مختلف ادبی وفلمی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔ قسط نمبر 161

مختلف ادبی وفلمی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔ قسط نمبر 161
مختلف ادبی وفلمی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔ قسط نمبر 161

  

’’مس 56‘‘ کے سیٹ پر ہم جہانگیر خان کو بھی دیکھا اور ان کی جانب مینا کا التفات بھی دیکھا۔ شوٹنگ ختم ہوئی تو ہم سعید ہارون صاحب کے دفتر میں چلے گئے۔ مینا‘ جہانگیر خان کی کار میں بیٹھ کر ان کے ساتھ رخصت ہو گئیں۔

کراچی کے صحافی دوستوں نے ہمیں بتایا کہ وہ آج کل ان دونوں کے رومانی مراسم کا چرچا ہے اور سنا ہے کہ مینا‘ شوری سے علیحدہ ہو کر جہانگیر خان کے ساتھ شادی کرنے والی ہیں۔ اس اطلاع کی تصدیق یا تردید کے لئے جہانگیر تو ہمیں دستیاب نہ ہوئے لیکن کراچی سے موصول ہونے والی خبریں اور اخباری پھلجھڑیاں اس بارے میں کافی دیر تک زیر بحث رہیں۔ پھر خبر آئی کہ مینا نے روپ کے شوری کے ساتھ واپس جانے سے انکار کر دیا ہے اور وہ ایک مایوس اور ناکام انسان کی حیثیت سے بمبئی چلے گئے ہیں۔ مینا مولانا احتشام الحق تھانوی کے پاس جا کر ہندو مذہب سے تائب ہو گئیں اور دوبارہ مذہب اسلام اختیار کیا۔ ان کا اسلامی نام خورشید جہاں رکھا گیا۔ یار لوگوں نے بتایا کہ جہانگیر خان کی خاطر ہی پاکستان میں قیام پذیر ہوئی ہیں اور ان سے شادی کرنے کے لئے ہی انہوں نے دوبارہ اسلام قبول کیا۔ اس میں تو کوئی شک نہیں کہ جہانگیر خان اور مینا کے مابین رومانوی تعلقات قائم تھے۔ شادی کے وعدے تک نوبت پہنچی تھی یا نہیں؟ یہ ان دونوں کے سوا کوئی اور نہیں جانتا۔ جہانگیر خان اس سے صاف انکار کرتے تھے۔ مینا اپنے ذاتی معاملات میں بہت خاموش اور کم گو تھیں۔ اپنے بارے میں بہت کم بات کرتی تھیں۔ ہم نے کافی وقت سیٹ پر ان کے ساتھ گزارا لیکن کبھی ان کی زبان سے کسی سابق شوہر کا شکوہ نہیں سنا۔ آخری زمانے میں جب ان کی صحت اور مالی حالات دونوں ہی خراب ہو چکے تھے اس وقت بھی انہوں نے کبھی اپنے حالات کا رونا نہیں رویا اور نہ ہی اپنی بربادی کے لئے کسی کو موردِ الزام ٹھہرایا۔ ان کے کردار کا یہ پہلو قابلِ تعریف ہے۔

مختلف ادبی وفلمی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔ قسط نمبر 160 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

روپ کے شوری بمبئی واپس جا کر بھی فلمیں بناتے رہے مگر مینا کے بغیر ان کی کوئی ایک فلم بھی کامیابی سے ہمکنار نہ ہو سکی۔ یہاں تک کہ انہوں نے اپنی ہی فلم ’’ایک تھی لڑکی‘‘ کو ایک بار پھر ’’ایک تھی ریٹا‘‘ کے نام سے رنگین سینما سکوپ میں بنایا۔ اس کی ہیروئن نوتن کی بیٹی تنوجہ تھی مگر یہ فلم بُری طرح فلاپ ہوئی۔ اس طرح روپ کے شوری بمبئی میں ناکامی اور گمنامی کے دھندلکوں میں غائب ہو گئے۔

مینا نے پاکستان میں ایک بار پھر نئے سرے سے نئی زندگی کا آغاز کیا۔ چار شادیاں اور بہت سی فلموں میں شہرت ان کے دامن میں تھیں۔ یہ اور بات کہ سرمایہ نہ تھا۔ وہ تو فلم میں کام کرنے کی غرض سے برائے نام سامان ساتھ لے کر بمبئی سے عارضی طور پر کراچی آئی تھیں اس لئے عملاً خالی ہاتھ ہی تھیں۔ گھر بار‘ روپیہ پیسہ‘ ساز و سامان۔۔۔ سبھی کچھ بمبئی میں تھا جو پھر انہیں نہ مل سکا۔

