2خواتین قتل، نہر میں ڈوب کر 2نوجوان جاں بحق

2خواتین قتل، نہر میں ڈوب کر 2نوجوان جاں بحق

خانیوال،قادر پور راں،محسن وال،ٹھٹھہ صادق آباد،اڈا پل 14،روجھان،راجن پور،سیت پور(نمائندگان) 2 عورتوں کا قتل،دو لڑکے نہر میں گر کر جاں بحق،گھریلو جھگڑے پر20سالہ نوجوان نے خودکشی کرلی خانیوال،قادر پور راں سے بیورو نیوز،نمائندہ پاکستان کے مطابق پل رانگو کا رہائشی 12سالہ سرفراز ولد عمر سائیکل چلا کر مدرسے جارہا تھا راستے مین پل رانگو کے قریب پل سے گزرنے لگا کہ اچانک ٹوٹی ہوئی پل سے گر کر نہر میں جاگرا۔لوگوں نے نعش کو بہت ڈھونڈا مگر وہ نہ ملی آخرکار ریسکیو1122کے عملہ نے مسلسل تلاش جاری رکھتے ہوئے6گھنٹے بعد نعش کو تلاش کرلیا نعش ملتے ہی والدین پر غشی کے دورے اور گھر میں کہرام برپا ہوگیا12سالہ سرفراز کو اسکے سگے ماموں غلام شبیر نے گودلیا ہوا تھا ۔محسن وال سے نمائندہ پاکستان کے مطابق میاں چنوں کے علاقہ محلہ رحمانیہ میں 20سالہ سہیل ولد ارشاد نے گھریلو جھگڑے پر زہریلی گولیاں کھاکر خودکشی کرلی۔اڈا پل14سے نمائندہ پاکستان،نامہ نگار کے مطابق ٹھٹھہ صادق آبادکے نواحی چک نمبر139دس آر (جدید) کے رہائشی ٹھٹھہ صادق آباد کے موٹر سائیکل مکینک محمد عباس ولد محمد شوکت قوم مغل کی بیوی آصفہ بی بی کو رحیم یار خان کا رہائشی محمد شہباز ولد گلزار احمد قوم جٹ ایک ماہ قبل اغواء کرکے رحیم یار خان لے گیا،جہاں مغویہ عورت آصفہ بی بی کو بر آمد کرنے کے بعد دارالمان رحیم یار خان بھجوادیا گیا،جہاں آصفہ بی بی کا خاوند محمد عباس اس کو اپنے گھر چک نمبر139دس آر لے آیا،گزشتہ روز ودپہر کے وقت ملزم شہبازاپنے بھائی محمد شہزاد سمیت تین نامعلوم مسلح افراد کے ہمراہ چک نمبر139دس آر محمد عباس کے گھرگھس گیا اور بر آمد شدہ مغویہ آصفہ بی بی کو دوبارہ اغواء کرنے کی کوشش کی،بچوں کے شور واویلہ پر عباس کا چچا زاد کزن عبدالمجید ولد محمد حنیف بھی آگیا،اسی دوران مسلح افراد شہباز،شہزاد تین نامعلوم افراد نے اندھا دھندفائرنگ کردی جس کے نتیجہ میں سینے پیٹ میں گولیاں لگنے سے پانچ بچوں کی ماں آصفہ بی بی موقع پر ہی جاں بحق ہوگئی،جبکہ ٹانگوں میں گولیاں لگنے سے کزن عبدالمجید شدید زخمی ہوگیا،ملزمان فائرنگ کرتے ہوئے موٹر سائیکلوں پر فرار ہوگئے،اطلاع ملنے پر ایس ایچ اوتھانہ ٹھٹھہ صادق آباد چوہدری غلام مصطفی سنگھیڑا،انچار ج ہیومی سائیڈ سیل جہانیاں فلک شیر ،اے ایس آئی شوکت علی،اے ایس آئی مقصو د پولیس نفری کے ہمراہ موقع پر پہنچ گئے،پولیس کی طرف سے مقتولہ آصفہ بی بی کی لاش کو قبضہ میں لیتے ہوئے پوسٹ مارٹم کیلئے ٹی ایچ کیو ہسپتا ل جہانیاں منتقل کردیا ،جبکہ زخمی عبدالمجید کو رورل ہیلتھ سنٹر ہسپتال ٹھٹھہ صادق آباد داخل کروادیا گیا،جہاں اس کی حالت خطرے سے باہرہے،پولیس،ہیومی سائیڈ سیل کی طرف سے موقع پر بیانات قلمبند کیے۔