جنات کے چنگل میں پھنسے خاندان کی کہانی ۔ ۔ ۔ قسط نمبر 41

جنات کے چنگل میں پھنسے خاندان کی کہانی ۔ ۔ ۔ قسط نمبر 41
جنات کے چنگل میں پھنسے خاندان کی کہانی ۔ ۔ ۔ قسط نمبر 41

  

کھانا کھانے اور بچوں کے سونے کے بعد وہ میرے پاس آگئی۔

’’فاروق! آج مما کا فون آیا تھا‘‘ اتنا کہہ کر وہ خاموش ہوگئی۔ اس کے چہرے سے کسی الجھن کااظہار ہو رہا تھا۔ میں نے بغیر بولے اس کی طرف سوالیہ نظروں سے دیکھا۔

’’وہ ہمیں کچھ دنوں کے لیے بلا رہی ہیں۔‘‘

’’کیوں خیریت ہے؟‘‘ میں چونک گیا۔

’’شرجیل اور ناعمہ میں جھگڑا ہوگیا ہے ناعمہ۔۔۔مما کے گھر آگئی ہے‘‘ اتنا کہہ کر وہ خاموش ہوگئی۔

’’صائمہ! میاں بیوی میں جھگڑے تو ہوتے ہی رہتے ہیں اور ۔۔۔‘‘

’’یہ بات نہیں‘‘ وہ میری بات کاٹ کربولی’’شرجیل ناعمہ کو طلاق دینا چاہتاہے‘‘

’’کیا۔۔۔؟‘‘ میں اٹھ کر بیٹھ گیا۔

’’کیا کہہ رہی ہو؟ ‘‘میں نے حیرت سے پوچھا اس کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔

’’اگر ناعمہ کے ہاں کوئی بچہ ہو جاتا تو شاید وہ۔۔۔‘‘ اس کی آواز بھراگئی۔

’’آخر کوئی بات تو ہوگی؟‘‘

جنات کے چنگل میں پھنسے خاندان کی کہانی ۔ ۔ ۔ قسط نمبر 40  پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

’’کوئی عورت شرجیل کے پیچھے پڑ گئی ہے پہلے تو وہ کہتا تھا میں اس سے شادی کرنا چاہتا ہوں بڑی مشکل سے ناعمہ رضا مند ہوئی تھی کہ اس عورت نے شرط لگا دی پہلی بیوی کو طلاق دو گے تو میں تم سے شادی کروں گی‘‘ وہ کوئی اچھی عورت نہیں ہے۔۔۔طوائفوں کے خاندان سے تعلق ہے اس کا‘‘ آج صائمہ مجھے حیران کیے جا رہی تھی۔ شرجیل سے میری چند بار ملاقات ہوئی تھی وہ ایک سلجھا ہوا بردبار انسان تھا۔

’’شرجیل کوکیا سوجھی یہ؟‘‘ میں حیران رہ گیا۔

’’مماکہہ رہی تھیں اس عورت نے شرجیل پر جادو کروا دیا ہے جس کی وجہ سے وہ اس کے پیچھے پاگل ہو رہا ہے‘‘

’’یہ تو واقعی پریشانی کی بات ہے، کیا شرجیل کو معلوم ہے وہ پیشہ ور عورت ہے؟‘‘

’’اس نے خود ناعمہ کو بتایا تھا دراصل یہ عورت کسی کیس کے سلسلے میں شرجیل سے ملنے آتی تھی شرجیل نے اسکی مدد کی ۔ انہی ملاقاتوں میں نہ جانے اس نے ایسا کیا کر دیا کہ شرجیل اس کے پیچھے دیوانہ ہوگیا‘‘ صائمہ نے تفصیل بتائی۔

’’مما چاہتی ہیں ہم کچھ دنوں کے لیے آجائیں ایک تو ناعمہ کوکچھ تسلی ہو جائے گی دوسرے شرجیل کو سمجھائیں کہ وہ اس حماقت سے باز رہے۔ میں چاہتی تھی آپ شرجیل کو سمجھائیں وہ آپ کی بڑی عزت کرتا ہے آپ کی بات نہیں ٹالے گا۔‘‘

’’ایسے معاملات میں انسان کی عقل کام کرنا چھوڑ دیتی ہے وہ کسی کی بات نہیں مانتا۔بہرحال میں فون پر اس سے بات کروں گا اگر مجھے کوئی مثبت جواب ملا تو چلے چلیں گے‘‘ میں نے اس کی تسلی کی خاطر کہا۔