کہنے کو سب کچھ وہی تھا مگر طویل عرصے کے بعد واپس آئیں تو یہاں دنیا ہی بدل چکی تھی۔ اب وہ مسلمان تھیں لیکن عبوری دور میں انہوں نے ایک غیر مذہب کو اپنا کر زندگی بسر کی تھی۔ سب سے بڑی بات تو یہ تھی کہ جوانی بیت چکی تھی۔ اب وہ پختہ عمری کے دور میں تھیں۔ ان کا حسن و جمال اور خوبصورت پیکر قائم تھا لیکن روبہ زوال ۔۔۔جیسے کہ وہ خود بھی روبہ زوال تھیں۔

جہانگیر خان سے مینا نے شادی کی تھی یا نہیں‘ اس بارے میں کوئی نہیں جانتا لیکن یہ حقیقت ہے کہ جہانگیر خان سے علیحدگی مینا کے لئے ایک اور صدمہ تھا۔ مایوس ہو کر وہ کراچی سے لاہور چلی آئیں اور یہاں انہوں نے انور کمال پاشا کی فلم ’’سرفروش‘‘ میں اداکاری کی۔ یہ ایک کامیاب فلم تھی مگر خود مینا ڈوبتا سورج بن چکی تھیں۔ فلم ’’گل فروش‘‘ کے ہدایتکار ان کے ایک سابق شوہر ظہور راجا تھے۔ پاکستان میں انہوں نے بہت سی فلموں میں کام کیا۔ آغاز میں ہیروئن کی حیثیت سے اور بعد میں کیریکٹر ایکٹریس کی حیثیت میں۔ ان کی آخری فلم ’’بہت خوب‘‘ تھی۔ انہوں نے پانچویں شادی اداکار اسد بخاری سے کی تھی۔ اسد بخاری تو اسے تسلیم نہیں کرتے لیکن وہ دونوں کافی عرصے تک ساتھ رہے۔ اسد بخاری ان کے آخری شوہر یا محبوب تھے۔ اس کے بعد وہ عمر کے اس مرحلے میں پہنچ گئی تھیں کہ جذباتی اور رومانی رشتے استوار کرنے کا وقت گزر چکا تھا۔

مینا کو دنیا داری کبھی نہ آئی‘ نہ انہوں نے ہوشیاری اور چالاکی سیکھی۔ زندگی بھر جذباتی سہارے تلاش کرتی اور دھوکے کھاتی رہیں۔ وقت بہت بڑا استاد ہے۔ انسان کو بہت کچھ سکھا دیتا ہے لیکن اس وقت اس علم اور تجربے کے فائدہ اٹھانے کی مہلت باقی نہیں رہی تھی۔

مینا کا ایک المیہ یہ بھی تھا کہ اتنی شادیاں کرنے کے باوجود وہ بے اولاد ہی رہیں۔ اس معاملے میں بھی ان کی اور مینا کماری کی تقدیر ایک جیسی تھی۔ وہ ڈھلتی جوانی میں پاکستان آئی تھیں۔ عمر اور زندگی کا بہترین حصہ وہ گنوا چکی تھیں اور روز اوّل کی طرح تہی دست اور تہی دامن تھیں۔ نہ ان کے پاس گھر تھا نہ گھر والا۔ آمدنی کا کوئی معقول ذریعہ نہ تھا‘ جیسے جیسے عمر بڑھتی گئی فلموں میں ملنے والے کردار اور معاوضے گھٹتے گئے۔ ہم نے انہیں ان کے قیام پاکستان سے قبل کے زمانۂ عروج میں تو نہیں دیکھا مگر ان کے بارے میں سنتے اور پڑھتے رہتے تھے۔ وہ ایک بڑی فنکارہ تھیں۔ دولت میں کھیلتی تھیں۔ شہرت ان کی باندی تھی۔ لوگ ان کی خوش قسمتی پر رشک کرتے تھے مگر حقیقت کیا تھی یہ تو خود وہی جانتی تھیں اور انجام کار سامنے بھی آ گئی۔

