ینگ ڈاکٹرز کا ہسپتال کی نجکاری کیخلاف اور مطالبات کے حق میں احتجاجی مظاہرہ

ینگ ڈاکٹرز کا ہسپتال کی نجکاری کیخلاف اور مطالبات کے حق میں احتجاجی مظاہرہ

ملتان(وقائع نگار)ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن ریفارمرز نے مطالبات کے حق میں نشتر ہسپتال کے مین گیٹ پر احتجاجی مظاہرہ کیا،شرکاء نے کہا ہے کہ سرکاری ہسپتالوں کی نجکاری روکی جائے ڈاکٹروں کو دوران ڈیوٹی تحفظ فراہم کیا جائے سنٹرل انڈکشن پالیسی ختم کی جائے صوبہ پنجاب ،صوبہ پنجاب (بقیہ نمبر45صفحہ12پر )

بالخصوص ملتان میں نشتر ہسپتال جیسا ایک اور بڑا ہسپتال بنایا جائے۔نشتر ہسپتال میں1700بستروں کے مطابق پی جی آر کی سیٹیں،ڈاکٹروں و سٹاف کی تعداد بڑھائی جائے،چلڈرن کمپلیکس،نشتر انسٹی ٹیوٹ آف ڈینٹسٹری کے بغیر مشاہرہ ملازمت کرنے والے پی جی آرز کو مشاہرہ دیا جائے۔ڈسٹرکٹ جیل کی اراضی نشتر ہسپتال کو دی جائے۔نشتر ہسپتال میں ڈاکٹروں کیلئے رہائشی ٹاور اور تشخیصی سنٹر بنایا جائے۔میو ہسپتال لاہور کی طرز پر نشتر ہسپتال میں سرجیکل ٹاور بنایا جائے۔نشتر میں ڈاکٹروں کی خالی اسامیوں پر بھرتی کی جائے۔نشتر ہسپتال میں زہر خورانی کے مریضوں کیلئے الگ الگ بستر مختص کئے جائیں۔نشتر ہسپتال کے تمام آپریشن تھیٹرز کی اپ گریڈیشن،آپریشن ٹیبلز کی تعداد بڑھائی جائے۔ڈاکٹروں کے ہاسٹل میں واٹرکولر لگائے جائیں۔ہاسٹل میس اور کینٹین کو پرافٹ نوارس کی بنیاد پر چلائی جائے۔نشتر ہسپتال کی بجلی وائرنگ کو اپ گریڈ کیا جائے۔نشتر میڈیکل یونیورسٹی کے شعبہ فورنزک اور پتھالوجی کے ایف سی پی ایس ٹریننگ منظوری کی جائے۔تمام وارڈز میں چلرز پلانٹس لگائے جائیں،خوبصورتی اور صفائی کیلئے کمیٹی قائم کی جائے۔احتجاجی مظاہرہ میں ڈاکٹر آصف حسین،ڈاکٹر میاں عدنان ودیگر شریک ہوئے مطالبات کے حق میں نعرے بازی بھی کی ہے۔ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن ملتان نے ڈائریکٹر سٹوڈنٹ افیئرز اور شعبہ امراض کینسر کے سربراہ پروفیسر ڈاکٹر احمد اعجاز مسعود کے خلاف بے قاعدگیوں اور کرپشن کے الزامات عائد کئے ہیں اور درخواست سیکرٹری سپشلائزڈ ہیلتھ کیئر اینڈ میڈیکل ایجوکیشن پنجاب کو کارروائی کیلئے بھجوادی ہے جس میں الزامات کی غیرجانبدارانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے وائی ڈی اے ملتان کے چیئرمین ڈاکٹر حسن چاون،صدر ڈاکٹر فیصل عزیز،ڈاکٹر علی رضا،ڈاکٹر خضر،ڈاکٹر فاران،ڈاکٹر عتیق،ڈاکٹر اعجاز،ڈاکٹر اشفاق صدیقی،ڈاکٹر اجمل بزدار،ڈاکٹر سہیل،ڈاکٹر زاہد،ڈاکٹر کبیر،ڈاکٹر ضیاء،داکٹر سرمد،ڈاکٹر کلیم اللہ،ڈاکٹر عالمگیر،ڈاکٹر وسیم جان نے ڈاکٹر احمد اعجاز مسعود کے خلاف بھیجی گئی درخواست میں الزام عائد کئے گئے ہیں کہ حکومت پنجاب کینسر کے مریضوں کے مفت علاج کیلئے لاکھوں روپے فنڈز دیتی ہے جس کے سربراہ پروفیسر ڈاکٹر احمد اعجاز مسعود ہیں مگر وہ مریضوں کے مفت علاج کی بجائے ان کا پرائیویٹ کلینک پر فیس لیکر علاج کرتے ہیں وہ کینسر سوسائٹی ملتان کے صدر ہیں جو لاکھوں روپے فنڈز مہیا کرتا ہے مگر اس کا آڈٹ نہیں کیا گیا ہے۔وہ ہرسال فارماسوٹیکل کمپنیوں کے اخراجات2سے3غیرملکی دورے کرتے ہیں جسکی وجہ بیرون ملک رخصت بھی نہیں لیتے ہیں۔کمیوتھراپی کی تمام کمپنیوں کے وہ کاروباری پارٹنر ہیں یونیورسٹی کے4سے5ملازم ان کے گھر پر24گھنٹے ڈیوٹی دیتے ہیں گزشتہ دو سالوں میں پروفیسر احمد اعجاز مسعود کی جانب سے ہاؤس آفیسرز اور پوسٹ گریجوایٹ رجسٹرار کی تعیناتی کے تحقیقات بھی ہونی چاہیے۔325بمعہ مشاہرہ سیٹوں کا آڈٹ کیا جائے۔وہ ریڈیو تھراپی کے پروفیسر ہیں مگر شعبہ امراض کینسر کے سربراہ بنا دئیے گئے ہیں جو قواعد کی خلاف ورزی ہے۔ انہوں نے ریفارمز کے احتجاج میں شرکت کیلئے ڈاکٹرز کو زبردستی بھیجا اور اب وہ وائس چانسلر کے امیدوار ہیں جبکہ یونیورسٹی انتظامیہ کے مطابق پروفیسر احمد اعجاز کے خلاف صرف الزامات ہیں اگر وائی ڈی اے نے سیکرٹری صحت کو درخواست دی ہے تو فیصلہ کریں گے کہ انکوائری کی جائے یا نہیں۔

مزید : ملتان صفحہ آخر