فورسز ایمانداری سے کام کررہی ہیں، حکمرانوں کے ارادے دہشتگردوں سے لڑنے کے نظر نہیں آتے: پیپلز پارٹی

فورسز ایمانداری سے کام کررہی ہیں، حکمرانوں کے ارادے دہشتگردوں سے لڑنے کے نظر ...

لاہور( نمائندہ خصوصی) پاکستان پیپلز پارٹی پنجاب کے صدر قمر زمان کائرہ نے کہا ہے کہ وزیراعظم میاں نوازشریف سٹیپ ڈاؤن کردیں وگرنہ عدالت کالر سے پکڑ کر اتار دے گی، آنے والے دنوں میں سیاسی بلاسٹ ہونے والے ہیں، نوازشریف کے متعدد وزراخوش فہمی کا شکار ہیں جبکہ بعض ایک دوسرے پر دہشت گرد تنظیموں سے رابطے کا الزام لگاتے ہیں۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے گذشتہ روزپیپلز پارٹی پنجاب سیکرٹریٹ میں سنیئر نائب صدر چوہدری اسلم گل اور ثمینہ خالد گھرکی کے ہمراہ پریس کانفرنس اور جنرل ہسپتال میں زخمیوں کی عیادت کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا ۔ قمر زمان کائرہ نے کہا کہ دہشت گردی کی لہر دوبارہ جڑ پکڑ رہی ہے ایک روز پہلے بڑی تعداد میں ہمارے بھائی ، بچے اورپولیس کے جوان شہید اور زخمی ہوئے ہیں۔ پیپلز پارٹی ان خاندانوں کے دکھوں میں شریک ہے ۔ ہم نے سانحہ کے روزہسپتالوں کا دورہ کیا نہ ہی اپنے کسی لیڈر کو اجازت دی تاکہ زیر علاج افراد کے علاج میں ہماری وجہ سے پریشانی نہ ہو۔ انہوں نے کہاکہ ملک بھر میں پولیس اور دیگر اداروں کے جوانوں پر خودکش حملے ہوئے ۔ حکمران لاہور کوسیف سٹی قراردیتے ہیں ، یہاں کیمرے لگائے گئے ہیں، کئی طرح کی فورسز بنائی گئی ہیں بلاشبہ فورسز نے اپنے حصے کا کام بھرپور کیا ہے آپریشن کرکے دہشت گردوں کو مارا ہے۔ حساس اداروں نے زبردست کام کیا ہے مگر پھربھی فیروز پور روڈجیسے واقعات ہورہے ہیں کیونکہ لاہورکے اندراور باہر دہشت گردوں کے سلیپر سیل اور انکے سہولت کار موجود ہیں مگر حکمران اس بات کو ماننے کو تیار نہیں حالانکہ لیگی وزراء ایک دوسرے پر دہشت گرد تنظیموں سے روابط کا الزام لگارہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ لاہور میں دہشت گردی کے واقعات میں اب تک تین سو کے قریب پولیس اہل کار اور افسران شہید اور زخمی ہو چکے ہیں ہم بار بار کہہ رہے ہیں کہ فورسز تو ایمانداری سے کام کررہی ہیں لیکن حکومت اس کو سنجیدگی سے نہیں لے رہی۔ حکمرانوں کے ارادے دہشت گردوں سے لڑنے کے نظرنہیںآتے ، یہ سانحے کے بعد تقاریر کرلیتے ہیں مگر انکی فکری اور عملی صفوں میں انتہاپسندانہ سوچ کوٹ کوٹ کربھری ہے۔ حکومت فورسز کو بلاامتیاز آپریشن کی اجازت کیوں نہیں دے رہی کہ دہشت گردوں کے ٹھکانے ختم ہوں اور ان کا سرکچلا جاسکے ، پیپلز پارٹی ان حکمرانوں کی اس سوچ کیخلاف ہے ۔ حکمران دعوے تو کرتے ہیں لیکن دہشت گردوں کا قلع قمع نہیں کرتے کیونکہ ابھی تو ان کی جان پانامہ اور اقامہ میں پھنسی ہوئی ہے۔ قمر زمان کائرہ نے کہا کہ سپریم کورٹ کے دو جج صاحبان نے وزیراعظم نوازشریف کیخلاف فیصلہ دیا ۔ تین نے جے آئی ٹی بنادی اور پھر سپریم کورٹ نے اس جے آئی ٹی کے کام کی تعریف بھی کی۔ ہم گونواز گو اور ان کے استعفے کا مطالبہ کررہے ہیں اور یہ پوری قوم کی آواز بھی ہے ۔ ہم نے استعفے کیلئے ضلعی سطح پر پرُامن احتجاج کیا کہیں کوئی گملا، ٹہنی ٹوٹنے کا واقعہ رونما نہیں ہوا، مگر یہ حکمران جو دہشت گردوں کوکچھ نہیں کہتے انہوں نے آرڈیننس کے ذریعے سولہ ایم پی او نافذ کرکے پیپلز پارٹی کے متعدد رہنماؤں کیخلاف مقدمات درج کرادئے لیکن ہم پیپلز پارٹی والے پھانسی، جیل، کوڑے کھانے سے نہیں ڈرتے اس لئے ہم بالکل خوفزدہ نہیں ہیں لیکن اس کے ساتھ ہی میں واضح کردوں کہ ہمیں جلسے یا جلوس کیلئے کسی کی اجازت یا موڈ کی ضرورت نہیں ہے نہ ہم اس کے پابند ہیں، آپ کی ڈکیتیاں پکڑی گئی ہیں آپ پریشان ہیں۔ ہم مقدمات درج کرنے کے اس اقدام کی شدید مذمت کرتے ہیں ہم انتظامی مشینری سے بھی درخواست کرتے ہیں کہ آپ حکمرانوں کی بجائے ریاست کے ملازم بنیں اور اپنی وفاداری قانون کے ساتھ رکھیں کیونکہ اب تو رسی ان حکمرانوں کے گرد کسی گئی ہے اوریہ چند دن کے مہمان ہیں ۔ ہم آنے والے دنوں میں گو نواز گو کی تحریک کو آگے بڑھاتے جائیں گے ، پھر چےئرمین بلاول بھٹو بھی اس احتجاج میں شریک ہوں گے ، ہم ، جعلی پرچوں سے نہیں رکیں گے۔قمر زمان کائرہ نے کہا نوازشریف سٹیپ ڈاؤن کردیں وگرنہ عدالت کالر سے پکڑ کر نکالے گی ۔ آپ کی اربوں روپے کی کرپشن، کاروبار اورجائیدادیں پکڑی گئی ہیں ، عالمی سطح پر ڈکیتیاں پکڑی گئی ہیں ۔ آپ نے پانامہ والے 650لوگوں کواس لئے نہیں پکڑا کیونکہ آپ بھی ان میں شامل ہیں ۔ آپ احتساب کا شور مچاتے ہیں مگر یہ احتساب نہیں ہے بلکہ عدالتی کارروائی میں یہ چیزیں کھلی ہیں اور یہ تو ٹریلر ہے ، عدالت میں مقدمے کو احتساب نہیں کہاجاسکتا۔ قمر زمان کائرہ نے کہا کہ تمام ادارے اور وزارتیں آپ کے پاس ہیں ، کیس بھی عدالت میں چل رہا ہے آپ کہتے ہیں کہ ہمیں عدلیہ پر اعتماد ہے تو پھر یہ گھبراہٹ کیسی ہے؟ 480ارب روپے آپ نے غلط ادائیگیاں کرکے لوٹے ہیں ابھی تو پاور سیکٹر سے بہت کچھ نکلنا باقی ہے آپ ٹینڈرز میں رولز کی خلاف ورزی کرتے ہیں بیس کروڑ کا کام ایک ارب روپے کا بتاتے ہیں اور پھر خود ہی اسے کم کہہ کر بچت قرار دیدیتے ہیں۔ اپنی مرضی کی کمپنیوں کو ٹھیکے دیتے ہیں ۔ آپ کی تو ابھی بہت سی چیزیں سامنے آنیوالی ہیں ۔ انہوں نے کہاکہ حکومت دہشت گردوں کیخلاف لڑنا ہی نہیں چاہتی ۔ میں عدلیہ اور انتظامی مشینری سے کہوں گا کہ براہ کرم اپنی اداؤں پر بھی غور کریں ۔ مختلف سوالات کے جوابات دیتے ہوئے قمر زمان کائرہ نے کہاکہ اگر ہمارے کسی لیڈر کے پاس اقامہ ہے تو وہ سامنے آنا چاہئے البتہ ہماری لیڈرشپ کے پاس دبئی میں رہنے کیلئے ویزا ہے ۔ تحریک انصاف کے رہنما فواد چوہدری سے متعلق پوچھے گئے سوال کے جواب میں کہا کہ جب ٹی او آر بن رہے تھے تو فواد چوہدری یہاں نہیں تھے جہاں وہ آج ہیں ۔ انہوں نے کہاکہ ہم سمجھتے تھے کہ نواز شریف پر عدالتیں ہلکا ہاتھ رکھتی ہیں لیکن عدلیہ اورجے آئی ٹی نے ہماری توقعات سے بڑھ کر کام کیا ۔ وزیراعظم نوازشریف اور عمران خان کی نااہلی سے متعلق پوچھے گئے سوال پر انہوں نے کہاکہ ہمیں کسی کے ذریعے راستہ بنانے کا شوق نہیں ، پیپلز پارٹی اپنا راستہ خود بناتی ہے اور بلاول بھٹو کا راستہ اللہ کی ذات بنائے گی ۔ عمران خان پر بھی سنجیدہ سوالات ہیں وہ بھی مشکل میں ہیں۔ قمر زمان کائرہ نے دعویٰ کیا کہ ملک میں سیاسی دھماکے ہونیوالے ہیں کیونکہ نواز شریف نے جو کچھ کیا اپنے ہاتھوں سے کیا ، یہ نواز شریف کے کرموں کا پھل ہے۔ ویسے بھی اگرنوازشریف کے ساتھ انصاف ہو گیا تو کسی دھماکے سے کم نہیں ہو گا۔ ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ آج کل بہت سے وزیر امید سے ہیں دیکھیں کسی کی جھولی بھرتی ہے۔

مزید : صفحہ آخر