قتیل شفائی کی آپ بیتی۔ ۔ ۔ قسط نمبر 23

قتیل شفائی کی آپ بیتی۔ ۔ ۔ قسط نمبر 23
قتیل شفائی کی آپ بیتی۔ ۔ ۔ قسط نمبر 23

  

جو نئی چیز آتی ہے اسے ملا پہلے تو گالی دیتے ہیں لیکن بعد میں قبول کر لیتے ہیں۔ انہوں نے پہلے لاؤڈ سپیکر کو شیطان کی آواز قرار دیا۔ اب بعض جگہ تو واقعی نظر آتا ہے کہ یہ ٹھیک کہتے تھے جب لاؤڈ سپیکر کا بے جا استعمال ہوتا ہے تو اس میں شیطان ہی بولتا ہوا نظر آتا ہے۔ اس طرح بجلی آئی تو ان لوگوں نے کہا کہ نہیں مسجدوں میں سرسوں کے تیل کا چراغ جلے گا۔ چنانچہ ان میں لاعلمی اور کم عملی کی وجہ سے جو قدامت پسندی چلی ہوئی ہے اس کی وجہ سے ہر چیز کا ذکر پندرہ سو سال پہلے سے کر تے ہیں۔

فلم اور سکینڈل

ادب اور فلم میں سازشوں کا جو چکر چلتا ہے وہ بھی دلچسپی سے خالی نہیں ۔ ادب میں تو یہ چکر نسبتاً کم ہے کیونکہ اس میں پیسے کا عمل دخل نہیں ہوتا لیکن فلم میں نام کے ساتھ پیسے کا بھی مسئلہ ہوتا ہے ۔ اس لئے ایک دوسرے کو عجیب طرح سے گرانے کی کوشش کی جاتی ہے ۔جب میں فروری 47 ء میں شروع شروع میں لاہور میں آیا تو میں نے پہلی فلم ’’ادھورے خواب‘‘ کے گانے لکھے تھے ۔ میرے گانے جب ریکارڈ ہوئے تو انہوں نے لوگوں کو چونکا دیا اور پوچھ گچھ شروع ہو گئی یہ گانے کس نے لکھے ہیں۔ ایک نئے پروڈیوسر کا دفتر رائل پارک میں تھا اس کا آدمی مجھے بلانے کیلئے آیا۔ میں وہاں گیا تو خوب آؤ بھگت ہوئی اور وہ مجھے بڑے احترام سے ملے۔ اس زمانے میں شاعروں کیلئے زیادہ سے زیادہ دوسو روپے فی نغمہ معاوضہ ہوتا تھا چنانچہ ان سے بات بھی طے ہو گئی ۔ اس دوران وہاں پر مجھ سے پہلے کا اک فلمی شاعر بھی بیٹھا ہوا تھا ۔ وہ مجھے بڑے احترام سے ملا اور کہنے لگا ’’ قتیل صاحب آپ کو ملنے کی بہت تمنا تھی۔ پشاور کے ایک مشاعر ے میں آپ کو سنا تھا تو آپ سے ملنے کی خواہش تھی۔ میں کتنا خوش قسمت ہوں کہ آپ سے ملاقات ہو گئی۔ جی چاہتا ہے کہ میں آپ کی خدمت کروں۔ اس کی ایک صورت یہ بھی ہے کہ آپ فلم میں نئے نئے آئے ہیں اور میں پہلے سے ہوں۔ ادب میں تو آپ کا ماشاء اللہ بہت مقام ہے لیکن فلم میں آپ نو آموز ہیں۔ اس میں آپ کو تھوڑی سی ٹریننگ کی ضرورت ہو گی ۔میں اس کیلئے حاضر ہوں۔ جہاں بھی آپ کو ضرورت پڑے آپ مجھے سے مشورہ کر لیں،میں آپ کی رہنما ئی کروں گا‘‘

قتیل شفائی کی آپ بیتی۔ ۔ ۔ قسط نمبر 22  پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

سیدھا طریقہ تو یہ تھا کہ میں کہتا ’’ بھئی آپ کون ہوتے ہیں۔ رہنمائی کرنے والے ۔ میں فلم کو آپ سے زیادہ سمجھتا ہوں‘‘ لیکن میں بالکل شرمیلا اور شریف سا آدمی تھی۔ میں نے کہا ’’جی بالکل ٹھیک ہے ۔ میں تو فلم میں نیا آدمی ہوں۔ آپ سے ضرور مشورے کروں گا اور امید ہے کہ آپ مجھے ضروری وقت دیں گے ‘‘