انہیں آخری عمر میں عمرے کی سعادت بھی حاصل ہو گئی تھی۔ کراچی کے ایک صاحب ثروت شخص نے ان کے لئے سفرِ آخرت کا یہ سامان فراہم کر دیا تھا۔ آخری زمانہ بیماری اور لاچاری میں گزرا۔ پنجاب کی حکومت نے سرکاری خرچ پر ان کو علاج کی سہولت بھی فراہم کی تھی مگر اس وقت جبکہ پانی سر سے گزر چکا تھا۔ وہ کینسر کے موذی اور لاعلاج مرض میں مبتلا تھیں۔ 3ستمبر 1981ء کو لاہور میں نہایت کسمپرسی کے عالم میں انتقال ہو گیا۔ اخبارات نے چند سطریں شائع کر کے انہیں آخری کوریج دے دی۔ اس کے بعد مینا کا تذکرہ دیکھنے سننے میں نہیں آیا۔ وہ ستمبر 1926ء کو رائیونڈ میں پیدا ہوئی تھیں اور ستمبر 1981ء کو پچپن سال کی عمر میں لاہور میں انتقال کر گئیں۔ پچپن سال کوئی زیادہ عمر نہیں ہوتی مگر پے در پے صدموں‘ محرومیوں اور مایوسیوں نے مینا کو وقت سے پہلے ہی بوڑھا کر دیا تھا۔ اس میں کچھ ہاتھ تقدیر کا اور کچھ خود ان کی بے اعتدالیوں کا بھی تھا۔ چالیس سال کی عمر میں ان پر بڑھاپا برسنے لگا تھا۔

مینا کو ہم نے ایک سیدھی سادی‘ معصوم عورت پایا۔ ان میں چالاکی نام کو نہ تھی‘ جو دل میں ہوتا تھا وہی زبان پر لے آتی تھیں۔ قوت فیصلہ کا ان کے پاس نام و نشان تک نہ تھا۔ جذبات کی رو میں بہہ جاتی تھیں اور زندگی بھر کے فیصلے بنا سوچے سمجھے منٹوں میں کر ڈالتی تھیں۔ ان کی نیک دلی کی انتہایہ ہے کہ وہ ہمیشہ دوسروں کو خوشی اور آرام پہنچانے کی تگ و دو میں لگی رہیں۔ اپنے گھر والوں کے بعد انہوں نے اپنے جذباتی رشتوں کو بھی خوش و خُرّم اور خوشحال رکھنے کے لئے جدوجہد کی مگر ان کے کام کوئی بھی نہ آیا۔

ہماری لکھی ہوئی ایک فلم کی شوٹنگ کے دنوں میں انہوں نے شادی اور طلاق کے موضوع پر بھی ہم سے گفتگو کی۔ اس فلم کی کہانی میاں بیوی اور ایک بچے کے گرد گھومتی تھی۔ میاں بیوی جذبات میں آ کر طلاق کا ارادہ کر بیٹھے تھے مگر فلم کے آخر میں بچے نے انہیں پھر یکجا کر دیا۔ یہ فلم اداکارہ دیبا پروڈیوس کر رہی تھیں اور جاوید فاضل اس کے ہدایت کار تھے۔ اتفاق سے یہ فلم مکمل ہونے کے باوجود ریلیز نہ ہو سکی۔ مینا نے اس فلم میں لگائی بجھائی کرنے والی پڑوسن کا کردار ادا کیا تھا جو ہر وقت پڑوسیوں کی سن گن لیتی رہتی ہے۔ لنچ کے بعد ہم ان کے پاس بیٹھے چائے پی رہے تھے کہ انہوں نے اچانک کہا ’’آفاقی صاحب یہ آپ نے اچھا کیا کہ ہیرو ہیروئن کو طلاق سے بچا لیا اور ان کا گھر دوبارہ آباد ہو گیا۔‘‘

ہم ابھی کوئی جواب دینے بھی نہیں پائے تھے کہ انہوں نے ایک سرد آہ بھری اور کہا ’’مگر ان دونوں کے بیچ میں تو ایک بچہ بھی تھا۔ اگر بچہ گھر میں ہو تو گھر برباد ہونے سے بچ جاتے ہیں۔‘‘ یہ کہہ کر وہ خاموش ہو گئیں۔ ان کے اس ایک فقرے میں ان کی ساری زندگی کا نچوڑ موجود تھا۔ وہ ایک چارپائی پر بیٹھی ہوئی تھیں۔ ہم سامنے ایک لوہے کی کرسی پر بیٹھے چائے پی رہے تھے۔ ہم نے ان سے پوچھا

