ملتان بینچ میں ججز تعیناتی کیلئے لاہور ہائیکورٹ بار نے ایک روز کی ڈیڈ لائن دیدی

ملتان بینچ میں ججز تعیناتی کیلئے لاہور ہائیکورٹ بار نے ایک روز کی ڈیڈ لائن ...

ملتان (خبر نگار خصوصی)ہائیکورٹ بارایسوسی ایشن ملتان نے آج ملتان بینچ میں ججزکی دوبارہ تعیناتی کرکے عدالتی امورکاآغازکرنیکی ڈیڈلائن دیتے ہوئے عدالتی کام کا آغازنہ ہونے پرآج ساڑھے10 بجے ڈسٹرکٹ بارمیں مشترکہ اجلاس طلب کرکے دمادم مست قلندرکرنے اورراجن پورسے ساہیوال تک عدالتیں بندکرنے کااعلان کیاہے۔اس ضمن میں گزشتہ روزبھی ہائیکورٹ بارمیں احتجاجی اجلاس منعقدکیاگیاجس سے خطاب کرتے ہوئے صدربار شیر زمان قریشی نے کہاہے کہ بارکے ساتھ ڈکٹیٹرشپ پراب کھلی جنگ ہوگی اگرملتان بینچ سے جج واپس بلانے ہیں توراجن پورسے ساہیوال تک سب ضلعی او ر تحصیل عدالتوں کے ججوں کو بھی واپس بلالیاجائے اورملتان بینچ میں ججز کی تعیناتی ایک روز میں واپس نہیں کی گئی توپوراسسٹم جام کردیں گے۔انھوں نے کہا کہ وہ گرفتاری اورمقدمات کی دھمکیوں سے نہیں ڈرتے ہیں ان کے خلاف صرف ایک دہشت گردی کے مقدمہ سے کچھ حاصل نہیں ہوگااگردرج کرنے ہیں تو ان کے خلاف ایک ہزارمقدمات درج کئے جائیں۔انھوں نے کہاکہ اب اگربارمیں سے کسی نے وکلاء کے کازکی مخالفت کی توہاؤس اس کے بارے میں خود فیصلہ کرے گااب کٹ جائیں گے لیکن جھکیں گے نہیں اوراپنے مقصدکوپاکردم لیں گے۔قبل ازیں خطاب کرتے ہوئے صدرڈسٹرکٹ بارایم یوسف زبیر نے کہاہے کہ صرف ایک فریق کی بات سن کریہاں سے ججزکو واپس نہیں بلاناچاہیے تھااوروکلاء کو بھی سن کرفیصلہ ہوناچاہیے تھا اب صرف ملتان بینچ بحال نہیں ہوگابلکہ علیحدہ صوبہ اورخودمختارہائیکور ٹ حاصل کریں گے۔ممبرپنجاب بارکونسل خواجہ قیصربٹ نے کہاہے کہ وکلاء کے خلاف کارروائی کرکے انھیں سیاسی کارکنوں جیسی سزائیں نہ دیں کیونکہ یہ ملک وقوم کی خاطربغیرکسی مفادکے قربانیاں دیتے آرہے ہیں اورپنجاب بارکونسل میں کسی بھی وکیل کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی جائے گی۔جنرل سیکرٹری ہائیکورٹ بارصاحبزادہ ندیم فرید نے کہا کہ ہمارے تمام مسائل کاحل صرف علیحدہ صوبہ اور خودمختارہائیکورٹ ہے اس لئے ایسی تحریک کاآغازکیاجائے جو یہ مطالبہ منظورہونے تک جاری رہے اوراس تحریک کو آنے والی کوئی باڈی بھی ختم نہیں کرسکے۔سابق صدرقمرالزماں بٹ نے کہاہے کہ وکلاء نے ہمیشہ صرف قانون کی پاسداری کی ہے اورآئین کی بالادستی ،جمہوریت اوراداروں کے استحکام کے لئے جدوجہدکی ہے لیکن ان کے ساتھ ہی ذیادتی کی جاتی ہے اس لئے اگر یہاں کے باسیوں کو انصاف نہیں دیناتوضلعی عدلیہ کے ججز کو بھی واپس بلالیاجائے۔سابق صدرسیدمحمدعلی گیلانی نے کہاکہ مذاکرات کے راستے بندنہیں کرنے چا ہیءں اورتختی توڑنے کی مذمت کرنی چاہیے۔ سابق صدرسیداطہرحسن شاہ بخاری نے کہاکہ حکمت اورتدبرسے کام لیں کیونکہ یہ باراوروسیب اتناکمزورنہیں ہے۔اس موقع پر سید ریاض الحسن گیلانی ،نشیدعارف گوندل،سید زوار حسین شاہ،شاہدبخاری ، ارشدصابرمیؤ، حافظ اللہ دتہ کاشف بوسن،وسیم خان جسکانی ،آصف رشیدسیال اوردیگر وکلاء نے خطاب کرتے ہوئے سپریم کورٹ میں غیرآئینی اقدامات پر ریفرنس اوردر خواست دائر کرنے پر زوردیاہے۔

ملتان( خبر نگار خصوصی ) لاہور ہائیکورٹ ملتان بنچ کی 36 سالہ تاریخ میں پہلی مرتبہ عدالتی امور سر انجام نہیں دئیے گئے ‘ جبکہ دائری برانچ بھی بند رہی جس کیوجہ سے سائلین کو شدید پریشانی کا سامنا کرنا پڑا واضح رہے کہ ہائیکورٹ ملتان بنچ کا قیام آج سے 36 سال قبل جنوری 1981 میں عمل میں لایا گیا ۔ پرنسپل سیٹ کے بعد ملتان بنچ سب سے بڑا بنچ ہے جہاں پر جنوبی پنجاب کے اضلاع سے سائلین داد رسی کیلئے رجوع کرتے ہیں ۔ 36 سالہ تاریخ میں پہلی مرتبہ ہائیکورٹ ملتان بنچ میں عدالتی امور سر انجام نہیں دئیے گئے اور عدالتوں کے ساتھ دائری برانچ بھی بند کر دی گئی جس کیوجہ سے دور دراز سے آئے ہوئے سائلین کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

مزید : ملتان صفحہ اول