جب یہ گفتگو ڈسٹری بیوٹر نے سنی تو اس کا رویہ تھوڑا سا اسی وقت بدل گیا اور کہنے لگا ’’ اچھا صاحب پھر یہ بات آگے چلائیں گے‘‘ اس کے بعد اس نے کبھی رابطہ نہیں کیا۔ اس فلم کے گانے میری بجائے اس شاعر نے لکھے کیونکہ اس نے اپنی گفتگو کے ذریعے مجھ سے اقرار کروا لیا تھا کہ وہ واقعی گانے لکھتا ہے اور میں کمزور ہوں۔

اسی طرح کا ایک اور واقعہ ہے جب میں Establish ہو چکا تھا اور میری سفارش بھی سنی جاتی تھی۔ میرے پنڈی کے دوست احمد ظفر اس زمانے میں ریڈیو کی ایک سنگرانیقہ بانوں کی طرف جذباتی جھکاؤ رکھتے تھے ۔ انہوں نے اس یقین پر کہ وہاں قتیل شفائی ہے اس کے ساتھ وعدہ کر لیا اور اسے میرے گھر پر لے کر آگئے۔ وہ اچھی گانے والی تھی اور اس وقت غالباً فلم ’’قاتل ‘ ‘ بھی بن رہی تھی۔ چنانچہ میرے کہنے پر اس فلم کا ایک گانا انیقہ بانو کے لئے چنا گیا۔ اس فلم کے پروڈیوسر پاشا صاحب تھے اور میوزک ڈائریکٹر ماسٹر عنایت حسین تھے ۔ دونوں نے اتفاق کر لیا۔ لیکن منور سلطانہ کی ایک لابی تھی اور اس فلم کے ساؤنڈ ریکارڈ سٹ اور کچھ دوسرے لوگ اس لابی سے تھے ۔ ریہرسل ہوئی ، ریکارڈنگ ہوئی اور واہ واہ ہو گئی ۔ انیقہ بانو کو ادائیگی بھی ہو گئی اور ہم نے اسے پنڈی رخصت کر دیا۔

اس زمانے میں لیبارٹری کا کام ذرا دشوار ہوتا تھا اوراس میں ایک دو دن لگ جاتے تھے۔ بعد میں پتا چلا کہ اس گانے کو اس طرح ریکارڈ کیا گیا کہ اس کی آواز دبی دبی تھی۔ میں نے پوچھا کہ صاحب کیا ہوا اس وقت تو آواز بالکل ٹھیک تھی تو ساؤنڈ ریکارڈسٹ نے کہا کہ اس کی آوازا س سے بہتر نہیں آسکتی چنانچہ وہ بیچاری کٹ گئی اور وہی گانا منور سلطانہ نے گایا جو یہ تھا۔

لے کے پیار کا پیام

سانولی سلونی شام

آگئی تو بھی آ

اس کے بعد منور سلطانہ کے ساتھ کیا ہوا۔ یہ بھی ایک الگ واقعہ ہے۔ ایک فلم ’’نوکر‘‘ بن رہی تھی جس میں ایک لوری تھی:

راج دلار ے‘ میرے اکھیوں کے تارے

فلم میں یہ گانا منور سلطانہ نے گایا تھا۔ لیکن اس فلم کے مقتدر لوگوں میں سے ایک سنگر کوثر پروین پر نظر رکھتے تھے اور چاہتے تھے کہ اسے ممنون کر کے اپنے مقاصد پورے کریں۔ ان دنوں گانے کی ڈسک الگ بنا کر تی تھی اور گانا ٹریک سے منتقل نہیں ہوتا تھا۔ چنانچہ کوثر پروین کو خوش کرنے کیلئے ڈسک کیلئے وہی گانا کوثر پروین سے ریکارڈ کروایا گیا ۔ اب منور سلطانہ بہت روئی ۔ ہم نے کہا کہ آپ انیقہ بانو والا زمانہ یاد کریں۔ کہنے لگی ’’میرا اس میں کوئی ہاتھ نہیں تھا ‘‘ میں نے کہا’’ بہر حال جو اس کے ساتھ ہو گیا تھا وہ ادھر بھی ہو گیا ہے‘‘

منور سلطانہ ویسے بہت اچھی گانے والی تھیں لیکن کتنے افسوس کی بات تھی کہ فلم میں تو منور سلطانہ کی آواز تھی لیکن ریکارڈپر کوثر پروین کی۔ تو اس طرح کی چیزیں ڈائریکٹروں کے ساتھ بھی ہو جاتی تھیں اور کسی کو بھروسہ نہیں ہوتا تھا کہ آج میں جس مقام پر بیٹھا ہوں کل وہاں ہوں گا یا نہیں۔