’’اس فلم کی کہانی تو آپ جانتی ہیں ۔اس کے دونوں طرح کے انجام ہو سکتے ہیں۔ میاں بیوی میں طلاق بھی ہو سکتی ہے اور انہیں صلح صفائی کے بعد دوبارہ یکجا بھی کیا جا سکتا ہے۔ پہلی صورت میں فلم کا انجام المیہ ہو گا۔ دوسری صورت میں طربیہ۔ آپ کے خیال میں اس کا انجام کیا ہونا چاہئے؟‘‘

انہوں نے کہا ’’عورتیں تو رونے دھونے والا اینڈ ہی پسند کرتی ہیں۔ یہ بات آج تک میری سمجھ میں نہیں آئی کہ ہماری عورتیں غم اور الم کو اتنا پسند کیوں کرتی ہیں۔ ان کی اپنی زندگی میں بھی خوشیوں کی کمی ہوتی ہے اور فلموں میں بھی یہ غمناک کہانیاں ہی پسند کرتی ہیں۔ اگر آپ ان دونوں میاں بیوی میں طلاق کرا دیں گے اور بچے کو بے آسرا کر دیں گے تو شاید عورتیں اس پر بہت روئیں گی۔ مگر اس انجام کو پسند بھی کریں گی۔ مگر میں نے آپ کی کہانی سے یہ اندازہ لگایا ہے کہ آپ اس کے ذریعے فلم دیکھنے والوں کو ایک پیغام دینا چاہتے ہیں۔ انہیں یہ بتانا چاہتے ہیں کہ اگر میاں بیوی چھوٹی چھوٹی باتوں کو نظرانداز نہیں کریں گے تو ان کے بیچ کا فاصلہ بڑھتا رہے گا۔ غلط فہمیاں بڑھتی رہیں گی۔ یہاں تک کہ طلاق ہو جائے گی اور اس طرح ایک گھر برباد ہو جائے گا۔ میاں اور بیوی دونوں کو ایک دوسرے کو سمجھنے کی کوشش کرنی چاہئے۔ چھوٹے چھوٹے جھگڑوں اور اختلاف کو اہمیت نہیں دینی چاہئے۔ اس طرح ایک خوشیوں سے بھرپور گھر بن سکتا ہے۔ اسلئے میرے خیال میں تو آپ اس کہانی کا ہیپی اینڈ ہی رکھیں گے تاکہ لوگوں کو ایک راستہ نظر آ جائے۔‘‘

یہ باتیں وہ عورت کر رہی تھی جس نے کبھی شادی کرنے میں دیر لگائی تھی اور نہ ہی طلاق حاصل کرنے میں تامل کیا تھا۔(جاری ہے)

مختلف ادبی وفلمی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔ قسط نمبر 162 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

(علی سفیان آفاقی ایک لیجنڈ صحافی اور کہانی نویس کی حیثیت میں منفرد شہرہ اور مقام رکھتے تھے ۔انہوں نے فلم پروڈیوسر کی حیثیت سے بھی ساٹھ سے زائد مقبول ترین فلمیں بنائیں اور کئی نئے چہروں کو ہیرو اور ہیروئن بنا کر انہیں صف اوّل میں لاکھڑا کیا۔ پاکستان کی فلمی صنعت میں ان کا احترام محض انکی قابلیت کا مرہون منت نہ تھا بلکہ وہ شرافت اور کردار کا نمونہ تھے۔انہیں اپنے عہد کے نامور ادباء اور صحافیوں کے ساتھ کام کرنے کا موقع ملا اور بہت سے قلمکار انکی تربیت سے اعلا مقام تک پہنچے ۔علی سفیان آفاقی غیر معمولی طور انتھک اور خوش مزاج انسان تھے ۔انکا حافظہ بلا کا تھا۔انہوں نے متعدد ممالک کے سفرنامے لکھ کر رپوتاژ کی انوکھی طرح ڈالی ۔آفاقی صاحب نے اپنی زندگی میں سرگزشت ڈائجسٹ میں کم و بیش پندرہ سال تک فلمی الف لیلہ کے عنوان سے عہد ساز شخصیات کی زندگی کے بھیدوں کو آشکار کیا تھا ۔اس اعتبار سے یہ دنیا کی طویل ترین ہڈ بیتی اور جگ بیتی ہے ۔اس داستان کی خوبی یہ ہے کہ اس میں کہانی سے کہانیاں جنم لیتیں اور ہمارے سامنے اُس دور کی تصویرکشی کرتی ہیں۔ روزنامہ پاکستان آن لائن انکے قلمی اثاثے کو یہاں محفوظ کرنے کی سعادت حاصل کررہا ہے)

مزید : فلمی الف لیلیٰ