میٹرک امتحانات ، مزدوروں محنت کشوں اور ڈرائیوروں کے بچوں نے میدان مار لیا

میٹرک امتحانات ، مزدوروں محنت کشوں اور ڈرائیوروں کے بچوں نے میدان مار لیا

لاہور(حافظ عمران انور) علم کسی کی میراث نہیں ۔ ہزاروں روپے دے کر گھروں میں ہوم ٹیوشن پڑھنے والے اور پرائیویٹ سکولوں اور اکیڈمیوں میں بھاری فیسیں دے کر تعلیم حاصل کرنے والے امراء کے بچے اس بار بھی میٹرک امتحانات میں کوئی نمایاں پوزیشنز حاصل کرنے میں ناکام رہے جبکہ انتہائی کٹھن اور نامساعد حالات سے دوچار غریب گھرانوں سے تعلق رکھنے والے ہونہار بچوں نے بورڈ میں ٹاپ پوزیشنز حاصل کر کے میدان مار لیا۔ رواں سال میٹرک امتحانات میں نمایاں پوزیشنز حاصل کرنے والے بچوں کی اکثریت کا تعلق امراء کے بچوں کی بجائے انتہائی غریب اور سفید پوش گھرانوں سے ہے ۔میٹرک سائنس گروپ میں 1087نمبر لے کر بورڈ میں مجموعی طور پر ٹاپ کرنے والے عمیر طارق کرا ئے کے گھر میں رہتے ہیں اور ان کے والد ریلوے میں معمولی تنخواہ لینے والے 9ویں گریڈ کے ایک محنت کش ہیں لیکن عمیر طارق نے انتہائی کٹھن حالات میں بھی صبر کا دامن نہیں چھوڑا اور بورڈ میں ٹاپ پوزیشن حاصل کر کے دنیا والوں کو بتا دیا کہ صرف محنت اور لگن سے اپنی منزل کو حاصل کیا جا سکتا ہے ۔عمیر طارق نے بتایا کہ کہ نویں جماعت میں ان کے پاس سکول اور ٹیوشن کی بھاری فیسیں دینے کے لئے پیسے نہیں تھے اور انہوں نے وہ دور انتہا ئی مشکلات میں گزارا لیکن انہوں نے ہمت نہیں ہاری ۔ عمیر طارق سی ایس ایس کرنا چاہتے ہیں اور انہوں نے حکومت سے اپیل کی ہے کہ تعلیم جاری رکھنے میں ان سے تعاون کرے ۔اسی طرح میٹرک آرٹس گروپ بوائز میں 1020نمبر حاصل کر کے پہلی پوزیشن حاصل کرنے والے شیخوپورہ کے اسامہ اکرام کے والد اس دنیا میں نہیں اور گھر میں کوئی کمانے والا بھی نہیں لیکن اسامہ اکرام نے ہمت نہیں ہاری اوربورڈ میں فرسٹ پوزیشن حاصل کر کے اپنے والد کی خواہش کو پورا کرنے کے ساتھ ساتھ مشکل حالات میں علم کی ڈور کو تھامے رکھا اور اپنی منزل کو پا لیا روزنامہ پاکستان سے گفتگو کرتے ہوئے قوم کے اس ہونہار سپوت نے کہا کہ حالات جیسے بھی ہوں انسان کو ہمت نہیں ہارنی چاہئے ۔ایک اور ذہین طالب علم محمد افضل جن کا تعلق قصور سے ہے کہ والد ایک رکشہ ڈرائیور ہیں ۔آنکھوں میں اچھے دنوں کے خواب سجائے ان کے والد کی شدید خواہش تھی کہ ان کا بیٹا افضل تعلیمی میدان میں ان کا نام روشن کرے اور سلام ہے اسامہ جیسے ہونہار طالب علم کے کہ جس نے اپنے والد محترم کی خواہش کو عملی جامہ پہنا کر ان کے خوابوں کو سچ کر دکھایا۔میٹرک امتحانات میں ٹاپ پوزیشنز حاصل کرنے والوں میں ہماری قوم کی بیٹیاں بھی کسی سے کم نہیں ہیں ۔مائرہ ظفر جنہوں نے 1083نمبر حاصل کر کے بورڈ میں سائنس گروپ( گرلز) میں دوسری پوزیشن حاصل کی ان کے والد پتوکی میں ایک نرسری فارم میں محنت مزدوری کر کے اپنے اور اپنے بچوں کا پیٹ پالتے ہیں ۔مائرہ ظفر نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اپنی منزل کو حاصل کرنے میں غربت کو کبھی آڑے نہیں آنے دیا مشکل حالات میں بھی صرف اپنی منزل کو سامنے رکھا اور آج کامیابی حاصل کی۔مائرہ ظفر مستقبل میں سی ایس ایس کر کے سول سروس میں اپنا مقام بنانا چاہتی ہیں ۔ حافظہ خدیجہ مطاہر جنہوں نے 1082نمبر حاصل کر کے اپنے والدین کا سر فخر سے بلند کیا ۔ قوم کی اس ہونہار بیٹی نے بورڈ میں سائنس گروپ (گرلز ) میں دوسری پوزیشن حاصل کی ان کے والد ڈی سی آفس میں گریڈ 11کے کلرک ہیں حافظہ خدیجہ نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ روزانہ کی بنیاد پر لگن کے ساتھ صرف اپنی تعلیم پر توجہ دینی چاہئے اور موبائل کے بے جا استعمال سے گریز کرنا چاہئے ۔ قوم کی ایک اور ہونہار بیٹی لاریب انمول جنہوں سائنس گروپ (گرلز) میں 1082نمبر حاصل کر کئے ان کے والد ائیر فورس کے ریٹائرڈ ملازم ہیں ۔

پوزیشن ہولڈر

مزید : صفحہ اول