دراصل فلم کا میدان اغراض کا میدان ہے ۔ مجھے کسی سے غرض ہے تو میں اس کی خوشامد کر رہا ہوں۔ اسے غرض ہے تو وہ مجھ سے محبت کر رہا ہے۔ بس اغراض کا ایک چکر ہے جس میں ایک دوسرے کو وابستہ کئے ہوئے ہیں جب تک آپ سے کام ہے ‘ آپ سے تعلقات بھی ٹھیک ہیں‘ محبت بھی ٹھیک ہے اور رومانس بھی ٹھیک ہے اور جب آپ سے کام نہیں رہا تو یہ سارا سلسلہ بھی ختم ہو جاتا ہے ۔

فلم ’’گلنار ‘‘ بن رہی تھی ‘ امتیاز علی تاج اس کے ڈائریکٹر تھے‘ نور جہاں کے شوہر شوکت حسین رضوی اس فلم کے پروڈیوسر تھے‘ شوکت تھانوی اس کے رائٹر تھے جو فلم میں ایک کیریکٹر بھی کر رہے تھے۔ ماسٹر غلام حیدر میوزک ڈائریکٹر تھے‘ میں اس فلم کا شاعر تھا اور نورجہاں ہیروئن تھیں۔ شوکت رضوی صاحب بڑے نستعلیق آدمی تھے اور روایتی طور پر شعرو شاعری کا ذوق بھی رکھتے تھے ۔ ان کے ہاں شامیں بڑی رنگین ہوتی تھیں جن میں ہم لوگ بھی شامل ہوتے تھے۔ ایک دوستانہ فضا تھی اور بھائیوں جیسے تعلقات تھے۔

اب فلم میں ایک شعبہ سکینڈل کا بھی ہوتا ہے چنانچہ نور جہاں کے سلسلے میں افواہیں اڑنا شروع ہو گئیں کہ ان کے نذر صاحب (کرکٹر )سے تعلقات ہیں۔ شوکت صاحب اور ان کے آپس میں جھگڑے بھی ہونے لگے۔ نورجہاں ماسٹر جی کے پاس شکایت لے کر آتیں ۔ ان دنوں سٹوڈیوز میں ریہرسلیں ہوتی تھیں اور ایک گانے کی پانچ دس بار ریہرسل ہوتی تھی ۔ روز ہم سٹوڈیو میں بیٹھتے تھے۔ نور جہاں ریہرسل کیا کرتی تھیں جبکہ میں اور غلام حیدر ساتھ ہوتے تھے۔ نورجہاں ماسٹر صاحب سے شکایت کرتی تھیں ’’ دیکھئے شوکت صاحب مجھ پر الزام لگا رہے ہیں کہ نذر سے میرے تعلقات ہیں جبکہ وہ تو میرے بیٹوں جیسا ہے ۔ ہم بہت متاثر ہوتے تھے کہ بڑی مظلوم عورت ہے ‘‘

ماسٹر صاحب نے شوکت صاحب کو سمجھایا ’’ دیکھئے لوگوں کے کہنے میں نہ آئیے یہ معاملہ غلط ہے۔ ممکن ہے کسی نے انہیں ایک ساتھ دیکھا ہو لیکن یہ سارا سلسلہ غلط بھی ہو سکتا ہے ’’

شوکت صاحب کہنے لگے ’’ آپ ان باتوں کو چھوڑئیے ‘ میں نے اس خاتون کے ساتھ عمر گزاری ہے ‘ اس لئے میں جو کہہ رہا ہوں وہ ٹھیک ہے ‘‘ ہم سب بھی چپ ہو گئے لیکن ہمیں ان کے جھگڑے دیکھ کر افسوس ہوتا تھا۔

ایک دن پتا چلا کہ شوکت صاحب ہاتھ میں پستول پکڑے بڑے غصے میں گاڑی میں بیٹھ کر جا رہے ہیں۔ اس کے بعد پتا چلا کہ شوکت صاحب نے ایک مکان کی تنہائی میں نورجہاں اور نذر کو جا کر گھیرلیا تھا اور پستول تان لیا تھا۔ نذر صاحب نے جان بچانے کے لئے ایک کھڑکی سے چھلانگ لگا دی ۔ ان کا پاؤں اٹک گیا جس سے وہ بازو کے بل گرے اور ان کا بازو ٹوٹ گیا۔ نتیجتاً وہ کرکٹ کے کھیل سے ساری زندگی کیلئے فارغ ہو گئے۔ اب ماسٹر جی اور میں خاموشی میں ایک دوسرے سے سوال کرتے تھے ’’ یہ تو کہتی تھی کہ نذر میرے بیٹو ں جیسا ہے‘‘

اس واقعہ کے بعد نور جہاں کے شوکت صاحب کے ساتھ تعلقات خراب رہنے لگے اور پھر دونوں الگ ہو گئے۔ اب دوسرے لوگوں کو چھوڑتے ہوئے چشم دید واقعات کی طرف آتا ہوں۔(جاری ہے)

قتیل شفائی کی آپ بیتی۔ ۔ ۔ قسط نمبر 24 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

مزید : گھنگروٹوٹ گئے