پشاور میں روزانہ 30لاکھ مالیت کی 1000من مچھلی کھائی جاتی ہے

پشاور میں روزانہ 30لاکھ مالیت کی 1000من مچھلی کھائی جاتی ہے

پشاور(کرائمز رپورٹر)پشاورکے باسی روزانہ 1000 من کے قریب مچھلی پیٹ پوجاکی نذرکردیتے ہیں ،پشاورگھنٹہ گھر میں واقع12مچھلی منڈیوں کے علاوہ شہر کے دیگرعلاقوں میں بھی اس وقت چھ منڈیاں موجود ہیں اورہرمنڈی میں روزانہ60من سے زائد مچھلیاں سپلائی کی جاتی ہیں عام لوگوں کے علاوہ زیادہ ترمچھلی شہرکے مضافاتی علاقوں میں واقع چھپرہوٹلوں کوفروخت کی جاتی ہیں مچھلی منڈی کے ایسوسی ایشن کے مطابق ایک ہزارمن کے قریب مچھلی روزانہ لوگ کھاجاتے ہیں جن کی اوسط مالیت 30لاکھ روپے بنتی ہے۔ یہ مچھلیاں اندرون شہر ،سردریاب،ادینزئی اوردیگرسیاحتی مقامات کو بھی جاتی ہیں جہاں لوگ بڑے شوق سے ان مچھلیوں کوکھاتے اور گھروں کو لیکرجاتے ہیں۔پشاورشہرمیں دس اقسام کی فارمی مچھلیوں کاکاروبار ہوتاہے جن میں سلور،ملہی‘ ٹراؤٹ،رہو،سنگھاڑا،مہاشیرمچھلی کی مانگ زیادہ ہے اسی طرح سمندری مچھلی فنگرفش بھی لوگوں کی پسندیدہ مچھلی ہے ۔یہاں یہ امرقابل ذکرہے کہ خیبرپختونخوا میں بیرون ممالک یعنی تھائی لینڈ،بینکاک ،سنگاپور سے بھی مچھلیاں درآمد کی جاتی ہیں پشاورگھنٹہ گھرمنڈی اور دیگر تفریحی مقامات پر اس وقت سوروپے سے لیکر پانچ سو روپے تک مچھلی فی کلوفروخت ہورہی ہیں تاہم حکومتی سطح پرچیک اینڈبیلنس نہ ہونے کی وجہ سے ہرکوئی من مانے نرخ وصول کررہاہے۔گھنٹہ گھرکے ایک دکانداراصغر کے مطابق مچھلیوں کی مانگ موسم کے لحاظ سے بڑھتی اورگھٹتی ہے پشاورمیں بیشترمچھلیاں صوبہ سندھ اورپنجاب سے روزانہ کی بنیاد پردرآمدکی جاتی ہیں اور منڈیوں میں مچھلیوں کی سپلائی کے بعد یہ مختلف علاقوں میں واقع دکانوں اور ہتھ ریڑھی پر فروخت کی جاتی ہیں ،مچھلی پشاوریوں کی پسندیدہ غذاہے انہوں نے کہاکہ فشری ڈیپارٹمنٹ ہرچارماہ بعد مچھلی منڈی سے دوہزار اوردکاندار سے ایک ہزار روپے فیس کی مدمیں وصول کرتاہے حالانکہ یہ خلاف قانون ہے ۔ڈپٹی ڈائریکٹرفشریزڈیپارٹمنٹ ارشدعزیزنے رابطہ پربتایاکہ ماہی گیری کامحکمہ صوبہ خیبرپختونخوامیں مچھلی کی پیداوار اور افزائش نسل کیلئے اپناکلیدی کرداراداکررہاہے جس کیلئے دریاؤں،ڈیموں اورتجارتی مچھلی کے فارموں سمیت پانی کے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جارہے ہیں اسکے علاوہ ماہی گیری کی ترقی کیلئے خیبرپختونخوا کے بالائی اور زمینی علاقوں میں ٹھنڈا،نیم ٹھنڈا اور گرم پانی کے وسائل بھی دستیاب ہیں ۔ انہوں نے کہاکہ صوبے میں مچھلی کھانے کی مقداریادرآمدوبرآمدکاکوئی سرکاری ڈیٹانہیں البتہ خیبر پختونخواکی آبادی کے تناسبت سے ماسوائے شیرخواربچے کے ہرشخص روزانہ دوسے ڈھائی کلومچھلی کھاتاہے آبادی کے تناسب سے اگرحساب لگایاجائے تومقدارکااندازہ لگایاجاسکتاہے ،پرائس کنٹرول کے حوالے سے انکاکہنا تھاکہ قیمتوں کا تعین کرنا ضلعی انتظامیہ کا دائرہ اختیار ہے تاہم انہوں نے منڈیوں سے سالانہ دو ہزار روپے کی وصولی کی تصدیق کی ۔

مزید : پشاورصفحہ آخر