’’بیمار ذہنیت کا بدبوداربیانیہ ‘‘

’’بیمار ذہنیت کا بدبوداربیانیہ ‘‘
 ’’بیمار ذہنیت کا بدبوداربیانیہ ‘‘

  

پاکستان کے دل لاہو ر میں فیروز پور روڈ پرارفع کریم ٹاور کے قریب پرانی سبزی منڈی میں تجاوزات خاتمے کی مہم میں ڈیوٹی دینے والے پولیس اہلکاروں پر خود کش حملہ ہوا، نو پولیس اہلکاروں سمیت چھبیس نے جام شہادت نوش کر لیا، سوشل اور الیکٹرانک میڈیا پر ہاہا کار مچ گئی اور مچنی بھی چاہئے تھی کہ یہ ایک بڑا واقعہ اور سانحہ تھا، کئی برس پہلے جی پی او چوک میں وکلاء کی ریلی میں سیکورٹی پر مامور پولیس اہلکاروں کی گاڑی کے قریب ہونے والے دھماکے سے اب تک لاہور نے بہت دکھ سہے ہیں، اسی برس ہنستا مسکراتا ڈی آ ئی جی ٹریفک کیپٹن مبین اورمردم شماری کی مہم کے دوران فوجی اہلکار بہت سارے دوسروں کے ساتھ زندگی سے محروم کر دئیے گئے۔ لاہور ہی کی بات کیوں کی جائے ، قربانیاں تو پورے ملک میں سیکورٹی فورسز اور عوام نے دی ہیں، ہم نے اپنی سابق وزیراعظم کو بھی اسی دہشت گردی میں کھویا ہے۔ دہشت گردی اس وقت ہماری قوم کا ہی نہیں بلکہ برطانیہ سے فرانس جیسے جدیدممالک کا بھی مسئلہ ہے، ہاں، یہ ضرورت ہے کہ دوسرے اس خطرے کی طرف بڑھ رہے اور ہم دور ہٹ رہے ہیں۔ گذشتہ پندرہ، سترہ برسوں میں مختلف حکومتوں کے ادوار کا جائزہ لیا جائے تو پرویز مشرف کی حکومت کے دوران تین ہزار کے لگ بھگ دھماکے ہوئے، پیپلزپارٹی کے دور میں شرح کچھ کم ہوئی مگر تعداد بہرحال دو، اڑھائی ہزار سے زیادہ ہی تھی، مسلم لیگ نون کا دور شروع ہوا تو جہاں سابق دور میں ہونے والے آپریشنوں کے نتائج سامنے آنے لگے وہاں آپریشن ضرب عضب بھی شرو ع ہو گیا، اس کے بعد آپریشن ردالفساد نے بھی بہتری میں اپنا کردار ادا کیا اور اس وقت آپریشن خیبر فور کے ذریعے راجگال کو کلئیر کیا جا رہا ہے توموخرالذکر تینوں آپریشنوں کے ردعمل کو بھی سامنے رکھتے ہوئے ان واقعات کی تعدادڈیڑھ سو کے لگ بھگ بیان کی جاتی ہے جو دہشت گردوں کے خلاف ایک بڑی کامیابی اور امن کی طرف ایک شاندار پیش رفت ہے۔

