لاہوردھماکہ: تحقیقات کے لیے جے آئی ٹی بنانے کا فیصلہ

لاہوردھماکہ: تحقیقات کے لیے جے آئی ٹی بنانے کا فیصلہ

لاہور(سپیشل رپورٹر)پنجاب حکومت نے گزشتہ روز لاہور میں ہونے والے خودکش حملے کی تحقیقات کے لیے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) بنانے کا فیصلہ کرلیا ہے جے آئی ٹی میں پولیس اور حساس اداروں کے افسران بھی شامل ہوں گے۔ذرائع کے مطابق ایڈیشنل سیکرٹر ی داخلہ، سی ٹی ڈی اور حساس اداروں کے افسران بھی جے آئی ٹی کا حصہ ہوں گے لاہور کے علاقے فیروز پور روڈ پر گزشتہ روز 3 بج کر 55 منٹ پر ہونے والے خودکش حملے میں 9 پولیس اہلکاروں سمیت 26 افراد شہید اور 57 زخمی ہوچکے ہیں قانون نافذ کرنے والے ادارے حملے کی تفتیش میں مصروف ہیں اور گزشتہ روز جائے وقوعہ سے بم ڈسپوزل اسکواڈ، فارنزک ماہرین اور تفتیشی اہلکاروں نے شواہد اکٹھا کیے جب کہ آج بھی تفتیشی حکام جائے وقوعہ کا دورہ کررہے ہیں انٹیلی جنس ذرائع کے مطابق تفتیش میں اہم پیشرفت ہوئی ہے جس سے پتا چلا ہے کہ مبینہ خودکش حملہ آور موٹرسائیکل کی بجائے رکشے پر آیا جو گجومتہ اور کاہنہ کی طرف سے ہوتا ہوا سبزی منڈی پہنچاانٹیلی جنس ذرائع کا کہنا ہے کہ حملہ آور کی تاحال شناخت نہیں ہوسکی ہے لیکن اس کی عمر 16 سے 17 سال کے درمیان ہے، اس کی ٹانگ اور سر کے بال ڈی این اے کے لیے بھجوادیئے گئے ہیں انٹیلی جنس ذرائع کے مطابق دھماکے میں تباہ ہونے والی تمام موٹرسائیکلوں کی شناخت ہوگئی ہے، تمام تباہ شدہ موٹرسائیکلیں شہید یا زخمی ہونے والے افراد کی ہیں دوسری جانب خودکش حملے کا مقدمہ محکمہ انسداد دہشت گردی (سی ٹی ڈی) نے درج کرلیا ہے جس میں 3 نامعلوم دہشت گردوں کا ذکر کیا گیا ہے جس میں ایک دہشت گرد اور 2 اس کے سہولت کار ہیں مقدمہ انسداد دہشت گردی ایکٹ کے سیکشن 7 کے تحت درج کیا گیا ہے جس میں دفعہ 302 اور 324 سمیت دہشت گردی کی دیگر دفعات شامل کی گئی ہیں ایف آئی آر کے متن کے مطابق 2 سہولت کاروں نے اپنے دہشت گرد ساتھی کو مقررہ ہدف پر چھوڑا اور پھر اس سے گلے مل کر سبزی منڈی کی طرف چلے گئے جب کہ حملہ آور نے درخت کے سائے میں بیٹھے پولیس اہلکار اور شہریوں کے پاس جا کر خود کو دھماکے سے اڑالیا۔

دھماکہ جے آئی ٹی

مزید : صفحہ اول