عدالتوں کی سکیورٹی انتہائی سخت، بیرونی دیوار وں کیساتھ گاڑیوں کی پارکنگ ممنوع

عدالتوں کی سکیورٹی انتہائی سخت، بیرونی دیوار وں کیساتھ گاڑیوں کی پارکنگ ...

لاہور(نامہ نگار )سانحہ فیروز پور روڈ کے بعد ممکنہ دہشت گردی کے پیش نظر عدالتوں کی سکیورٹی انتہائی سخت کردی گئی ہے ،عدالتوں کی بیرونی دیواروں کے ساتھ گاڑیوں کی پارکنگ بھی ممنوع قرار دیتے ہوئے دیواروں پر خار دار تاریں لگانے کا حکم بھی دے دیاگیا ہے جبکہ پولیس حکام کی جانب سے سیشن کورٹ ،ضلع کچہری ،کینٹ کچہری، ماڈل ٹاؤن کچہری کے اطراف گیٹس پرپولیس کی مزیدنفری تعینات کردی گئی ہے ۔پولیس اہلکاروں کو سختی سے ہدایات جاری کی گئی ہیں کہ وہ عدالتوں میں آنے والے وکلاء سمیت ہر شخص کی تلاشی لینے کے بعد انہیں اندر داخل ہونے دیں تاکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعہ سے بچا جاسکے ۔اسی حوالے سے گزشتہ روزسینئر جوڈیشل مجسٹریٹ ضلع کچہر ی نے بھی سکیورٹی صورتحال کا جائزہ لیا اورکچہری کے تمام داخلی راستوں پر پولیس کو نفری بڑھانے کی ہدایت کی ہے ۔ضلع کچہری کے جوڈیشل مجسٹریٹ عمر فاروق وڑائچ اور جوڈیشل مجسٹریٹ محمد رمضان ڈھڈی نے احاطہ کچہری کے سکیورٹی انتظامات، بار روم اور بخشی خانے کا دورہ کیا، سکیورٹی انتظامات کے جائزے کے دورے کے دوران سینئر جوڈیشل مجسٹریٹ کو سکیورٹی انتظامات پر تفصیلی بریفنگ دی گئی، مذکورہ عدالتوں کے سکیورٹی انچارجزکا کہنا ہے کہ کسی بھی ممکنہ دہشت گردی کے واقعہ سے بچنے کے لئے سکیورٹی مزید سخت کردی گئی ہے جبکہ چھتوں پر نو سنائپر بھی تعینات کئے گئے ہیں، انہوں نے مزید کہا کہ احاطہ عدالت میں کسی غیر متعلقہ شخص کو داخلے کی اجازت نہ دی جائے گی اور ہر آنے والے سائل اور وکیل کی مکمل تلاشی لی جائے، ماتحت عدالتوں کی بیرونی دیواروں کے ساتھ گاڑیوں کی پارکنگ بھی ممنوع قرار دیتے ہوئے دیواروں پر خار دار تاریں لگانے کا حکم بھی دے دیاگیا ہے، علاوہ ازیں جوڈیشل مجسٹریٹ عمر فاروق وڑائچ اور جوڈیشل مجسٹریٹ محمد رمضان ڈھڈی نے بخشی خانہ کے ہنگامی دورے کے دوران بخشی خانے میں ناقص صفائی پر انچارج بخشی خانہ کی سرزنش کرتے ہوئے صفائی کے بہترین انتظامات کرنے اور بخشی خانے کے کمروں میں حراستی ملزموں کو گرمی سے بچانے کیلئے مزید پنکھے لگانے کا حکم دیاہے، فاضل مجسٹریٹ نے سکیورٹی صورتحال کے پیش نظر انچارج بخشی خانہ کو حراستی ملزموں کو فوری طور پر عدالتوں میں پیش کروانے کے بعد جیلوں میں منتقل کرنے کا بھی حکم دے دیا ہے۔

مزید : علاقائی