دہشت گردی کے خلاف جنگ ایک طویل جنگ ہے، ایک چہرے کے بغیر دشمن ہے، ہمسائیوں میں بھارت اور افغانستان ہیں، ہمارے اندر فکری مغالطوں سے بھرے طبقات ہیں جو دہشت گردی کو جواز اور دہشت گردوں کو سہولیات فراہم کرتے ہیں، ہماری فورسز کو ان سب سے لڑنا ہے مگر ایک لڑائی اس کھلی ڈلی لڑائی سے الگ بھی ہے۔ میں نے سوشل میڈیا پراس سیاسی جماعت کے میڈیا سیل کے متحرک رکن کو دیکھا جس جماعت پر سوشل میڈیا پر بدکلامی اور یاوہ گوئی کے فروغ کا سب سے بڑا الزام ہے، وہ ناسمجھ متعدد پوسٹس کر رہا تھا جس میں ظاہرکیا جا رہا تھا کہ جب بھی مسلم لیگ نون کی حکومت ( اس کی اور اس کے حواریوں کی نظر میں ) مشکل میںآتی ہے، وزیراعظم نواز شریف کے خلاف کسی انگلی والے ہاتھ کی کوئی تحریک کسی نہ کسی صورت عروج پر پہنچتی ہے تواس کے مطابق لوگوں کی توجہ اس تحریک سے ہٹانے کے لئے دہشت گردی شروع ہوجاتی ہے، چلیں، اس شخص کی ذہنیت ہی ایسی ہے، اس کی تربیت میں ہی فرق ہے اور یہی وجہ ہے کہ وہ عوام الناس کو گمراہ کرنے میں مصروف ہے، ان بے چاروں کو جن کے دونوں کانوں کے درمیان ایسی کوئی شے موجود نہیں جس سے وہ سوچنے اور سمجھنے جیسے کام لے سکیں مگر وہ اس شخص کے بارے میں کیا کہیں گے جو برسوں سے قیامت کا منظر بیچ رہا ہے اور اس کے بارے کیا تبصرہ کریں گے جو بستر مرگ پر موجود اپنے بیمار باپ کے جعلی انگوٹھے لگا کر جائیداد اپنے نام کروانے کے فراڈ میں مشہور ہے، جی ہاں، اس نے بھی اسی قسم کی باتیں سوشل اور الیکٹرانک میڈیا پر کیں۔ ایک ٹی وی چینل ہے جس کی ریٹنگ بہت ہے،اس کے پرائم ٹائم شو میں اینکر کے پرسنل ٹوئیٹر اکاونٹ پر ان کے نام پر ہیش ٹیک ٹوئیٹس بھی چلائے جا تے ہیں، اس چینل کے پرائم ٹائم شو میں سکرین کے لوئر ہاف پر اسی قسم کی یاوہ گوئی بار بار آرہی تھی او رجارہی تھی۔ مجھے کسی نے کہا کہ اس میں اس ٹی وی چینل کا کیا قصور، لوگ ایسے ٹوئیٹس کرتے ہیں، میں نے جواب میں پوچھا، ٹوئیٹر کھول کر دیکھ لیا جائے کہ اسی ٹوئیٹر ہینڈلر پر ہمارے مشہور اینکر اور ان کے چینل کے بارے میں کیسے الزامات ، کیسی زبان استعمال کرتے ہوئے کتنے لوگ موجود ہیں مگر ان کے ٹوئیٹس تو ائیر نہیں کئے جا رہے لہذا ایسے ٹوئیٹس کا چناو جان بوجھ کر ہے، مخصوص مفادات کے لئے ہے شائد ہمارے دوست اپنے والد کی فکر سے کنارہ کر گئے ہیں اور مجھے تو اس پر بھی کوئی بڑا اعتراض نہیں کرنا کہ زمانے کے حوادث بہت کچھ سکھا دیتے ہیں۔

