ آرٹیکل 62 کو سیاسی انجینئرنگ کے لئے استعمال نہیں کیا جاسکتا ،نعیم بخاری کے دلائل میں یہ بات بھی شامل تھی کہ پاناما لیکس کیس کے فیصلے میں تین ججز نے کہا آرٹیکل 184(3) میں عوامی نمائندگی ایکٹ کو شامل نہیں کیا جا سکتا۔مذکورہ تمام بحث سے نتیجہ اخذکیا جاسکتا ہے کہ وزیراعظم نااہلی کیس کا فیصلہ تین رکنی بنچ ہی سنائے گا اور یہ فیصلہ پانچ رکنی بنچ کے فیصلے کا تسلسل نہیں ہوگا ،اس بحث سے تین رکنی بنچ کے متوقع حکم کی پیش گوئی بھی ممکن ہے ۔

مزید : تجزیہ