شریف خاندان کے منصوبوں میں اربوں روپے کی کرپشن کی نذر ہو جاتے ہیں، محمودالرشید

شریف خاندان کے منصوبوں میں اربوں روپے کی کرپشن کی نذر ہو جاتے ہیں، ...

لاہور (نمائندہ خصوصی ) پنجاب اسمبلی میں قائد حزب اختلاف میاں محمودالرشید نے سیف سٹی پراجیکٹ کو ناکام قرار دیتے ہوئے منصوبے کے آڈٹ کا مطالبہ کردیا۔ گزشتہ روز پنجاب اسمبلی میں صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ شہر لاہور میں خطیررقم سے سیف سٹی پراجیکٹ لگایا گیا لیکن اس سے جرائم کم ہوئے اور نہ ہی دہشتگردی کے واقعات میں کمی آئی، فیروز پور دھماکے کی مذمت کرتے ہوئے میاں محمودالرشید نے کہا کہ اپنے طور پر تحقیقات کر رہے ہیں کہ تجاوزات کیخلاف آپریشن کے تجارتی مقاصد کا کس کو فائدہ ہونا تھا، تعین کرنے کے بعد اس پر لائحہ عمل دینگے۔ انہوں نے سیف سٹی منصوبے کو ناکام قرار دیتے ہوئے اس کے آڈٹ کا مطالبہ کیا ہے۔ میاں محمودالرشید نے ماضی کے منصوبوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پیلی ٹیکسی سکیم میں فراڈ ہوا جس میں کسٹم ڈیوٹی معاف کر کے خزانے کو70ارب کا نقصان پہنچایا گیا،قرض اتارو ملک سنواروں کے18ارب کا آج تک کوئی پتہ نہیں،گندم امپورٹ فراڈ میں5ارب کا فراڈ ہوا،حدیبیہ میں اربوں کا گھپلا ہے،نندی پور اور قائداعظم سولر پارک کے کام میں سستی کے باعث اخراجات100ارب سے تجاوز کر گئے اور اسکے بعد یہ دونوں منصوبے ناکام ہو گئے یوں ملک کو کم ازکم 100ارب کا نقصان پہنچا،آشیانہ سکیم غائب ہوتے ہی اربوں روپے بھی ساتھ لے گئی،میٹرو بس پراجیکٹ میں شریف اینڈ کمپنی پر30ارب کی کرپشن کا الزام ہے، جرم سے بچنے کیلئے اسکے ریکارڈ کو ہی آگ لگا دی گئی، انہوں نے کہا شریف خاندان کے ہر منصوبے میں اربوں روپے کمیشن اور کرپشن کی نذر ہو جاتے ہیں-

مزید : صفحہ آخر