توہین عدالت کیس، جنگ گروپ نے غلط رپورٹنگ کی : سپریم کورٹ

توہین عدالت کیس، جنگ گروپ نے غلط رپورٹنگ کی : سپریم کورٹ

اسلام آباد(آن لائن) سپریم کورٹ میں جنگ گروپ کیخلاف توہین عدالت کیس کی سماعت پر جسٹس اعجاز الاحسن نے کہاہے کہ ہم عمل کاردعمل والی صورتحال پیدانہیں کرناچاہتے، جنگ گروپ نے غلط رپورٹنگ کی اورذرائع سے خبریں شائع کی گئیں،جے آئی ٹی اورعدالت کوبدنام کیاگیا،جے آئی ٹی رپورٹ پرحتمی نتائج شائع کردیئے بعدمیں معافیاں مانگیں،تفصیلات کے مطابق جنگ گروپ کیخلاف توہین عدالت کیس کی سماعت سپریم کورٹ میں ہوئی جسٹس افضل اعجاز کی سربراہی میں 3 رکنی بنچ نے کیس کی سماعت کی۔ جنگ گروپ کے وکیل چودھری ارشد نے عدالت میں تحریری جواب جمع کرا یا،میر شکیل الرحمن نے عدالت کو بتایا کہ ہمارا ادارہ عدالت کابہت احترام کرتا ہے۔ خبروں کی بنیاد پر کہا کہ ہمیں معلوم ہے کس کے ایما پر خبریں شائع ہوتی ہیں۔ان ریمارکس پرہمیں بہت تکلیف ہوئی ہے۔ عدالت نے ہم سے تین ماہ کے اشتہارات کا ریکارڈ طلب کیاتھاجو اخبار مارکیٹ میں زیادہ فروخت ہوتا ہے ۔اسی کو زیادہ اشتہارات ملتے ہیں۔ حکومت ہمیں اشتہارات کا ریٹ کم دیتی ہے۔میر شکیل الرحمن نے عدالت کو بتایا کہ اگر آئی ایس آئی والی اور دیگر خبریں غلط ہیں تو نوٹس دیں تاکہ رپورٹر کیخلاف ایکشن لے سکوں۔ رپورٹر اپنی خبر پر قائم ہے۔ جسٹس عظمت نے میر شکیل الرحمن کو مخاطب کرتے ہوئے کہا آپ سے گزارش ہے کہ وکیل کے بغیر بات مت کریں۔ جسٹس عظمت نے مزید کہاکہ ہمیں پریس کی آزادی مقدم ہے، پریس کو خاموش نہیں کرسکتے۔ فیئر تنقید برداشت کرتے ہیں لیکن غیر ضروری تنقید برداشت نہیں ہوتی۔ پانی سر سے گزر جائے تو گلے شکوے کیلئے آپ کو بلا لیتے ہیں۔ جسٹس اعجاز افضل نے ریمارکس دئیے کہ ہم ایکشن کا رد عمل والی صورتحال پیدا نہیں کرنا چاھتے۔ آپ کے ہاں غیر زمہ داری سے رپورٹنگ ہوتی ہے۔ہو سکتا ہے آپ اپ رائیٹ شخص ہوں۔ ہماری خبریں ساری خبریں درست ثابت ہوئی ہیں کچھ ایک صحیح ثابت نہیں ہوئیں۔ آپ نے

جے ائی ٹی رپورٹ کی حتمی رپورٹ شائع کی جوہم نے پڑھی تک نہیں تھی۔ جسٹس عظمت نے کہا عدالت کا مقدمہ ہے عدالت میں رہنے دیں ۔جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دئیے کہ پریس کی آزادی کو مقدم سمجھتے ہیں۔ لیکن کیچڑ اچھالنے کی اجازت نہیں دینگے۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا جنگ گروپ نے غلط رپورٹنگ کی اورذرائع سے خبریں شائع کی گئیں،جنگ گروپ کے وکیل ارشد چوہدری نے عدالت کومزید بتایا جہاں ہم غلط ہوتے ہیں وہاں معافی مانگتے ہیں۔ اس موقع جسٹس اعجازافضل نے جنگ گروپ کو مزید دستاویزات اور اضافی جواب جمع کرانے کی ہدایت کرتے ہوئے سماعت 22 اگست تک ملتوی کردی۔

جنگ گروپ

مزید : صفحہ آخر