قومی مالیاتی کمیشن کے تحت صوبائی معاملات کے حل تک چین سے نہیں بیٹھیں گے :مظفر سید

قومی مالیاتی کمیشن کے تحت صوبائی معاملات کے حل تک چین سے نہیں بیٹھیں گے :مظفر ...

پشاور( سٹاف رپورٹر )خیبر پختونخوا کے وزیر خزانہ مظفر سید ایڈوکیٹ نے کہاہے کہ وفاقی حکومت نیشنل فنانس کمیشنNFCکے انعقاد میں تاخیر کرکے آئین شکنی اور وعدہ شکنی سے کام لے رہی ہے جبکہ خیبر پختونخواحکومت اپنے صوبے کے حقوق اور بقایا جات کے حصول کیلئے جدو جہد تیز کر رہی ہے۔ تا کہ صوبے میں جاری ترقیاتی منصوبے اور عوام کو حقوق کی فراہمی یقینی بنائی جاسکے۔ اسلئے مرکزی حکومت صوبائی حقوق کی فراہمی میں سنجیدگی دکھا کر اپنا آئینی فریضہ پورا کرے اور مختلف حیلے بہانے سے کام لینا چھوڑ دیں ۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے منگل کے روز پشاور میں قومی مالیاتی کمیشن NFC کے حوالے سے منعقدہ ایک اعلیٰ سطح اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔اجلاس میں قومی مالیاتی کمیشن کے ممبران پروفیسر محمد ابراہیم ، اشتیاق خان ، سیکرٹری خزانہ شکیل قادر ، سپیشل سیکرٹری خزانہ محمد ادریس مروت اور دیگر متعلقہ حکام نے شرکت کی ۔اس موقع پر وفاقی حکومت کے ساتھ صوبائی معاملات پر تفصیلی گفتگو کی گئی جسمیں ممبران اور متعلقہ صوبائی حکام کیطرف سے مختلف تجاویز ، آراء کی روشنی میں قومی مالیاتی کمیشن کے اجلاسوں کا باقاعدہ انعقاد اور صوبائی حقوق کے حصول کیلئے مرکزی حکومت کے سامنے اپنے جائز مطالبات منوانے کیلئے لائحہ عمل طے کیا گیا۔وزیر خزانہ نے اجلاس کے شرکاء کو یقین دہانی کراتے ہوئے کہا کہ قومی مالیاتی کمیشن کے تحت صوبائی معاملات کے حل تک چین سے نہیں بیٹھیں گے اس مقصد کیلئے صوبائی حکومت کے مرکزی سطح پر سنیٹ اور قومی اسمبلی ممبران سمیت ہر فورم پرقومی مالیاتی کمیشن کی انعقاد کے سلسلے میں تاخیری خربے اور آئینی خلاف ورزیوں کے خلاف آواز اٹھائی جا ئے گی۔ انہوں نے مذید کہا کہ صوبہ خیبر پختونخوا بہت جلد باقی چاروں صوبوں کے ساتھ مشاورت کا سلسلہ شروع کر رہا ہے ۔جس میں چاروں صوبوں کے جائز مطالبات مرکزی حکومت پر منوانے کیلئے صلاح مشورے کئے جائینگے ۔ تا کہ صوبہ خیبر پختونخوا سمیت باقی محروم صوبوں کے حقوق کی آواز اتفاق رائے سے اٹھا کر مرکزی حکومت کے سامنے اپنے مطالبات منوائے جائیں ۔ ان کا کہنا تھا کہ قومی مالیاتی کمیشن کے انعقاد اور صوبے کے جائز حقوق کے حصول کیلئے کوئی کسر نہیں چھوڑی جائے گی اور مرکزی حکومت کی نا انصافیوں کو کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا۔

 

مزید : کراچی صفحہ اول