کیا لغو اور بے ہودہ بات ہے کہ مسلم لیگ نون کی قیادت ایسے موقعے پر جان بوجھ کر بم دھماکے کروائے گی، ایسی سوچ کی پیدائش بھی دماغ کی کسی سنگین بیماری کی کوئی گھٹیا ترین قسم ہو سکتی ہے جس کا علاج کرایا جانا از حد ضروری ہے۔ ابھی ہم پاناما لیکس کے مقدمے کے حتمی فیصلے بارے کچھ نہیں کہہ سکتے مگر یہ بات طے شدہ ہے کہ میاں نواز شریف نے سپریم کورٹ آف پاکستان کے سامنے سرنڈر کر کے بہت بڑا اقدام کیا، اس فیصلے کے فوائد اور نقصانات آہستہ آہستہ ہی واضح ہوں گے مگر کیا یہ بات منطقی ہوسکتی ہے کہ ایسے موقعے پر ایک حکومت جس پر پہلے ہی انگلیاں اٹھائی جا رہی ہیں، استعفوں کے مطالبے کئے جا رہے ہیں، خود ہی امن و امان کی صو رتحال پیدا کر کے اپنے لئے مزید مشکلات پیدا کر سکتی ہے ، ہاں، اگر بیمار ذہنیت کی فکر کو اپنا لیا جائے تو یہ ضرور سوچا جا سکتا ہے کہ یہ کام ان کا ہے جو حکومت کو کمزور کرنا چاہتے ہیں، اسے گرانا چاہتے ہیں، کیا آپ تسلیم کریں یا نہ کریں مگر اس یاوہ گوئی میں زیادہ وزن ہے کہ ایسے موقعے پر حکومت کی بجائے ان لوگوں پردہشت گردی کروانے کا الزام زیادہ آسانی سے تھوپا جا سکتا ہے جو بہرصورت حکومت کو گرانے کے درپے ہیں، وہ حکومت کی سیاسی ، اخلاقی اور قانونی پوزیشن کے سامنے زیادہ سے زیادہ سوالات کھڑے کرنا چاہتے ہیں۔ اسی بیمارذہنیت کی پیداوار سوچ کے تحت مزید دلیل بازی کی جا سکتی ہے کہ ان کے اس کالعدم دہشت پسند جماعت سے بھی رابطے ہیں جس نے لاہور کے دھماکے کی ذمہ داری قبول کی کیونکہ یہ لوگ پاکستان میں اس تنظیم کا دفتر کھولنا چاہتے تھے، ان کے پاکستان کے ازلی دشمن اسرائیل کے ساتھ ذاتی اور خاندانی سطح کے رابطے ہیں اور شائد پاکستان کے واحد سیاستدان ہیں جن کی تصویر اسرائیل کے ایک وزیراعظم کے ساتھ انٹرنیٹ پر گردش کر رہی ہے ۔ یہ تمام باتیں اس متبادل بیانیے کو اپنے تئیں ثابت کرنے کے لئے کافی ہیں مگر میں اپنے ہی لکھے ہوئے الفاظ بارے کہتا ہوں کہ یہ بھی اسی قسم کا قابل مذمت بیانیہ ہے جس قسم کا بیانیہ حکومت کے خلاف تراشا جاتا ہے ۔

آپ سو فیصد غلط ہیں اگر آپ سیاسی اختلاف رائے کو ذاتی دشمنی سمجھتے ہیں، اپنے پسندیدہ سیاسی رہنما کو فرشتہ اور اس کے مخالف کو شیطان سمجھتے ہیں، اس قسم کا بیانیہ تشکیل دینے والوں کو آج کل عمران خان صاحب کی صفائیاں دینی پڑ رہی ہیں، یہ سب آج کل اسی گڑھے میں گرے ہوئے ہیں جو انہوں نے دوسروں کے لئے کھودا تھا۔مجھے درخواست کرنی ہے کہ برائے مہربانی سیاسی اختلاف کو سیاسی اختلاف ہی رکھا جائے۔ دہشت گردی سیاسی اختلافات سے بڑا، اونچااور کہیں زیادہ سنگین مسئلہ ہے۔ یہ ہر پاکستانی کا مسئلہ ہے چاہے وہ تاجر ہو اور اس کا تعلق کسی سیاسی جماعت سے ہو، بیوروکریٹ ہو یا اس کا تعلق سیکورٹی فورسز سے ہو۔ دہشت گردی کا مقابلہ یک جان ہو کر ہی کیا جا سکتا ہے کہ اب اس معاملے میں سٹیک ہولڈرز سب کے سب ہیں، مسلم لیگ نون پنجاب میں ہے تو تحریک انصاف خیبرپختونخواہ اورپیپلزپارٹی سندھ میں ۔میں نہیں جانتا کہ ایسے تنازعات میں میڈیا کیسے فریق بن جاتا ہے اوردشمنی میں سیاستدانوں سے بھی آگے نکل جاتا ہے۔ نجانے وہ موقع کب آئے گا جب ہم کچھ اختلافی نوعیت کے معاملات پرضرور سیاست کریں گے اور ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کی کوشش کریں گے مگر پاکستان کے دفاع،آئین کی سربلندی، جمہوریت کے تسلسل، ایٹمی پروگرام کے تحفظ، دہشت گردی کے خاتمے اور مسئلہ کشمیر کے حل جیسے ایشوز پر سب یک زبان ہوں گے، ایک دوسرے کے ہاتھ میں ہاتھ ڈالے سیسہ پلائی دیوار بنے کھڑے ہوں گے، نجانے وہ وقت کب آئے گا جب بیمارذہنوں کے یہ گھٹیا بیانیے ہماری جان چھوڑیں گے جن سے اب بدبو آنے لگی ہے۔

شہرِ یاراں/ نجم ولی خان

مزید : کالم