’’اچھا‘‘ وہ بہت مایوس تھی۔ اسکے چہرے پر اداسی مجھ سے دیکھی نہ جا رہی تھی۔

’’میری جان! تم فکر نہ کرو انشاء اللہ سب ٹھیک ہوجائے گا‘‘ میں نے اسے اپنے ساتھ لپٹا لیا۔

’’پتہ نہیں شرجیل کو کیا ہوگیا ہے وہ تو ناعمہ پرجان چھڑکتا تھا‘‘صائمہ نے روتے ہوئے بتایا۔

’’یہ عورت کا چکر ہی براہوتا ہے۔ اس میں بڑے بڑے پھسل جاتے ہیں بہرحال تم فکرنہ کرو جوکچھ ہم سے ہو سکا ضرورکریں گے۔‘‘ میری تسلی سے وہ کچھ مطمئن ہو کر سوگئی۔ تھوڑی دیر بعد مجھے بھی نیند آگئی۔

نہ جانے رات کا کونسا پہر تھامیری آنکھ کھل گئی۔

’’پرتیم!‘‘ رادھا کی سرگوشی سنائی دی۔

’’تھوڑی دیر کے لیے باہر آجاؤ۔ دروجے سے باہر‘‘ اس نے عجیب بات کہی۔

’’دروازے سے باہر کیوں۔۔۔لان میں کیوں نہیں؟‘‘ میں نے ایک نظر صائمہ کی طرف دیکھ کردبی آواز میں پوچھا۔

’’باہر آؤ پھر بتاتی ہوں‘‘ اس کی آواز میں بچپنی تھی۔

’’اچھا آرہاہوں‘‘ میں نے سگریٹ کا پیکٹ دروازے سے نکالا اور دبے پاؤں خوابگاہ سے نکل آیا۔ باہر نکلنے سے پہلے میں نے اوور کوٹ پہن لیا۔ جونہی میں لان میں آیا سردی کی لہر نے مجھے کپکپانے پرمجبور کر دیا۔ گیٹ کھول کرمیں باہر نکل آیا۔ ہر طرف خاموشی اور تاریکی کی چادر پھیلی ہوئی تھی۔

’’رادھا۔۔۔‘‘ میں نے باہر آکر پکارا۔ میرا خیال تھاوہ ابھی جواب دے گی لیکن خاموشی چھائی رہی۔ کچھ دیر انتظار کرکے میں نے دوبارہ اسے پکارا۔ اس بار بھی جواب نہ دارد۔

میں حیران تھا مجھ باہر بلا کر وہ کہاں چلی گئی۔یخ بستہ ہواجسم کے آر پار ہو رہی تھی میں نے سگریٹ سلگایا اور گہرے کش لینے لگا اس سے سردی کا احساس کچھ کم ہوگیا۔ ہر شے دھند میں لپٹی ہوئی تھی۔

’’رادھا۔۔۔‘‘ میں نے اس بار ذرا بلند آواز سے پکارا۔ سڑک کے کنارے لگے درختوں سے پانی کے قطرے ٹپکنے کی آواز کے سوا کچھ نہ تھا۔ سگریٹ کو ہونٹوں میں دبا کر میں نے دونوں ہاتھ کوٹ کی جیبوں میں ٹھونس لیے۔ ایسا توکچھ بہ ہوا تھا کہ رادھا مجھے بلا کر چلی گئی ہو۔ دور سے کسی کے قدموں نے چاپ سنائی دینے لگی۔میں نے چونک کر دیکھا دھند کے باعث کچھ دکھائی نہ دے رہا تھا لیکن قدموں کی چاپ واضح ہوتی جا رہی تھی۔ میں گیٹ کی آڑ میں ہوگیا۔ تھوڑی دیر بعد کسی شخص کا دھندلا سا ہیولا نظر اایا۔ وہ سیدھا میرے گھر کی طرف چلا آرہا تھا۔ میں مزید ہٹ کربالکل گیٹ کے پیچھے کھڑا ہوگیا۔ اورجھری سے باہر جھانکنے لگا۔

آنے والا بالکل میرے گیٹ کے پاس آگیا۔ کچھ جانا پہچانا سا حلیہ تھا۔ آتے ہوئے چونکہ میں نے گیرج کی لائٹ آف کر دی تھی ۔ وہ کچھ اور قریب آیا تو اسے پہچان کر میں ششدر رہ گیا وہ کوئی اور نہیں محمد شریف تھا۔

