شہید کانسٹیبل غلام مرتضٰی 2بچوں کا باپ ، چھوٹے بھائی علی رضا کی شادی ہونیوالی تھی

شہید کانسٹیبل غلام مرتضٰی 2بچوں کا باپ ، چھوٹے بھائی علی رضا کی شادی ...

لاہور( خبرنگار) فیروز پور روڈ پر ارفع کریم ٹاور کے قریب خودکش دھماکے میں شہید ہونیوالے دو سگے بھائیوں میں بڑا بھائی غلام مرتضیٰ 2کم سن بچیوں کا باپ جبکہ چھوٹے بھائی علی رضا کی چند ماہ بعد شادی ہونیوالی تھی ، اسی خودکش دھماکہ میں شہید ایک اور کانسٹیبل ساجد علی کی بھی چند روز بعد منگنی ہونیوالی تھی۔ تینوں شہید اہلکار ڈیڑھ سال قبل محکمہ پولیس میں بھرتی ہوئے اور اینٹی ٹیررسٹ سکواڈ میں ڈیوٹی کر رہے تھے۔ شہید ساجد علی تعلیم جاری رکھے ہوئے تھا اور مکمل کر کے بینک افسر بننا چاہتا تھا ۔ سگے بھائی غلام مرتضیٰ اور علی رضا کی نماز جنازہ کیلئے میتیں اٹھائی گئیں تو ان کی والدہ پر غشی کے دورے پڑتے رہے جبکہ نعشوں سے چمٹ چمٹ کر زاروقطار روتی رہیں اور اہلکار غلام مرتضیٰ کی کم سن بیٹی کشف نے ’’پاپا اٹھو، آئس کریم لے کر آئیں‘‘ کی پکار نے سب کو رُلا کر رکھ دیا۔ شہید ہونیوالے دونوں سگے بھائیوں غلام مرتضیٰ اور علی رضا کو نماز جنازہ کے بعد بند روڈ پر شادی پورہ کے قبرستان میں سپرد خاک کر دیا گیا ۔ دوشہید بیٹوں علی رضا اور غلام مرتضیٰ کی عمر رسیدہ والدہ ، والد نذیر احمد ، بڑے بھائی سجاد علی نے ’’روزنامہ پاکستان‘‘ کو بتایا کہ علی رضا کی چند ماہ تک شادی طے کرنے کے لئے تیاریاں کر رہے تھے، جبکہ بڑے بیٹے غلام مرتضی کے ہاں دوبیٹیاں ہیں اور بیٹے کیلئے منتیں مان رکھی تھیں کہ وہ دونوں خالق حقیقی کو جا ملے۔جبکہ شہید کانسٹیبل ساجد علی کے والد صادق علی نے بتایا کہ اس کے بیٹے نے روزگار کے طور پر پولیس میں نوکری حاصل کی ۔ ساجد علی بے اے پاس اور تعلیم مکمل کر کے بینک افسر بننا چاہتا تھا، محمد صادق کا مزید کہنا تھا وہ اپنے بیٹے کی منگنی کی تیاری کر رہا تھا ،۔ کانسٹیبل ساجد کی نماز جنازہ کے لئے میت اٹھائی گئی تو اس کی والدہ اور بہنوں پر غشی کے دورے پڑتے رہے ، جبکہ پورے علاقہ میں سوگ کا سماں تھا۔ کانسٹیبل ساجد علی کو کوٹلی گھاسی کے مقامی قبرستان میں نماز جنازہ کے بعد سپرد خاک کر دیا گیا ۔ نماز جنازہ میں مقامی ایم پی اے وحید گل اور ایس پی کینٹ رانا طاہر الرحمن نے شرکت کی جبکہ اس موقع پر پولیس نے سکیورٹی کے سخت انتظامات کر رکھے تھے۔

مزید : صفحہ اول