امسال بھی یوم شہداء پولیس کو شایان شان طریقے سے منایا جائیگا،محکمہ پولیس

امسال بھی یوم شہداء پولیس کو شایان شان طریقے سے منایا جائیگا،محکمہ پولیس

پشاور( کرائمز رپورٹر ) انسپکٹر جنرل آف پولیس خیبر پختونخوا صلاح الدین خان محسود نے 4اگست کو یوم شہدا پولیس کے طور پر منانے کے لیے تمام پروگراموں کی ختمی منظوری دے دی ہے۔ یوم شہداء پولیس کے تقریبات کے مختلف انتظامی اُمور کے لیے مرکزی کمیٹی کا اجلاس آج سنٹرل پولیس آفس پشاور میں زیرصدارت آئی جی پی صلاح الدین خان محسو د منعقد ہوا۔ اجلاس میں فوکل پرسن برائے یوم شہداء پولیس ایڈیشنل آئی جی پی ہیڈ کوارٹرز محمداشرف نور، ایڈیشنل آئی جی پی انوسٹی گیشن ڈاکٹر اشتیاق مروت، چیف کیپٹل سٹی پولیس محمدطاہرخان، کمانڈنٹ ایف آر پی ڈاکٹرمسعودسلیم، ڈی آئی جی انوسٹی گیشن ہیڈ کوارٹرز شہزاد اسلم صدیقی، ڈی آئی جی ہیڈکوارٹرز محمد علی گنڈاپور، کمانڈنٹ پی ٹی سی ہنگو فصیح الدین، ڈی آئی جی فنانس سلیم مروت ، اے آئی جی اسٹبلشمنٹ محمدعارف خان، ایس ایس پی کوارڈنیشن پشاور قاسم خان اور اے آئی جی لیگل فلک نواز خان نے شرکت کی۔ اجلاس میں ذیلی کمیٹیوں کے قیام کا فیصلہ بھی کیا گیا۔اس سال یوم شہدائے پولیس کی تقریبات کا آغاز 31جولائی سے ہو جائے گا۔ پشاور سمیت تمام ریجنل اور ضلعی ہیڈکوارٹرز میں تقریبات کا اہتمام کیا جائے گا۔ یوم شہدا پولیس کے حوالے سے ہر ریجن کی سطح پر تقاریب منعقد ہونگے۔ جن میں متعلقہ ریجن کے شہداء کے ورثاء کو مدعو کیا جائیگا۔ پشاور شہر اور تمام ضلعی ہیڈ کوارٹرز کے شہروں میں زیادہ سے زیادہ مقامات پر شہدا کیمپ لگائے جائیں گے۔ جہاں شہدا کی تصاویر کے پورٹریٹ آویزاں کئے جائیں گے۔ میزاور کرسی کا اہتمام کرکے تاثرات بُک رکھی جائے گی۔ شہداء کیمپ کا دورہ کرنے والی شخصیات اور عوام میں شہداء پولیس کے بارے میں بروشرزتقسیم کئے جائیں گے۔ علاقے کی نمایاں شخصیات اور تعلیمی/کاروباری/صنعتی اداروں اور این جی اوز کے وفود کو کیمپ کے دورے کی دعوت دی جائے گی۔ اور ان دوروں کے میڈیا کوریج کا اہتمام کیا جائے گا۔ تمام کیمپوں کی سیکیورٹی اور حفاظت کا معقول بندوبست کیا جائے گا۔ شہدا کے بارے میں دستیاب ڈاکومینٹری/ویڈیو/فلم /ترانے وغیرہ کا بھی کیمپ میں اہتمام کیا جائے گا۔ اسی طرح شہر کے اہم مقامات پر بل بورڈز اور بینرزآویزاں کئے جائیں گے۔ جن پر شہدا کے نام اور تصاویر درج ہوں گی۔تقریری مقابلے 31جوالائی کے روز تمام پولیس ریکروٹ ٹرنینگ سکولوں اور پولیس کالج ہنگو میں منعقد کئے جائیں گے۔ تمام مقامات پر تقریری مقابلوں میں نمایاں پوزیشن لینے والے پولیس ملازمین کو انعامات دئیے جائیں گے جبکہ صوبے کی سطح پر سب سے بہترین مقرر کو 4اگست کو نشترہال پشاورمیں منعقد ہونے والی مرکزی تقریب میں مہمان خصوصی سپیشل انعام دیں گے۔ 31جولائی کو پولیس ٹریننگ کالج ہنگو میں شہدا کے 260 زیرتربیت بیٹے اور بھائیوں پروبیشنرافسران کو گلدستے دیئے جائیں گے۔یکم اگست کو ہر ضلع کی پولیس لائن میں بلڈ ڈونرز کیمپ لگائے جائیں گے جس میں سنےئر افسران سمیت ہر رینک کے افسران خون کا عطیہ دیں گے۔ ویلفیئر سوسائٹیز اور بلڈ ڈونرز گروپ کے ساتھ ملکر خون کے عطیات دیئے جائیں گے۔اس حوالے سے محکمہ صحت/مقامی ہسپتال /متعلقہ ادارے کے ساتھ خصوصی انتظامات کئے جائیں گے۔ یکم اگست کو کثیرالسانی مشاعرہ ریڈیو پاکستان کے آڈیٹوریم میں منعقد کیا جائے گا۔ اس کے علاوہ اضلاع کی سطح پر مقامی ادبی اور علمی سوسائیٹیز اور ادبی ٹولنہ کے ساتھ ملکر مشاعروں کا اہتمام کیا جائے گا۔ سول سوسائٹی اور تعلیمی اداروں کے ساتھ ملکر امن واک نکالے جائیں گے۔جن جن اضلاع میں / اداروں میں یادگارشہداء ہیں وہاں رات کو شمع جلائے جائیں گے اور دن کو پھولوں کے ہار اور یادگارشہداء پر پھول چڑھائے جائیں گے۔4اگست کوتمام تربیتی اداروں اور پولیس لائنز میں دن کا آغاز صبح سویرے قرآن خوانی کا اہتمام کیا جائے گا۔4اگست کی صبح شہدائے پولیس کی قبروں پر سلامی اور پھول چڑھانے کا اہتمام کیا جائے گا۔ 4اگست کو مقامی علمائے کرام یوم شہدائے پولیس کے حوالے سے اپنے خطبوں میں اسلام کے فلسفہ شہادت اور پولیس کی قربانیوں پر روشنی ڈالیں گے۔ 4اگست کی صبح ہر ضلع کے پولیس لائن میں شہدائے پولیس کی یاد میں سپیشل پریڈ کا اہتمام کیا جائے گا جس میں تمام افسران شرکت کریں گے جبکہ آر پی او/ڈی پی او خود پریڈ کا ملاحظہ کریں گے۔ 4اگست کی شام نماز مغرب کے فوراً بعد ہر ضلع میں یوم شہدائے پولیس کی تقریب کا اہتمام کیا جائے گا۔ اس سلسلے کی مرکزی تقریب نشتر ہال میں ہو گی۔ اس تقریب میں زندگی کے مختلف شعبہ جات، کاروباری حضرات، تعلیمی اداروں، انجمن ہائے تاجران، چیمبر آف کامرس، ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن ، پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن ، این جی اوز ، ادیب شاعر و کالم نگار اور دیگر پیشہ ور تنظیموں اور اداروں کے علاوہ سرکاری افسران اور پولیس ملازمین کو شرکت کی دعوت دے کر ان کی شرکت کو یقینی بنایا جائے گا۔ تقریب میں تقاریر کے علاوہ شہدائے پولیس کو مضموم خراج عقیدت بھی پیش کیا جائے گا۔ شہدا کی فیملی کو گلدستے پیش کئے جائیں گے ۔ دوران ڈیوٹی بے پناہ بہادری اور دلیری کا مظاہرہ کرنے والے غازی پولیس افسران کی خدمات کا بھی اعتراف کیا جائے گا اور انکی طرف سے بھی شہدا کو خراج عقیدت پیش کیا جائے گا۔ تقریب کے اختتام پر شرکاء کے لئے عشائیہ کا اہتمام کیا جائے گا۔ یوم شہداء پولیس کے تمام انتظامات کے لئے ضلع کی سطح پر ذمہ دار پولیس افسران پر مشتمل انتظامی کمیٹیاں بنائی جائیں گی۔ انتظامی کمیٹی اپنے چیرمین کی سطح پر روزانہ کی بنیاد پر میٹنگ کر کے انتظامات کا جائزہ لیتی رہے گی۔ یوم شہدائے پولیس کی تمام تقریبات کے الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا میں کوریج کا خصوصی اہتمام کیا جائے گا۔ قومی اور مقامی اخبارات میں 4اگست کو خصوصی ایڈیشن شائع کروائے جائیں گے جن میں شہدا کے نام، تصاویر، واقعات اور اہم شخصیات کے پیغامات بھی دئیے جائیں گے۔ اور ریڈیو پاکستان ایف ایم چینلز اور الیکٹرانک میڈیا کے چینلز خصوصی ٹاک شوز کا اہتمام کریں گے۔ جسمیں پختونخوا پولیس شہداء اور غازیوں کو خراج عقیدت پیش کی جائے گی۔یوم شہدائے پولیس کی تقریبات کے حوالے سے روزانہ کی سرگرمیوں پر مشتمل رپورٹ ہر روز سنٹرل پولیس آفس میں ڈی آئی جی ہیڈ کوارٹرز کے دفتر میں قائم شہدا ڈسک کو بجھوائی جائے گی۔ سپیشل برانچ، سی ٹی ڈی، ایف آر پی، ایلیٹ پولیس، ٹرنینگ سٹاف اور ٹریفک پولیس سمیت ہر یونٹ کے افسران اور جوان اپنی اپنی مقامی تقریبات میں شریک ہونگے۔ یوم شہدائے پولیس درحقیقت پولیس اور عوام کے درمیان تعلقات کو مضبوط کرنے اور اشتراک عمل کو بڑھانے کا ایک سنہری موقع ہے جس سے بھر پور استفادہ وقت کی ضرورت ہے۔

مزید : پشاورصفحہ آخر