خواجہ آصف بھی متحدہ عرب امارات کی ایک کمپنی کے ملازم نکلے، دستاویزات منظر عام پر آگئیں

خواجہ آصف بھی متحدہ عرب امارات کی ایک کمپنی کے ملازم نکلے، دستاویزات منظر ...
 خواجہ آصف بھی متحدہ عرب امارات کی ایک کمپنی کے ملازم نکلے، دستاویزات منظر عام پر آگئیں

  

اسلام آباد( آن لائن ) وزیر دفاع اور پانی وبجلی خواجہ آصف بھی متحدہ عرب امارات کی ایک کمپنی کے ملازم تھے ،تحریک انصاف دستاویزات سامنے لے آئی ۔ وزیر دفاع خواجہ آصف نے تحریک انصاف کی جانب سے یو اے ای کی کمپنی میں ملازمت اور اقامہ سے متعلق الزامات کو بے بنیاد قرار دے دیا ہے جبکہ 2013 کے انتخابات کے کاغذات نامزدگی بھی مل گئے ہیں جس میں انہوں نے اپنا اقامہ ظاہر کیا ہوا تھا۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق وزیر دفاع خواجہ آصف نے 2013 کے انتخابات میں اپنا اقامہ ظاہر کیا ہوا تھا، خواجہ آصف نے یواے ای کا اقامہ انٹرنیشنل مکینکل اینڈ الیکٹریکل کمپنی کے توسط سے بطور لیگل ایڈوائزر پرائیویٹ کے طور پر حاصل کیا جب کہ خواجہ آصف کے این اے 110 سے کاغذات نامزدگی اسکروٹنی کے بعد ریٹرننگ افسر نے درست قرار دیے۔ 2013 میں جمع کرائے گئے کاغذات نامزدگی کے مطابق خواجہ آصف نے متحدہ عرب امارات میں 6 ماہ قیام کا اقامہ حاصل کیا، خواجہ آصف نے 3 مختلف ادوار میں تین اقامے حاصل کیے، ایک اقامہ 2007 سے 2010، دوسرا اقامہ 2010 سے 2011 تک جب کہ تیسرا اقامہ 2010سے 2011 تک کا تھا۔اس حوالے سے خواجہ آصف کا کہنا ہے کہ ان کا اقامہ 27 سال سے الیکشن کمیشن اور ایف بی آر میں ظاہر کیا ہوا ہے، ان کا ابو ظہبی میں 1983 سے بینک اکاؤنٹ موجود ہے ، اسی وقت سے بینکنگ چینلز کے ذریعے پیسے وصول کرتے ہیں۔واضح رہے تحریک انصاف کے ڈپٹی انفارمیشن سیکریٹری عثمان ڈار نے دعویٰ کیا ہے کہ خواجہ آصف دبئی کی کمپنی میں ملازمت کرتے ہیں جس کی آمدنی کو گوشواروں میں ظاہر نہیں کیا گیا ،خواجہ آصف دبئی کی ایک مکینکل کمپنی میں بحثیت لیگل ایڈوائزر کام کرتے ہیں ۔عدالت عظمیٰ سے رجوع کرکے ان کونااہل کرائیں گے جبکہ خواجہ آصف نے کہا ہے کہ 27سال سے میرا اقامہ الیکشن کمیشن اور ایف بی آر میں ڈکلئیرڈ ہے لہذا نے جا الزام تراشیوں سے گریز کیا جائے میں 1983سے بینکنگ سیکٹر کے ذریعے پیسہ وصول کررہا ہوں اور 1983ہی سے ابوظہبی میں بینک اکاؤنٹ بھی موجود ہے لہٰذا بے جا الزامات سے گریز کیا جائے ۔

خواجہ آصف کا اقامہ

مزید : صفحہ اول