گندھار اہند کو بورڈ کے زیراہتمام سوات میں سمپوزیم کا انعقاد

گندھار اہند کو بورڈ کے زیراہتمام سوات میں سمپوزیم کا انعقاد

پشاور(پ ر)گندھارا ہندکو بورڈ پاکستان، پشاور اور توروالی ریسرچ فورم سوات کے زیر اہتما م کوہستانی برادری کا سمپوزیم گزشتہ روزبحرین سوات میں منعقد ہوا۔جس کا مقصد وسیع تر کوہستانی شناخت کی جانب ایک قدم تھا۔ تقریب کی صدارت توروالی ریسرچ فورم کے کنوینئر انعام اﷲ نے کی جبکہ کوآرڈینیشن کے فرائض گندھارا ہندکو بورڈ کے جنرل سیکرٹری محمد ضیاء الدین نے سرانجام دئیے۔سمپوزیم میں کوہستانی زبانوں سے متعلق 38سے زائد ماہرین لسانیات کے علاوہ مختلف مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والے افراد نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔ کنوینئرانعام اﷲ کی سربراہی میں ماہرین لسانیات نے اس امر پر زور دیا کہ توروالی، گاؤری، شینا، انڈس کوہستانی، گاؤرو، چیلیسو، اشوجو، گوارباتی، دمیلی، کلکوٹی، دیر کوہستان، پالولا کا لسانی رشتہ اور تعلق کوہستانی زبان سے ہے اور کوہستانی کو نمائندہ زبان کی حیثیت حاصل ہے اور اپر کوہستان، لوئر کوہستان، دیر کوہستان، سوات کوہستان، چترال کوہستان اور ہزارہ کوہستان میں رہنے والے کوہستانی اپنے علاقائی ناموں کی شناخت کے ساتھ بنیادی طور پر کوہستانی ہیں اور کوہستانی زبان کی شناخت کی حیثیت سے فخر کرتے ہیں کہ وہ گریٹر کوہستان کا حصہ ہیں۔ سمپوزیم کا اس بات پر کُلی اتفاق ہوا کہ کوہستانیوں کی علاقائی شناخت کے ناموں سے زیادہ کوہستانی کی زیادہ اہمیت ہے، سب کوہستانی جو خیبرپختونخوا کے مختلف اضلاع میں مقیم ہیں وہ بنیادی طور پر کوہستانی ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق صوبہ خیبرپختونخوا میں کوہستانیوں کی تعداد 20لاکھ سے زائد ہے۔ علاقائی ناموں سے زیادہ کوہستانی قومی وحدت کی ضرورت ہے تاکہ علاقائی مسائل جس میں وسائل کی تقسیم، روزگار کی فراہمی، غربت کا خاتمہ وغیرہ شامل ہیں پر مربوط منصوبہ بندی کی جاسکے۔ شرکاء نے کہا کہ کوہستانی شناخت کا تقاضا ہے کہ ملک میں ہونے والی آئندہ کی مردم شماری میں کوہستانی زبان کا کالم ضرور شامل کیا جائے۔ صوبے میں موجود فرنٹیئر کانسٹیبلری میں دیگر علاقوں اور لسانی بنیادوں پر نمائندگی کا حق کوہستانیوں کو بھی دیا جائے اور آبادی کے مطابق اِن کی ملازمتوں کا تناسب مقرر کیا جائے۔ صوبے میں منعقد ہونے والے ثقافتی پروگراموں میں کوہستانی ثقافت کو بھی نمائندگی دی جائے۔ ملک میں ہونے والے علمی، ادبی مقابلوں میں کوہستانی کو بھی نمائندگی کا حق دیا جائے۔ صوبائی حکومت کے فیصلے کے مطابق کوہستانی زبان کی نصابی کتب کے چھاپنے کا انتظام کیا جائے اور اس سلسلے میں حائل رکاوٹوں کو دور کیا جائے۔ اس موقع پر ماہرین نے اس امر پر اتفاق رائے کا اظہار کیا کہ کوہستانی کا لفظ مخصوص علاقوں کے لوگوں کیلئے استعمال نہیں ہوتا بلکہ یہ ایک لسانی خطہ ہے جو کوہستان کی وادیوں سے ہوتا ہوا ہزارہ، دیر، سوات، چترال اور افغانستان کے صوبہ ہرات تک جاملتا ہے۔ جس سے کوہستانی برادری کا نسلی اور لسانی دائرہ شمالی افغانستان سے لے کر پاکستان کی ایک بہت بڑی آبادی کو اپنی شناخت دیتا ہے۔ اس موقع پر گندھارا ہندکو بورڈ کے جنرل سیکرٹری محمد ضیاء الدین نے اپنے خطاب میں کہا کہ گندھارا ہندکو بورڈ نے اپنے قیام سے لے کر اب تک مختلف کانفرنسوں اور پروگراموں کے ذریعے ناصرف ہندکو بلکہ صوبے میں بولی جانے والی تمام زبانوں وادب کے فروغ کیلئے عملی اقدامات کئے ہیں۔ گندھارا ہندکو بورڈ اور گندھارا ہندکو اکیڈمی ہندکو کے ساتھ ساتھ صوبے میں بولی جانے والی دیگر زبانوں کے ادب وعلم کے فروغ کیلئے کتابیں اور رسالے چھاپ رہی ہے۔اُنہوں نے اپنے خطاب میں کوہستانی برادری کی یکجہتی کے مؤقف کی تائید کرتے ہوئے مستقبل میں کوہستانی قومی کانفرنس کرانے کی تجویز پیش کی جسے تمام حاضرین نے اتفاقِ رائے سے منظور کیا اور اس بات کا فیصلہ ہوا کہ عنقریب کوہستانی قومی کانفرنس منعقد کی جائے گی جس کے کنوینئر انعام اﷲ ہونگے جو اپنی صوابدید کے مطابق کانفرنس کمیٹی تشکیل دیں گے۔ تقریب کے دوران ماہرین لسانیات نے اس امر کا اعادہ کیا کہ نصاب پر موجود اختلافات کو گندھارا ہندکو بورڈ کی ثالثی کے ذریعے ختم کیا جائیگا جبکہ کنوینئر انعام اﷲ نے ’’وسیع تر کوہستانی شناخت‘‘کے موقف کو ثقافتی، لسانی و سماجی پلیٹ فارم پر اُجاگر کرنے کی ضرورت اور اہمیت پر زور دیا۔ تمام مندوبین اور مقررین نے اجتماعی طور پر اس امر کا اعادہ کیا کہ کوہستانی برادری کی یکجہتی کیلئے کوہستانی قومی کانفرنس کا انعقاد ضروری ہے۔

مزید : پشاورصفحہ آخر