اگر میں نے گیٹ کو بھیڑ نہ دیا ہوتا تو وہ مجھے دیکھ لیتا۔ اس کے ہاتھ میں کشکول نما برتن تھاجس سے دھواں اٹھ رہا تھا۔ ہوا کا رخ اندر کی طرف ہونے کی وجہ سے میرے نتھنوں میں لوبان کی خوشبو اور دھواں آیا۔ میں ڈر رہا تھا کہ کہیں وہ گیٹ کھول کر اندر نہ آجائے۔ حیرت مجھے اس بات پر تھی کہ آدھی رات کے وقت محمد شریف میرے گھر کے باہر کیا کر رہا ہے؟

میں مسلسل جھری سے جھانک رہا تھا اس نے آہستہ آہستہ آواز میں کچھ پڑھنا شروع کر دیا الفاظ تو سمجھ نہ آرہے تھے لیکن محسوس ہو رہا تھا جیسے وہ قرآنی آیات کا ورد کر رہا ہے۔ پڑھنے کے ساتھ وہ بائیں ہاتھ کی شہادت کی انگلی گیٹ کے مختلف حصوں پر پھیرتا جا رہا تھا۔ اس کے بعد اس نے ہاتھ میں پکڑے برتن سے کسی شے کی چٹکی بھری اور ہتھیلی پر رکھ کر اسے پھونک سے گیٹ کی طرف اڑایا۔ میں یہ دیکھ کر حیران رہ گیا۔ مٹی نما کسی شے کی چھوٹی سی چٹکی نے گیٹ کے آس پاس سارے علاقے کو اس طرح لپیٹ میں لے لیا جیسے گہرا گردو غبار چھا گیا ہو۔ اس کے ساتھ ہی لوبان کی خوشبو تیز ہوگئی۔ گرد غبار تیزی سے بڑھ رہا تھا تھوڑی دیر گیراج لان سے ہوتا ہوا برآمدے اور کمروں کی طرف بڑھنے لگا۔ میں گھبرا کر پیچھے ہٹ گیا اور آہستہ آہستہ قدموں سے چلتا ہوا برآمدے میں آگیا۔

ہر طرف اس قدر غبار چھایا ہوا تھا کہ برآمدے کے بلب کی روشنی بالکل مدہم ہوگئی۔ میں جلدی سے دروازہ کھول کر کاریڈور میں آگیا اور جھری سے جھانک کر دیکھا محمد شریف گیراج میں آچکا تھا۔ اگر میں وہیں کھڑا رہتا تو وہ یقیناًمجھے دیکھ لیتا۔ وہ مسلسل کچھ پڑھ رہا تھا۔ اس کی مدہم آواز میرے کانوں میں پہنچ رہی تھی۔ لان کے درمیان میں پہنچ کر وہ بیٹھ گیا۔ حیران کن بات یہ تھی کہ شریف کے گرد غبار قطعاً نہ تھا۔ اس کے گرد ایک ہالہ سا بناہوا تھا جیسے چاند کے گرد روشن ہالہ ہوتا ہے۔

اتنی شدید شردی کے باوجود اس نے صرف ایک چادر احرام کے طرز پر باندھ رکھی تھی۔ وہ لان کی بھگی ہوئی گھاس پر بڑے اطمینان سے آلتی پالتی مارے بیٹھا تھا۔ برتن اس نے اپنے آگے زمین پر رکھ دیا تھا جس سے اب ہلکا ہلکا دھواں اٹھ رہا تھا۔ مکان کے سامنے والا سارا حصہ دھواں نما غبار میں ڈوبا ہوا تھا۔ لوبان کی خوشبو اس قدر تیز ہوگئی تھی کہ سانس لینا دوبھر ہو رہا تھا۔ میں دروازے کی جھری سے آنکھ لگائے بغور اس کی طرف دیکھ رہا تھا۔ وہ آنکھیں بند کیے بڑے انہماک سے پڑھ رہا تھا۔ روشنی آسمان کی طرف آتی محسوس ہو رہی تھی لیکن اندر ہونے کی وجہ سے اس کا مخرج دیکھنے سے قاصر تھا۔ کھڑے کھڑے میری ٹانگیں شل ہونے لگیں لیکن تجسس مجھے وہاں رکنے پر مجبور کیے جا رہا تھا۔( جاری ہے )

جنات کے چنگل میں پھنسے خاندان کی کہانی ۔ ۔ ۔ قسط نمبر 42 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

مزید : رادھا