راجن پور،روجھان سے نمائندہ پاکستان،ڈسٹرکٹ رپورٹر کے مطابق قادرہ کینال نہر میں ڈوبنے والے نوجوان کو نہر سے نکال لیا نوجوان عثمان درکھان سوموار کی صبح گیارہ بجے قادرہ کینال میں دوستوں کے ہمراہ ساون کے موسم کالطف اٹھانے آیا تھا کہ نہاتے ہوئے قادرہ کینال نہر کے گہرئے پانی میں چلا گیا عثمان کی لاش کی تلاش کے لیے ریسکیو ون ون ٹو ٹو کے انچارج ملک اعجاز احمد کی نگرانی میں سرچ آپریشن جاری کیا جو سارادن اور منگل کی صبح تک جاری رہا ریسکیو ون ون ٹو ٹو ٹیم کے بھر پور کو شیش سے عثمان کی لاش منگل کی صبح قادرہ کینال سے نکالنے میں کامیاب ہوگئے۔سیت پور سے نمائندہ پاکستان کے مطابق تھانہ سیت پور کے علاقہ بستی پیرو شاہی کی رہائشی جمال مائی نے پولیس کو بیان دیا کہ 4سال قبل میری بیٹی تسلیم مائی کی شادی بستی محمود کے رہائشی حضور بخش سے ہوئی ،داماد حضور بخش نے پہلے بھی مسماۃ حنیفہ مائی سے شادی کی ہوئی تھی ،گزشتہ روز 12بجے مجھے اطلاع ملی کہ بیٹی تسلیم مائی کی طبیعت خراب ہے اور وہ رورل ہیلتھ سنٹر سیت پور میں موجود ہے ،اطلاع پاکر میں گواہان غلام فرید اور غلام اکبر کے ہمراہ رورل ہیلتھ سنٹر سیت پور پہنچی تو بیٹی تسلیم مائی نے مجھے بتایا کہ اس کے شوہر حضور اور سسر غلام نبی نے اسے پیپسی کی بوتل میں کالا پتھر ڈال کر پلایا ہے کیونکہ حضور بخش اپنی پہلی بیوی حنیفہ مائی کو منا کر لانا چاہتا تھا، ڈاکٹرز نے تشویشناک حالت کے پیش نظر اسے نشتر ہسپتال ملتان ریفر کر دیا جہاں7گھنٹے تک زندگی موت کی کشمکش میں رہنے کے بعد تسلیم مائی شام 7بجے نشتر ہسپتال ملتان میں دم توڑ گئی ،اطلاع ملتے ہی پولیس تھانہ سیت پور نے مقتولہ تسلیم مائی کی لاش کو قبضہ میں لے کر پوسٹمارٹم کے لئے رورل ہیلتھ سنٹر سیت پور بھجوایا جہاں لیڈی ڈاکٹر ز نہ ہونے کی وجہ سے مقتولہ کی لا ش کو پوسٹمارٹم کے لئے تحصیل ہیڈکوارٹر ہسپتال علی پور بھجوادیا گیا ،پولیس تھانہ سیت پور نے مقتولہ کی ماں جمال مائی کی مدعیت میں ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کرکے تفتیش شروع کر دی ہے ۔

مزید : ملتان صفحہ آخر